اسلام اور کٹّرتا: فکری مغالطہ_ یا سازش
مضمون (67) بسم اللہ الرحمن الرحیم 
کسی بھی صحافت میں سب سے خطرناک رویہ یہ ہوتا ہے کہ فرد کے جرم کو نظریہ بنا دیا جائے، اور کسی ایک انسان کے عمل کو پورے مذہب یا فکر کے کھاتے میں ڈال دیا جائے۔ یہ الگ بات ہے کہ کس نے جرم کیا؟ یا نہیں کیا؟ ، اس کے لیے ہمارا مضبوط اور خود مختار سپریم عدلیہ موجود ہے،اور آواز اٹھانا یقیناً ہر شہری کا حق اور انصاف کا تقاضہ ہے، مگر یہ طرزِ فکر نہ صرف انصاف کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے بلکہ سماجی ہم آہنگی، فکری دیانت اور قومی وحدت کے لیے بھی زہرِ قاتل ثابت ہوتا ہے۔
آج ہمارے گرد و پیش میں یہی فکری لغزش بار بار دہرائی جا رہی ہے کہ ۔ اگر کہیں کوئی مسلمان غلطی کرے یا کٹّرتا کا مظاہرہ کرے تو فوراً سوال اٹھا دیا جاتا ہے:
؛ اسلام میں کٹّرتا کیوں ہے؟؛ 
حالانکہ یہی وہ نازک مقام ہے جہاں سوچ کی دیانت، علمی سنجیدگی اور اخلاقی ذمہ داری سخت آزمائش میں پڑ جاتی ہے۔
اسلام میں کٹّرتا کی سرے سے کوئی گنجائش نہیں۔ اسلام تو اعتدال، عدل، رحم، برداشت اور انسانی وقار کا نام ہے۔ اس کی روح توازن میں ہے، شدت میں نہیں؛ اصلاح میں ہے، فساد میں نہیں۔ اگر کوئی مسلمان حدود سے تجاوز کرتا ہے، نفرت یا شدت پسندی کو اختیار کرتا ہے تو وہ اپنے فعل کا خود ذمہ دار ہے -_اسلام یا اس کا نمائندہ ہرگز نہیں۔
یہ ایک تلخ مگر ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ ایسے افراد کے سبب اسلام بدنام نہیں ہوتا،اسلام تو مکمل نقائص سے پاک و بالا تر ہے؛ بلکہ مسلمان بدنام ہوتا ہے، اور یہ بدنامی پوری ملت کے لیے نہایت فکر کن اور افسوس ناک بن جاتی ہے۔ بدقسمتی سے اس نکتے کو جان بوجھ کر نظرانداز کیا جاتا ہے، کیونکہ اس سے فتنہ پرور بیانیہ کمزور پڑ جاتا ہے۔
اصل مسئلہ مذہب کا نہیں، نیت اور عنوان کا ہے۔ اگر کوئی مسلمان غلطی کرے تو بحث کا عنوان؛ اسلام میں کٹّرتا؛ رکھنا فکری بددیانتی کے سوا کچھ نہیں۔ دیانت دار اور ذمہ دار طرزِ فکر یہ ہے کہ فرد کو اس کے عمل پر پرکھا جائے، نہ کہ ایک مکمل مذہب کو چند افراد کی کوتاہیوں کی بنیاد پر کٹہرے میں کھڑا کر دیا جائے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں فتنے کی بو محسوس ہوتی ہے _ ایک ایسا فتنہ جو سوال کو الزام میں بدل دیتا ہے، سوچ کو زہر آلود کرتا ہے اور معاشرے میں تقسیم کو مزید گہرا کرتا ہے۔
یہ کہنا بھی حقیقت کے منافی ہے کہ اس فتنے کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھ رہی۔ سنجیدہ اور ذمہ دار مذہبی و سماجی رہنما مسلسل شدت پسندی، تشدد اور نفرت کے خلاف صف آرا ہیں۔ مگر افسوس کہ ان کی متوازن اور اصلاحی آوازوں کو یا تو نظرانداز کیا جاتا ہے یا دانستہ دبایا جاتا ہے، جبکہ نفرت کو ہوا دینے والے بے لگام بھاشن نمایاں کر کے بسا اوقات پیش کیے جاتے ہیں۔
آج ہمارا وطنِ عزیز _ یہ مہکتا دمکتا، چمکتا اور لہراتا گنگا جمنی تہذیب کا خوبصورت چمن (بھارت) _ نفرت پھیلانے والے شرپسند عناصر کی زد میں ہے۔ روزانہ زہریلی زبان، اشتعال انگیز بھاشن اور تقسیم در تقسیم کا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ اگر تعصب کی عینک اتار دی جائے تو یہ حقیقت چھپی نہیں رہتی کہ نفرت کی اس سیاست سے کن کن کے مفادات وابستہ ہیں، اور اس کی قیمت صرف ایک طبقہ نہیں بلکہ پورا معاشرہ ادا کر رہا ہے۔
وقت کا تقاضا یہ ہے کہ میڈیا اور دیگر ابلاغی ادارے جذبات کے بجائے فہم کو رہنما بنائیں، اور الزام تراشی کے بجائے فکری دیانت، انصاف اور سچائی کا راستہ اختیار کریں۔ کیونکہ جب عنوان ہی غلط ہو تو نتیجہ کبھی درست نہیں نکلتا۔
اسلام ہو یا کوئی اور مذہب _ نفرت اس کا پیغام نہیں۔ نفرت ہمیشہ نفرت پھیلانے والوں کی پہچان ہوتی ہے، اور ایک زندہ، باشعور اور ذمہ دار معاشرہ وہی ہے جو اس پہچان کو بروقت پہچان لے، اور اسے قبول کرنے کے بجائے بلا تفریقِ مذہب و ملت، اور تعصب کے مکمل طور پر مسترد کر دیا جائے ۔
حوالہ (میڈیا پسِ منظر)
News18 India | 03/01/26
#IndiaSecularism #MuslimCleric #ShariaLaw #PatriotismDebate #goonj #rubikaliyaquat #debate
    (وضاحتی نوٹ) 
یہ تحریر راقم کے ذاتی فکری و تجزیاتی نقطۂ نظر کی عکاس ہے۔ ادارہ یا اشاعتی پلیٹ فارم ان آرا کی توثیق یا تردید کا پابند نہیں۔
  بقلم محمودالباری
mahmoodulbari342@gmail.com