تقریبِ اجراءِ سیرتِ الرسول ﷺ ایک یادگار اور روح پرور محفل
کچھ دنوں سے گردشِ دوراں میں یہ خوشگوار خبر زیرِ سماعت تھی کہ جانشینِ سلطانُ القلم حضرت مولانا مفتی ڈاکٹر یاسر ندیم الواجدی صاحب قاسمی دامت برکاتہم العالیہ جامعہ ہذا میں تشریف لانے والے ہیں۔ پھر رفتہ رفتہ یہ خبر یقین میں بدلتی چلی گئی، یہاں تک کہ حضرت کے فیس بک پیج سے یہ اطلاع موصول ہوئی کہ سلطانُ القلم حضرت مولانا ندیم الواجدی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی آخری تصنیف سیرتِ رسول اللہ ﷺ کی تقریبِ اجراء بمقام اطیب المساجد، دارالعلوم وقف دیوبند منعقد ہونے جا رہی ہے۔
اس بابرکت و علمی پروگرام میں شرکت کو ناچیز نے اپنے لیے سعادت سمجھا، چنانچہ بروقت حاضری دی۔ وہاں پہنچ کر یہ منظر دیکھا کہ اہلِ علم، اصحابِ فکر اور مقتدر شخصیات کی ایک باوقار جماعت تشریف فرما ہے۔ اس روح پرور مجلس کی صدارت جانشینِ خطیبِ اسلام حضرت مولانا محمد سفیان قاسمی صاحب مدظلہ العالی فرما رہے تھے۔
پروگرام کا آغاز جامعہ ہذا کے مؤقر استاذِ حدیث حضرت مولانا قاری محمد واصف عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی پُرسوز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس نے ماحول کو نور اور قلوب کو سرور بخشا۔ اس کے بعد مولانا ذیشان صاحب گڈاوی نے بارگاہِ رسالت ﷺ میں نعتِ پاک پیش کر کے سماں باندھ دیا۔
اس کے بعد جامعہ ہذا کے نہایت شفیق، باصلاحیت اور صالح استاذِ حدیث حضرت مولانا مفتی محمد عارف عثمانی صاحب مدظلہ الاقدس نے خطاب فرمایا، جس میں علم، اخلاص اور طلبہ سے والہانہ محبت نمایاں تھی۔ پھر دور و نزدیک سے تشریف لائے ہوئے معزز مہمانانِ گرامی، خصوصاً دارالعلوم دیوبند سے تشریف لائے اساتذۂ کرام نے سلطانُ القلم حضرت مولانا ندیم الواجدی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی علمی، ادبی اور دعوتی خدمات پر اپنے گراں قدر تاثرات پیش کیے۔ ان بیانات کے ذریعے ہم طلبہ کو حضرت کے بے شمار اوصاف، علمی کمالات اور اخلاص بھرے معمولات سے آگاہی حاصل ہوئی۔
ناچیز کی حضرت مولانا ندیم الواجدی رحمۃ اللہ علیہ سے ملاقاتیں تو وقتاً فوقتاً ہی ہو سکیں، اپنی کم علمی و کم مائیگی کے سبب زیادہ استفادہ نہ کر سکا، تاہم ایک واقعہ آج بھی دل میں تازہ ہے۔ ایک مرتبہ جھجھک کے باوجود رمضان المبارک سے متعلق کسی مفید کتاب کی رہنمائی چاہی، تو حضرت نے نہایت شفقت سے فرمایا:
یہ لو، میری لکھی ہوئی کتاب (آج رات کی تراویح ) ان شاء اللہ بہت مفید ثابت ہوگی۔
چنانچہ ناچیز نے پوری تراویح کے دوران بعد نمازِ عصر اسی کتاب کے ذریعے مصلیان حضرات کو مطالعہ کر کے سنایا، جو میرے لیے باعثِ افتخار رہا۔
تقریب کے آخری حصے میں حضرت مولانا مفتی ڈاکٹر یاسر ندیم الواجدی صاحب نے اپنے والدِ محترم کے بارے میں نہایت درد مندانہ اور پُراثر گفتگو فرمائی۔ نم آنکھیں، لرزتی آواز اور والد کی جدائی کا کرب—ہر لفظ دل میں اترتا چلا گیا۔ آخر میں صدرِ مجلس کے مختصر مگر نہایت جامع کلمات اور دعا پر یہ روحانی محفل اختتام پذیر ہوئی۔
بعد ازاں ناشتہ کے موقع پر حضرت مفتی یاسر ندیم الواجدی صاحب مدظلہ العالی اور ان کے صاحبزادے محترم حفید سلطان القلم محمد احمد ندیم الواجدی کے ساتھ تصویر قید کرنے کی سعادت بھی حاصل ہوئی، جو اس یادگار محفل کی ایک قیمتی یاد بن گئی۔
بارگاہِ ایزدی میں دعا ہے کہ
اللہ تعالیٰ سلطانُ القلم حضرت مولانا ندیم الواجدی رحمۃ اللہ علیہ کے درجات بلند فرمائے، ان کی علمی کاوشوں کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، اور ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وسلم۔
✍🏻 خاکسار: محمد معصوم ارریاوی
متعلم: دارالعلوم وقف دیوبند