تنقید ، تجریح اور تضلیل کی حدود

✍🏻 خامہ بکف محمد پالن پوری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تنقید، تجریح اور تضلیل تینوں علمی دنیا کی ناگزیر حقیقتیں ہیں مگر ان کا استعمال اسی وقت مفید رہتا ہے جب یہ حدود میں مقید ہوں کیونکہ جہاں حد ٹوٹتی ہے وہاں علم ختم اور فساد شروع ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔
تنقید دراصل دلیل کی روشنی میں کسی قول یا منہج کی جانچ کا نام ہے۔ اس کا مخاطَب فکر ہوتا ہے شخص نہیں اسی لیے اس میں زبان کا وقار، نیت کی صفائی اور انصاف کی پابندی شرط ہے۔ سلف کا طریقہ یہی تھا کہ قول پر بات ہوتی تھی اور قائل کی نیت اللہ کے سپرد رہتی تھی۔۔۔
اس کے برعکس تجریح اس وقت آتی ہے جب معاملہ محض رائے کا نہ رہے بلکہ نقلِ علم، دیانتِ روایت یا فہمِ نص میں خلل کا اندیشہ پیدا ہو جائے مگر یہاں بھی اصول یہ رہا کہ جرح ضرورت کے بقدر ہو۔ نہ تشفیِ نفس کے لیے اور نہ مسلکی برتری جتانے کے لیے۔ اسی لیے محدثین نے جرح کے اسباب متعین کیے، الفاظ مقرر کیے اور اسے اہلِ فن تک محدود رکھا۔عام مجمع میں تجریح کو پسند نہیں کیا کیونکہ یہ علم سے زیادہ فتنہ پیدا کرتی ہے۔۔۔۔۔
رہی تضلیل! تو یہ سب سے نازک اور خطرناک مرحلہ ہے۔ اس کا تعلق خطا سے نہیں بلکہ ضلالت سے ہے اور ضلالت کا حکم وہیں لگایا جاتا ہے جہاں اصولِ دین میں صریح انحراف، قطعی نص یا اجماع سے کھلی بغاوت ثابت ہو۔ محض اجتہادی خطا، فہم کا اختلاف یا تعبیر کا فرق تضلیل کا جواز نہیں بنتا۔۔۔۔۔
آج کا المیہ یہ ہے کہ تنقید کی جگہ تحقیر، تجریح کی جگہ کردار کشی اور تضلیل کی جگہ تکفیر نے لے لی ہے۔ سوشل میڈیا نے اس عمل کو اور بھی بے لگام کر دیا ہے جہاں ہر اختلاف کو ایمان کا مقدمہ بنا دیا جاتا ہے حالانکہ علم کی روایت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اختلاف کو برداشت کیا جائے، خطا کی نشاندہی کی جائے مگر حدود نہ توڑی جائیں کیونکہ جب تنقید انصاف سے خالی ہو، تجریح اصول سے آزاد ہو اور تضلیل سہولت کا فتویٰ بن جائے تو نہ حق محفوظ رہتا ہے اور نا ہی امت۔۔۔۔۔۔۔
 اگر کہیں حرف گرہ میں الجھ جائے یا خیال سے خیال ہم قدم نہ ہو سکے تو کمنٹس کی دہلیز کھلی ہے۔اپنی رائے ضرور رقم کیجیے۔

اور اگر یہ تحریر دل کو چھو جائے، فکر کو جنبش دے تو اسے اپنے اہلِ ذوق، ہم خیال اور متعلقین تک پہنچا دیجیے۔

شکریہ



چینل کی لنک

https://whatsapp.com/channel/0029Vb6ClOvDuMRbbKrnXM3B