میں دوسری بیوی ہوں۔
میرا تعلق ایک انتہائی غریب گھرانے سے تھا۔ میری پیدائش سے پہلے ہی میرے والد کا انتقال ہوگیا تھا۔ والدہ کو دادیال والوں نے گھر سے نکال دیا، تب میرے ماموں نے ہمیں اپنے گھر میں پناہ دی۔
ماموں نے والدہ پر بہت زور دیا کہ وہ دوسری شادی کرلیں، مگر انہوں نے انکار کردیا۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی کی محنت اور قربانی مجھے پڑھانے لکھانے پر لگا دی۔ اللہ کے کرم سے میں ایک اچھی یونیورسٹی میں لیکچرار مقرر ہوگئی۔
جب میری شادی کی عمر آئی تو لوگوں کی باتیں شروع ہوگئیں: “نہ بہن، نہ بھائی، نہ باپ… معلوم نہیں کیسی ہوگی۔”
اسی دوران میرے ایک کولیگ سے بات چیت شروع ہوئی۔ ان کی شادی کو آٹھ سال ہوچکے تھے مگر اولاد نہیں تھی۔ ابتدا میں میری والدہ اس رشتے کے حق میں نہیں تھیں، مگر حالات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے رضامندی دے دی۔
ہمارا نکاح نہایت سادگی سے ہوا۔ میرے شوہر کے گھر والے اس شادی پر راضی نہیں تھے، مگر میرے شوہر ایک بہت اچھے اور ذمہ دار انسان ہیں۔ انہوں نے نہ صرف مجھے بلکہ میری والدہ کو بھی دل سے قبول کیا اور انہیں اپنی ماں کا درجہ دیا۔ وہ ہمیں عمرہ پر لے کر گئے، اور واپسی پر معلوم ہوا کہ میں جڑواں بچوں کی ماں بننے والی ہوں۔ ان کی خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی۔
وقت گزرتا گیا اور اللہ نے ہمیں جڑواں بیٹوں سے نوازا۔ جب یہ خوشخبری دی گئی تو میرے سسر خود ہسپتال آئے، اپنے پوتوں کو پیار کیا۔ ابتدا میں ایک دو دن کی ناراضگی ضرور رہی، مگر پھر سب کچھ ٹھیک ہوگیا۔
بعد میں میری والدہ نے یہ مشورہ دیا کہ میرے شوہر ایک بیٹا سوتن کو بھی دے دیں۔ اس بات پر میرے سسرال والے بہت خوش ہوئے۔ دو سال بعد اللہ نے میری سوتن کو چاند جیسی بیٹی عطا کی۔
ہمارے درمیان نہ کبھی سوتن والی لڑائی ہوئی، نہ حسد، نہ مقابلہ۔ ہم نے کبھی اس رشتے کو بوجھ نہیں بنایا۔ میرے شوہر عید کے کپڑے ہوں یا کوئی اور موقع، دونوں کے لیے ایک جیسی چیزیں لیتے ہیں۔ حتیٰ کہ ہماری سالگرہ بھی ہو تو ہمیں ایک ہی ہوٹل میں لے جا کر کھانا کھلاتے ہیں۔
دوسری شادی کوئی عیب نہیں، بس دل کو سمجھانے کی بات ہے۔
آج میری بہت سی کولیگز اپنی عمریں گنوا بیٹھی ہیں، مگر سمجھوتا کرنے کو تیار نہیں۔ بھابھیوں، بھائیوں اور رشتہ داروں کی باتیں تو سن لیتی ہیں، مگر حقیقت کو قبول نہیں کر پاتیں۔
ایسے تمام لوگوں سے بس یہی کہنا ہے: اگر کوئی اچھا انسان آپ کا ہاتھ تھامنے کو تیار ہو، تو زندگی کی نئی شروعات کرلیں۔
باقی سب کچھ اللہ پاک پر چھوڑ دیں۔