امام محمد غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: پہلے زمانے کے لوگ دن رات عبادت کرتے اور جو بھی عمل کرتے، دل میں خوفِ خدا رہتا تھا کہ انہوں نے اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ وہ رات دن عبادت میں گزارنے کے باوجود اپنے نفسوں کے بارے میں خوف زدہ رہتے تھے۔ وہ بہت زیادہ تقوی اختیار کرتے اور خواہشات اور شبہات سے بچتے تھے۔ اس کے باوجود وہ تنہائی میں اپنے نفسوں کے لیے روتے تھے۔ 

لیکن اب حالت یہ ہے کہ تم لوگوں کو مطمئن، خوش اور بے خوف دیکھو گے۔ حالاں کہ وہ گناہوں پر اوندھے گرتے ہیں، دنیا میں پوری توجہ رکھے ہوئے ہیں اور اللہ تعالی سے منہ پھیر رکھا ہے۔ 

ان کا خیال ہے کہ وہ اللہ تعالی کے فضل و کرم پر کامل یقین رکھتے ہیں۔ اس کے عفو و در گزر اور مغفرت کی امید رکھتے ہیں۔ گویا ان کا گمان یہ ہے کہ انہوں نے جس طرح اللہ تعالی کے فضل و کرم کی معرفت حاصل کی ہے، اس طرح انبیاء کرام علیہم السلام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور پہلے بزرگوں کو بھی حاصل نہ تھی۔ اگر یہ بات محض تمنا اور آسانی سے حاصل ہو جاتی ہے، تو ان بزرگوں کے رونے، خوف کھانے اور غمگین ہونے کا کیا مطلب تھا؟ 

 حضرت معقل بن یسار رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: 
”لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا، جس میں قرآن پاک ان کے دلوں میں ایسے پرانا ہو جائے گا، جیسے بدن پر کپڑے پرانے ہو جاتے ہیں۔ ان کے تمام کام لالچ کی وجہ سے ہوں گے۔ جس میں خوف نہیں ہوگا۔ اکثر ان میں کوئی اچھا عمل کرے گا، تو کہے گا کہ یہ مقبول ہوگا اور اگر برائی کرے گا تو کہے گا میری بخشش ہو جائے گی۔“
 (تفسیر صراط الجنان: جلد:6، ص:537)

یہ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے آج سے تقریبا 900 سال پہلے کے حالات لکھے ہیں اور فی زمانہ تو حالات اس سے کہیں زیادہ نازک ہو چکے ہیں۔ لوگوں کو گناہ کرتے ہوئے بھی فخر محسوس ہوتا ہے۔ حرام کاموں میں ملوث ہونے کے باوجود خود کو جنتی سمجھتے ہیں۔ نہ خوفِ خدا نہ شرمِ نبی ﷺ ! 

اگر کوئی ان کو بتائے کہ یہ کام گناہ ہے یا اس کو کرنے کے کَیا کَیا نقصانات ہیں، تو بلا خوف و خطر اپنی بات پر اڑ جاتے ہیں اور اصلاح کرنے والے کو ہی سو باتیں سنا دیتے ہیں۔ خود تو اعمالِ صالحہ سے کوسوں دور نظر آتے ہیں، اور دوسروں کے دلوں سے بھی خوفِ خدا کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور جو ان کی اصلاح کریں، ان کو اپنا جانی دشمن سمجھتے ییں۔ 
ناصِحا! مت کر نصیحت دل مرا گھبرائے ہے
اُس کو دشمن جانتا ہوں جو مجھے سمجھائے ہے

اللہ کریم ہمارے حالوں پر رحم فرمائے، ہمیں عقل سلیم اور فہم عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین! 

ـــــــــــــــــــــــــــــــــ
از- بنت اسلم برکاتی 
17 رجب المرجب 1447
7 جنوری 2026، بروز بدھ