یہ آیتِ مبارکہ قرآنِ کریم کی نہایت عظیم اور جامع آیات میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ اس آیت میں ایک بہت بڑا اصول بیان فرما رہے ہیں جو ہر زمانے اور ہر انسان کے لیے ہے۔
آیت:
﴿لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ وَلَئِن كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ﴾
ترجمہ:
اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا، اور اگر ناشکری کرو گے تو بے شک میرا عذاب بہت سخت ہے۔
تشریح (آسان انداز میں):
یہ آیت ہمیں یہ بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو بھی نعمتیں دی ہیں، وہ محض اس کے فضل و کرم سے ہیں۔ انسان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان نعمتوں پر اللہ کا شکر ادا کرے۔ شکر کا مطلب صرف زبان سے “الحمدللہ” کہنا نہیں بلکہ دل سے نعمت کو ماننا اور عمل سے اللہ کی اطاعت کرنا بھی شکر میں شامل ہے۔
جب انسان اللہ کی نعمتوں کو پہچانتا ہے، ان کی قدر کرتا ہے اور ان کو اللہ کی مرضی کے مطابق استعمال کرتا ہے تو یہ شکر کہلاتا ہے۔ ایسے بندے سے اللہ تعالیٰ وعدہ فرماتے ہیں کہ وہ اس کی نعمتوں میں مزید اضافہ کریں گے۔ یہ اضافہ مال میں بھی ہو سکتا ہے، صحت میں بھی، اولاد میں بھی، علم میں بھی اور دل کے سکون میں بھی۔
شکر کرنے والا انسان اللہ کا محبوب بن جاتا ہے۔ اس کے چھوٹے اعمال بھی بڑے بن جاتے ہیں۔ اس کے پاس تھوڑا ہو تب بھی وہ مطمئن رہتا ہے، کیونکہ شکر نعمتوں کو باقی بھی رکھتا ہے اور بڑھاتا بھی ہے۔
اس کے برعکس ناشکری یہ ہے کہ انسان نعمت کو اللہ کی طرف منسوب نہ کرے، یا نعمت کو گناہوں میں استعمال کرے، یا یہ سمجھے کہ سب کچھ اس کی اپنی محنت کا نتیجہ ہے۔ ایسی سوچ انسان کو اللہ سے دور کر دیتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے صاف فرما دیا کہ اگر ناشکری کی جائے تو اس کا انجام بہت خطرناک ہے۔ اللہ کا عذاب صرف آخرت میں ہی نہیں بلکہ دنیا میں بھی آسکتا ہے، جیسے بے سکونی، نعمتوں کا چھن جانا، دل کا سخت ہو جانا اور برکت کا ختم ہو جانا۔
یہ آیت ہمیں ڈراتی بھی ہے اور امید بھی دلاتی ہے۔ ڈراتی اس لیے ہے کہ ناشکری عذاب کا سبب بن سکتی ہے، اور امید اس لیے دلاتی ہے کہ شکر کے ذریعے اللہ کی نعمتوں میں اضافہ ممکن ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اسلام ہمیں ہر حال میں شکر کی تعلیم دیتا ہے، چاہے خوشی ہو یا تکلیف۔ کیونکہ شکر انسان کو اللہ کے قریب کر دیتا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ جو شخص شکر گزار بنتا ہے وہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہوتا ہے، اور جو ناشکری اختیار کرتا ہے وہ اللہ کے سخت عذاب کا خطرہ مول لیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سچا شکر گزار بندہ بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
مفتی صادق امین قاسمی