بزمِ صحافت طلبۂ علاقۂ میوات مظاہر علوم (وقف)سہارن پور کے ماہ نامہ "التبلیغ" کی روداد
(قسطِ چہارم)
"مظفر حسین نمبر" (دوسرا شمارہ)
الحمدللہ سعیدی نمبر کو منظرِ عام پر آویزاں کرنے کے دو روز بعد ہی یعنی ٢/ صفر المظفر ١٤٤٧ھ۔ مطابق ٢٨/ جولائی ٢٠٢٥ء بہ روز منگل کو حضرت مفتی ناصرالدین مظاہری کے مشورے سے فقیہ الاسلام حضرت مولانا مفتی مظفر حسین نور اللہ مرقدہ سے منسوب "مظفر حسین نمبر" کا اعلان کر دیا گیا، جس میں سابقہ تمام شرائط سمیت ١٧/صفر المظفر مطابق ١٢/ اگست تک مضامین کو جمع کرنے کا مکلف بنایا گیا، چناں چہ ایک دو روز کی تاخیر کے ساتھ تقریباً ١٠/ طلبہ نے مضامین لکھے اور راقم کے سپرد کر دئے، اس مرتبہ راقم نے ہی ان کو جانچا اور پرکھا اور ان میں سے تقابل کرتے ہوئے سات مضامین کی کمپوزنگ کرائی اور الحمدللہ یہ سات مضامین تسوید وتبییض کے بعد فریم میں منظم کرا کر منظرِ عام پر آویزاں کر دۓ گۓ،
اسعد اللہ نمبر (تیسرا شمارہ)
مظفر نمبر کی منظر آوری کے چند روز بعد غالباً ١٣/ ربیع الثانی ١٤٤٧ھ۔ مطابق ٦/ اکتوبر ٢٠٢٥ء بہ روز پیر تیسرے شمارے(اسعد اللہ نمبر) کا اعلان کر دیا گیا، جس میں وہی سابقہ تمام شرائط سمیت جمعِ مضامین کی آخری تاریخ ٢٤/ ربیع الثانی مطابق ١٧/ اکتوبر بہ روز جمعہ رکھی گئی، مگر وقتِ موعود کے آ جانے پر تین چار روز کی ڈھیل دے دی گئ اور اس میں بھی الحمدللہ آٹھ طلبہ نے مضامین لکھے، جانچ اور پھر شمارہ کے لئے انتخاب کا کام اس مرتبہ بھی میں نے ہی انجام دیا، اب کی مرتبہ مضامین کی کمپوزنگ محمدی منزل میں محمد اسعد واکرم کا ہم کمرہ نو آمیز کمپیوٹر محمد مصطفیٰ(بہاری) سے کرائی، گرچہ دلکشی اور جاذب نظری میں اس درجہ کے نہیں تھے، مگر پھر بھی بہر حال قابلِ ذکر، اوسط درجہ سے قریب اور مناسب تھے، خیر ان سب مراحل سے فراغت پا کر اللہ تعالی کے فضل وکرم سے ٦/ جمادی الاولی مطابق ٢٩ / اکتوبر بہ روز بدھ کو نیا شمارہ "اسعد اللہ نمبر" سے موسوم اندرونی صدر دروازے کی زینت بن گیا۔
مظاہر علوم نمبر (چوتھا شمارہ)
الحمدللہ ثم الحمدللہ اب تک ہم ہمارے تین کامیاب اور شان دار ماہ نامے(سعیدی نمبر، مظفر حسین نمبر اور اسعد اللہ نمبر) منظرِ عام پر آ کر طلبۂ کرام کی توجہ کا مرکز بن چکے، پھر اگلے شمارے کے لیے عنوان حضرت مفتی ناصرالدین مظاہری کے حکمِ عالی پر "مظاہر علوم نمبر" تجویز ہوا، اس کے لیے بھی ١٢/ جمادی الثانی ١٤٤٧ھ۔ ٤/ نومبر ٢٠٢٥ء بہ روز منگل کو باقاعدہ اعلان نکالا گیا اور ماقبل کی طرح تمام شرائط سمیت جملہ احبابِ میوات سے اس دلکش اور وسیع وعریض موضوع پر خامہ فرسائی کی درخواست کی گئ، جس کے لۓ آخری تاریخ ٢٤/ جمادی الاولی مطابق ١٦/ نومبر بہ روز اتوار مقرر کی گئی، الحمدللہ اس مرتبہ بھی آٹھ ساتھیوں نے مظاہر علوم کی روداد، اس کی خدماتِ جلیلہ اور یہاں کی عظیم ترین شخصیات پر اپنے اپنے جداگانہ انداز اور رس گھولتی تحریروں کے ذریعہ خام فرسائی کی۔
تاخیر کی بڑی وجہ
جمعِ مضامین کے لیے أولاً تو جمادی الاولی کی ثلثِ اخیر کی کوئی تاریخ مقرر کی گئی تھی، مگر بہ چندِ وجوہ اس میں کافی تاخیر ہو گئ، اس لیۓ جمعِ مضامین میں بھی خوب ہی مہلت دی گئی، چناں چہ جس نے اخیر تک بھی مضمون جمع کیا، سب کو قافلہ کا حصہ بنا لیا گیا، تاخیر کی بڑی وجہ یہ رہی کہ گزشتہ مرتبہ حضرت مفتی ناصر الدین مظاہری صاحب نے تاکیداً کہا تھا کہ مضامین کو مجھے دکھا دیا کرو مگر مفتی صاحب جمادی الاولی کی ٢٨/٢٩ بہ مطابق نومبر کی ٢٠/٢١ تاریخ میں سفر پر چلے گئے، رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ ٨/ جمادی الثانی مطابق ٣٠/ نومبر کو واپسی ہے، مگر 30 نومبر تک بھی مفتی صاحب سفر سے واپس نہ ہو سکے، اس لیے انتظار کیا اور اس انتظار میں اضافہ ہی ہوتا گیا، پھر اس کے دو چار دن بعد میں نے چند منتخب مضامین کو کمپوز کرانے کے لیے دے دیا، یہ سوچ کر کہ اگر مفتی صاحب دو چار دن میں ا جائیں گے تو منتخب مضامین کی کچی فائل کو ہی مفتی صاحب کے لئے بہ طورِ جانچ اور نگرانی کے لئے دکھا دوں گا، مگر ہوا یہ کہ کچی فائل بھی تیار ہو گئ، جمادی الثانی کی بھی ١٦ تاریخ مطابق ٨/دسمبر ہو گئی، مگر مفتی صاحب ابھی تک سفر سے واپس تشریف نہ لا سکے، اور مستزاد یہ کہ مفتی صاحب نے رابطہ کرنے پر آنے کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی، پھر میں نے عاجز آ کر عزمِ مصمم کر لیا کہ اگر اب بھی انتظار کیا گیا تو اب بہت زیادہ تاخیر ہو جائے گی، اس لیے از خود ہی کچی فائل میں اغلاط کی تصیح کر لی اور اس سے اگلے روز ان کے پرنٹ نکلوا لی اور یوں ١٧/ جمادی الثانی مطابق ٩/ دسمبر بہ روز منگل شدید سے شدید تر اور انتظارِ طویل کے بعد ہمارا محبوب ماہ نامہ"مظاہر علوم نمبر" منظرِ عام پر آ کر صدر دروازہ کی زینت بن گیا۔
فلللہ الحمد علی ذٰلک.
محتاجِ دعا: عبد اللہ یوسف
رجب المرجب ١٤٤٧ھ۔
اوائلِ جنوری ٢٠٢٦ء۔