🛋️{مسلم حکمران حقیقت کے آئینہ میں} ⚖️
گل رضاراہی ارریاوی ✍🏻
بالعموم ہندوستان پر مسلمانوں کی
حکومت713ءسے 1857ء تک تقریبا گیارہ سو سال رہی ،ملک میں تخت نشینی کے دوران مسلمان اور مسلم حکمرانوں کا ہم وطن رعایا اور عوام کے ساتھ حسن سلوک اور رواداری کا معاملہ رہا، اثر ورسوخ کے باوجود کسی غیر مسلم کو جبرا مسلمان نہیں بنایا گیا، ہرکسی کو اپنے مذہب کے اصول پہ عمل کرنے کا مکمل اختیار دیا، یہاں کے باشندوں کو تہذیب وثقافت ،عدل وانصاف، جہاں بانی وحکمرانی کا طریقہ سکھلایا ،وہ تمام حقوق دیے جو اک انسان کو بحیثیت انسان ملنا چاہیے یہی وجہ ہے کہ محمد بن قاسم رحمہ اللہ تعالٰی کے ہندوستان سے اپنے وطن واپسی کے بعد بلا تفریق مسلم وغیر مسلم کے زبان ثناخوانی سے سردار تھی ،توصیفی کلمات زبان پہ جاری تھے،ان کے واپسی کے بعد
بالعموم اہل ہند نالاں وغمزدہ تھے؛
مگر بڑے تف کی بات ہےکہ آزادی وطن کے بعد جس نے تاریخ ہند رقم کی اس نے خیانت اور بے ایمانی کا مظاہرہ کیا اور یکطرفہ حمایت سے کام لیا،اور قلم کو عدل وانصاف کے موتی میں پرونے کے بجاۓ بے ایمانی، شقاوت وعداوت اور نفرت کی بھٹی میں تپاکر کوئلہ بنایا ،اس کی ملمع سازی اور سفسطہ ناخواندہ لوگوں کے قلوب کو مسخر کرلیا، سوۓ قسمت ایسی غیر تحقیقی کتاب (جو جھوٹ کی آلودگیوں سے پرتھی ) سرکاری نصاب میں شامل بھی کرلی گئی ،اب اس کے مطالعے سےنسل نو اور سادا لوح قاری کو یہ تأثر ملا کہ مسلم حکمرانوں نے اپنے ہم وطن رعایا کےساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھا، جب کہ بعد میں انصاف پرور اور منصف مزاج غیر مسلم مؤرخین نے صحیح تاریخ مرتب کی ،انہوں نے اپنی کتاب میں مسلم حکمرانوں کا ہم وطن رعایا کے ساتھ مذہبی رواداری اور عدل وانصاف کے ایسے امثال وواقعات ذکر کی ہیں جن سے خائن مؤرخین کا سیاہ چہرہ سامنے آجاتا ہے
{ملخص تاریخ ہند ص101}