قیادت کی روح ابو عبیدہ: نمونۂ حیات و استقامت
جس کی زندگی خدمت، استقامت اور قربانی کا ایسا نمونہ رہی کہ دلوں میں روشنی پھونک گیا۔ جس نے اپنے مشن کے لیے نہ کبھی تھکا نہ رکا، بلکہ ہر لمحہ اپنی قوم اور شرعی اصولوں کے لیے وقف رہا۔ جس کی ہمت، بصیرت اور شجاعت نے سب کو متحد رکھا اور مظلوم کے لیے امید کی کرن بن کر ابھرا۔
ابو عبیدہ کی زندگی کی خصوصیت ان کے اعمال، قربانی اور استقامت میں جھلکتی ہے۔ ان کی قربانی، محنت اور لگن نے انہیں نہ صرف اپنے ساتھیوں بلکہ پوری امت مسلمہ کے لیے ایک نمونہ بنا دیا۔ ان کی قیادت میں ہر شخص کو حوصلہ اور یقین ملا کہ حق کے لیے جدوجہد کے دوران کبھی بھی ہار نہیں ماننی چاہیے۔
ابو عبیدہ نے اپنے اخلاص، استقامت، قیادت، یقین، مضبوطی، ثابت قدمی، قربانی، حوصلے، صبر اور مشن سے اسرائیل جیسی ناپاک ریاست اور اس کی پشت پناہی کرنے والی ریاستوں و ممالک کو ذلیل و خوار کر کے اپنے مالک حقیقی کے حضور سرخرو کیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
ابو عبیدہ جن کا اصلی نام "ابو ابراہیم حذیفہ سمیر الکحلوت" تھا، نے اپنی زندگی کو حق اور انصاف کی سربلندی کے لیے وقف کر دیا۔ ان کی شہادت کا باقاعدہ اعلان "تحریکِ حماس" نے کیا، جس نے دنیا کو ان کی قربانی اور عظمت کا شعور دیا۔
ہم دعا گو ہیں کہ رب ذوالجلال ان کی زندگی، محنت اور قربانی کو قبول فرمائے، آخرت میں اپنے رسول ﷺ کی معیت عطا فرمائے۔ اللہ ہمیں بھی وہ قوت، ہمت اور بصیرت عطا فرمائے کہ ہم حق کی راہ میں ثابت قدم رہ سکیں۔ ہم سب ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی دعا کرتے ہیں اور اللہ سے استقامت کی طلب کرتے ہیں۔
اللهم اغفر للمؤمنين والمؤمنات والمسلمين والمسلمات الاحياء منهم والاموات۔ اللهم من توفي من عبادك فاقبضه على الايمان واجعل ما اصابه رفعةً له في الدرجات وتكفيرًا للسيئات، وتجاوزا عن الزلات۔
اللهم وسع قبورهم وانر مراقدهم واجعل قبورهم روضة من رياض الجنة۔
اللهم ارحم ضعف المستضعفين واكشف الكرب عن المكروبين واحقن دماء الابرياء واجعل العدل والرحمة والسلام سائدين بين عبادك۔
اللهم اختم لنا ولهم بخير واجعل عاقبتنا وعاقبتهم إلى رحمتك إنك على كل شيء قدير۔
آمیـــــــن یـــــــا رب العــــــالمین۔
چند دن پہلے ابو عبد جو کہ غزا میں مسلمانوں کی استقامت کے لیے اور ان کی حفاظت کے لیے کام کر رہے تھے، وہ بھی شہید ہو گئے۔ مجھے معلوم ہوئی تھی لیکن وقت کی کمی کے سبب لکھ نہیں پایا۔ اب موقع مل رہا ہے تو میں ان کی قربانی اور خدمات کو یاد کرتے ہوئے لکھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔
ابو عبیدہ کی زندگی نے ہمیں یہ سبق دیا کہ قیادت صرف منصب یا طاقت کا نام نہیں، بلکہ یہ خدمت، قربانی، استقامت اور اصولوں کے لیے مسلسل جدوجہد کا نام ہے۔ ان کی قربانی مظلوم کے لیے امید کی کرن اور حق کی سربلندی کے لیے مشعل راہ ہے۔
ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی وہ ہمت، استقامت اور بصیرت عطا فرمائے کہ ہم حق کے لیے ثابت قدم رہیں اور اپنے معاشرے میں انصاف، خدمت اور قربانی کی روشنی پھیلائیں۔
اللهم اغفر للمؤمنين والمؤمنات والمسلمين والمسلمات الاحياء منهم والاموات۔ اللهم من توفي من عبادك فاقبضه على الايمان واجعل ما اصابه رفعةً له في الدرجات وتكفيرًا للسيئات، وتجاوزا عن الزلات۔
اللهم وسع قبورهم وانر مراقدهم واجعل قبورهم روضة من رياض الجنة۔
اللهم ارحم ضعف المستضعفين واكشف الكرب عن المكروبين واحقن دماء الابرياء واجعل العدل والرحمة والسلام سائدين بين عبادك۔
اللهم اختم لنا ولهم بخير واجعل عاقبتنا وعاقبتهم إلى رحمتك إنك على كل شيء قدير۔
آمیـــــــن یـــــــا رب العــــــالمین۔
ابو عبیدہ کی شہادت، قربانی اور قیادت کی خصوصیات تاریخ کے اوراق میں سنہرے حروف سے ہمیشہ محفوظ رہیں گی۔ ان کی زندگی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ حق اور انصاف کی راہ میں استقامت، قربانی اور حوصلہ ہمیشہ کامیابی کی ضمانت ہے۔
ان کے مشن، اصول اور قربانی کا پیغام آج بھی زندہ ہے، اور ہر مومن کو یہ سبق دیتا ہے کہ سچی قیادت اور حقیقی قربانی وہی ہے جو حق، انصاف اور مظلوم کی حمایت کے لیے ہو۔ ان کے نقشِ قدم پر چلنا اور ان کے مشن کو یاد رکھنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔
تحریر: محمد فداء المصطفٰی قادری
ڈگری اسکالر: دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی