تدریسی میدان میں طلبہ کو فیض پہنچانے اور اپنا علم سینہ بسینہ منتقل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ استاد خود بااخلاق اور باکردار ہو۔ طلبہ صرف استاد کی زبان سے نہیں بلکہ اس کے اعمال اور حرکات و سکنات سے بھی سیکھتے ہیں۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے ایک بچہ اپنے والدین کی حرکات و سکنات کو دیکھ کر انہیں اپنی زندگی میں اپناتا ہے۔
یوں ہی طلبہ کی تربیت دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ استاد کی تربیت کیسی ہے، اور طالب علم کس قدر مہذب اور تربیت یافتہ ہے۔ ایک استاد کا کردار براہِ راست طلبہ کے اخلاق اور شخصیت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس لیے استاد کو چاہیے کہ اپنے قول و فعل میں یکسانیت پیدا کرے تاکہ وہ طلبہ کے لیے بہترین عملی نمونہ بن سکے۔
یاد رکھیں کہ علم پہنچانا نسبتاً آسان ہے، لیکن تربیت کرنا نہایت مشکل کام ہے۔ علم پہنچانے کے لیے تو چند کتابوں کا مطالعہ کر کے انہیں طلبہ کے سامنے پیش کر دینا کافی ہے، لیکن تربیت کے لیے استاد کو اپنے اخلاق و کردار کو بھی درست اور شفاف بنانا پڑتا ہے۔
چاہے وہ عربی درجات ہوں، قرآنی حلقے ہوں یا حفظ و ناظرہ کے شعبے — ہر جگہ استاد اور طالب علم کا رشتہ صرف تعلیم کا نہیں بلکہ تربیت کا بھی ہوتا ہے۔ اس لیے استاد کو چاہیے کہ اپنے رویّے، گفتار اور کردار کو طلبہ کے لیے نمونہ بنائے تاکہ ان کی علمی اور اخلاقی تربیت صحیح معنوں میں ہو سکے۔
تدریسِ رسول ﷺ میں سب سے نمایاں چیز محبت تھی۔ صحابہ کرامؓ کا عشق، محبت، ایثار اور لگن دراصل حضور ﷺ کی بے مثال شفقت اور محبت کا ردعمل تھا۔ حضور ﷺ کی محبت کا بدلہ محبت کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا۔ محبت کبھی زبردستی اور جبر سے پیدا نہیں ہوتی۔ عبادات — جیسے نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ — زبردستی بھی ممکن ہیں، لیکن محبت صرف دل کی آمادگی سے جنم لیتی ہے۔
فتحِ مکہ کے موقع پر جب سب جھک گئے تو اس کی اصل وجہ بھی حضور ﷺ کی شفقت اور محبت تھی۔ تلوار کے زور پر انہیں جھکانا ممکن نہ تھا۔ حضور ﷺ کس قدر شفیق تھے، یہ بات حضرت جابرؓ کے واقعے سے بخوبی سمجھ آتی ہے۔ حضرت جابرؓ کی شادی سے قبل آپ ﷺ نے ان سے ایک اونٹ خریدا اور اس کی قیمت بھی ادا کر دی۔ بعد میں جب رخصت کیا تو وہی اونٹ انہیں تحفے میں واپس دے دیا تاکہ ان کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ ہمیشہ مسکرا کر ملا کرتے تھے، لیکن آج بعض لوگ مسکرانے کو بھی تقویٰ کے خلاف سمجھ بیٹھے ہیں۔ حضور ﷺ نہ صرف خود محبت فرمایا کرتے تھے بلکہ صحابہ کرامؓ کو بھی اس کی تلقین کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے حضرت ابن مسعودؓ سے فرمایا کہ تمہارے پاس دور دور سے طلبہ آئیں گے، تم ان کا خیال رکھنا۔ چنانچہ حضرت ابن مسعودؓ طلبہ کا استقبال فرمایا کرتے تھے۔
محبت دراصل ردِعمل کا نام ہے، لیکن تدریس کے موجودہ نظام میں اسے وہ اہمیت نہیں دی جاتی جو دی جانی چاہیے۔
مولانا کفیل بخاریؒ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے فرمایا کہ وہ قاری رحیم بخشؒ کے شاگرد تھے۔ ایک مرتبہ شاہ صاحبؒ کی ملاقات قاری صاحبؒ سے ہوئی تو قاری صاحبؒ معافی مانگنے لگے اور فرمایا: “بیٹا! میں نے تمہیں مارا ضرور تھا مگر اس میں اصلاح کے سوا کوئی جذبہ نہ تھا۔” قاری صاحبؒ کا یہ مشہور قول ہے کہ:
“استاد کو ہاتھ اٹھانے کا کوئی حق نہیں جب تک وہ چالیس دن تک تہجد میں اٹھ کر اس بچے کی اصلاح کے لیے دعا نہ کر چکا ہو۔ مار اسی وقت جائز ہے جب اصلاح کے تمام دوسرے طریقے آزما چکے ہوں اور یہ آخری حربہ ہو۔
حضور ﷺ کی کیفیت تو یہ تھی کہ وہ کفار کے ایمان کے لیے ہاتھ اٹھا کر دعائیں کیا کرتے تھے۔ اسی لیے آیتِ مبارکہ
﴿فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ﴾
نازل ہوئی کہ آپ ﷺ غم سے اپنی جان گھلائے جا رہے ہیں۔ حضور ﷺ کو غصہ نہیں آتا تھا بلکہ غم ہوتا تھا۔
اساتذہ کو چاہیے کہ طلبہ کے لیے دعا کریں اور دعا کو آخری حل نہیں بلکہ سب سے پہلا ذریعہ بنائیں۔ مزید برآں زبان میں نرمی اور شیرینی پیدا کریں۔
ہمیں چاہیے کہ ہم ویسے ہی استاد بنیں جیسے استاد سے پڑھنا چاہتے ہیں۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا:
«لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّىٰ يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ»
“تم میں سے کوئی اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔
اللہ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
✍🏻 از: محمدریحان ضیاءالحق عفي عنہ
خادمِ تدریس، مدرسہ ریاض الجنۃ، دھولیہ (مہاراشٹر)
وخادم القرآن، مجمع عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ، لحلقات القرآن الکریم عن بُعد، بالمدینۃ المنورۃ۔