بل تؤثرون الحیاۃ الدنیا کی زندہ تفسیر
خامہ بکف محمد پالن پوری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
علماء کو تنخواہ چاہیے لیکن وہ اس علم کی نہیں مانگتے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وراثت میں ملا بلکہ وہ اس وقت کی قیمت مانگتے ہیں جو وہ دن رات بچوں کو قرآن و حدیث پڑھانے میں صرف کرتے ہیں، وہ اس محنت کا بدل چاہتے ہیں جو وہ ناشتہ چھوڑ کر نماز فجر سے لے کر عشاء کے بعد تک سبق میں بہاتے ہیں۔ ان کی مانگ پیسوں کی محبت سے نہیں بلکہ زندگی کے بوجھ سے ہے۔ وہ فریج میں دودھ کی خالی تپیلی دیکھ کر تنخواہ بڑھانے کی بات کرتے ہیں، بجلی کا بل، بچوں کی فیس، کپڑوں کی ضرورت اور دوا کی پرچی جب ان کے میز پر اکٹھی آتی ہے تو وہ مجبوراً اپنے ذمہ دار سے چند ہزار اضافے کی گزارش کرتے ہیں مگر جواب میں انہیں دنیا دار، لالچی اور پیسے والا کہہ دیا جاتا ہے حالانکہ سچ یہ ہے کہ اگر ان کی نظر پیسے پر ہوتی تو وہ دکان کھول لیتے، کوچنگ چلاتے یا ملازمت کرتے۔ وہ تو دین کی خدمت کو ہی مقصد بنائے بیٹھے ہیں مگر افسوس کہ دین کی اس خدمت کو ہی دنیا والوں نے سب سے سستا کر دیا ہے۔ مدارس میں علم سے زیادہ چندے کی صلاحیت پوچھی جاتی ہے، علم کے وزن سے زیادہ اس بات کا اثر ہوتا ہے کہ چندہ کتنا کر لیتے ہیں۔ یہی تو ہے جہاں عالم کی عزت نفس روندی جاتی ہے اور وہ خاموش رہتا ہے کہ شریعت کے طالب کو زبان سے احتجاج کا حق بھی کہاں؟ لیکن وہ خاموشی کب تک؟ ایک دن اس کی ضرورت زبان پر آ ہی جاتی ہے اور پھر حضرات کمیٹی کے ماتھے پر بل آ جاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں تمہیں دین سکھانے آئے ہو یا پیسہ بنانے مگر وہ یہ نہیں دیکھتے کہ وہ خود اسی دین کے وارث کو صرف گیارہ ہزار میں جکڑنے کے درپے ہیں اور یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے علم کی توہین اور علماء کی محرومی کا دروازہ کھلتا ہے پھر جب کوئی عالم صبر توڑ کر استعفیٰ دیتا ہے تو اگلے دن دو نئے امیدوار آ کر گیارہ ہزار میں تیار کھڑے ہوتے ہیں اس لیے نہیں کہ وہ کم میں جینا چاہتے ہیں بلکہ اس لیے کہ انہیں یہ لگتا ہے کہ موقع ہاتھ سے نہ جائے۔اور یہی کمزوری دشمن کو طاقت دیتی ہے، یہی خاموشی نظام کو بے رحم بناتی ہے، اور یہی وقتی مصلحت کل امت کی رسوائی بن جاتی ہے اور سب سے بڑھ کر وہ ستم ظریفی کہ اسکول میں کوئی ٹیچر فیس کا مطالبہ کرے تو والدین بنا کسی سوال کے دے دیتے ہیں پھر فیس چاہے پانچ ہزار ہو یا پندرہ ہزار کوئی نہ پرنسیپل سے جھگڑتا ہے نہ ٹیچر کو طعنہ دیتا ہے کیونکہ وہ دنیاوی تعلیم ہے، دنیا کے خوابوں سے جڑی ہوئی ہے مگر وہ عالم جو قرآن سکھاتا ہے، جو نسلیں بناتا ہے، جو امت کا مزاج بناتا ہے اس کے لیے کوئی پندرہ ہزار نہیں دے سکتا۔۔
کیا کہوں اے امت مسلمہ تیری اس بربادی پر کہ تونے دنیا کو دین پر مقدم کر دیا یہ تو وہی ہوا جس کی خبر قرآن نے پہلے ہی دے دی تھی *بل تؤثرون الحیاۃ الدنیا* تم نے دنیا کو ترجیح دی اور دین کے وارث کو بے وقعت کر دیا۔ اب نہ وہ عزت رہی، نہ وقار اور نا ہی دل میں وہ خلوص جس سے علم پروان چڑھتا ہے۔۔۔۔۔۔
اگر واقعی ہمیں علماء سے پیار ہے تو ان کو صرف قرآن سنانے کے لیے نہیں، زندگی جینے کے لیے بھی سازگار ماحول دیں تاکہ وہ دین سکھانے میں لگے رہیں اور ان کا دل کچن کے خرچ میں نہ الجھے۔ عزت نفس روٹی سے مہنگی ہوتی ہے اور ایک عالم کی دعا قوم کی زندگی سے مہنگی!۔۔۔۔۔۔۔