غم فرقت ایک حقیقت
✍🏻گل رضا راہی ارریاوی
غم فرقت ہے کھانے کو شب غم ہے تڑپنے کو
ملا ہےہم کو وہ جینا کہ تڑپنا اس کو کہتے ہیں
یہ اللہ رب العزت کی کرم فرماٸی وذرہ نوازی ہے کہ اس نے مجھے علم دین کے مشغلہ سے منسلک کیا ، اسی کی عطا شامل حال ہے کہ اس نے مجھ جیسے خاکسار کو اپنے دین کیلیۓ منتخب فرمایا، اور کچھ رقم طراز کرنے کی سعادت عطافرماٸی ،اسی کا یہ ایک ثمرہ ہے جو ھدیہ قارٸین کیا جارہاہے ،
فرقت زندگی کا جزو لاینفک ہے، فرقت یعنی ہجرت سے شخصیت نکھرتی ہے اورانسان کو مقبولیت حاصل ہوتی ہے-
تاریخ اس بات پہ دال ہے کہ کامیابی فرقت سے حاصل ہوتی ہے،اسکے بغیر حصول مقصد مشکل ہے، یہ ایک ایسی چیزہے جس سے کسی کو رستگاری حاصل نہیں ،سب کو کامیابی کے لیۓ ہجرت کرنی پڑتی ہے، حتی کہ انبیا ورسل علماۓ کرام کو بھی احیاۓدین و اشاعت اسلام کیلیۓ فرقت وہجرت کی راہ اختیار کرنی پڑی، یہی وجہ ہیکہ ہر شخص کوکبھی نہ کبھی فرقت سے سابقہ پڑتاہے ،
ہر انسان کسی نہ کسی مقصد کیلیۓ اپنے ہمعصر رفقا و عزیز واقارب سے فرقت اختیار کرتاہے، جب یہ چیزاتنی عام ہے تو اس کا غم بھی لازم وامر حقیقی ہے ، اس غم کے احسا س کیلیۓ یہی بات کافی ہے جب بچہ رحم مادر سے نکلتاہے ،اور دنیا کے رنگ وبو میں چشم کشا ہوتاہے ،تو اسکو اپنے وطن سے فرقت کا غم لاحق ہوتاہے ، جس کے نتیجہ میں آہ وبکا کی نغمے گونجتی ہے ،یہی وجہ ہے فرقت کا غم ہر کسی کو ہوتاہے ،البتہ غم کی نوعیت مختلف ہوتی ہے،
جب میرا تحصیل علم دین کیلیۓ پہلا سفر طے پایا تھا ،تو مشفق والدین واحباب اور علاقہ سے منسلک لوگوں سے فرقت ، و جداٸی وطن کی وجہ سے آنکھ کےآنسٶوں سے میرا رخسار تر ہوگیا تھا، اور میں باربار گاؤں کے درخت ،کھیت ،کھلیان، مکانات کو پیچھے مڑمڑ کے دیکھتا اور افسردہ ہوتاتھالیکن؛ جب برابر اس سےواسطہ پڑتارہا تو پھر کچھ عادت سی بن گٸی ، تو اب تحمل غم آسان ہوگیا، اور عقل ودرایت سے کام لیا تو یہ امر واشگاف ہوگیا کہ علاقہ میں تعلیم حاصل کرنا میرے لیۓ جوۓ شیر لانے کے مترادف ہے ،چونکہ عامة ہمارے یہاں بچے علاقے میں تعلیم حاصل نہیں کرپاتے کیونکہ والدین کی شفقت اورہماری غفلت راہ علم میں سبک رفتاری کیلیے مانع ہوتی ہے،جس کی وجہ سے بچے طلب علم کیلیۓ رخت سفر باندھتے ہیں ، سفر کرتے کرتےاب عادت ہوگٸی ہے توہر سال آتے وقت غم ماند ومدھم پڑجاتاہے اورمشکل آسان سی ہوجاتی ہے، چونکہ یہ بات یقینی ہیکہ اگر زیست نے وفا کی تو رجاۓ الہی سےعود ممکن ہے ؛مگر جب مدرسہ میں سالانہ تعطیل ہوجاتی ہے ، اور احباب اپنے دیار کیلیۓ زاد راہ اختیار کرنے لگتےہیں ،تو جہاں لقاۓ اہل خانہ کا اشتیاق ومسرت ہوتاہے ،تو وہیں دوسری طرف مشفق و مکرم اساتذہ جوکہ مانند پدر کے ہوتے ہیں انکے اور احباب درس وہمشرب وہمنوالہ سے جداٸی کا غم ہوتاہے ، کیونکہ اساتذہ واحباب جب ایک مرتبہ جدا ہوتے ہیں ،تواس کا ملنا اور دفعة ثانیہ وہی مواقع کا فراہم ہونا امر تعبدی میں سے ہے ، چونکہ سال آٸندہ یا تو ہم نہیں ہوتے یا ہمارے ساتھی ، بایں بطور کہ کچھ ساتھی سال آٸندہ اپنے لیۓ دوسرا ادارہ منتخب کرلیتے ہیں ،تو مشفق ومکرم اساتذہ اور ساتھی کتاب زیست کا یادگار مضمون بن جاتا ہے ، جسکوبھلانے سے بھی نہیں بھولایاجاتا، چونکہ عربی کا مقولہ الانسان عبد الاحسان کہ انسان احسان کا غلام ہے ، چونکہ استاذ اور ساتھی دونوں پدر وبرادر کی طرح ہوتے ہیں ،زمانۂ تعلیم میں اچھےاوربرے وقت میں محبت وتسلی بخش جملے سے نوازتے ہیں ،اور جو بھی تعاون ہوسکتاہے کرتے ہیں ، مضمون سپردہ قرطاس کرتے وقت راقم بہت رنجیدہ وافسردہ ہے ، جسکا اظہار ذیل کے الفاظ سے کرنے کی سعی کی گٸی ہے!
خشک خشک سی پلکیں اور سوکھ جاتی ہے
میں تیری جداٸی میں اس طرح بھی روتاہوں ۔
سال رواں ختم ہونے کا احساس اس وقت ہوا جب امتحان سالانہ کا اعلان جدار مدرسہ پہ چسپاں ہوا اور اساتذہ نے بتلایا کہ اب آپ درجہ علیا کے لیۓ کمربستہ ہوجاٸیں ،چونکہ روایتا یہ سال پورا ہوگیا ، جب اس بات کی طرف ذہن جاتاہے تو تھوڑی دیر کیلیۓ غفلت کا پردہ چاک ہوجاتا ہے ،اور پھٹ جاتاہے، باستعجاب نظریں اٹھ جاتی ہیں ، قدرے تأمل کے بعد کف دست ملنا پڑتاہے اور ألآن کمان، سال اختتام پذیر ہوا، معلوم نہ چل سکا کہ ہم نے کیا پایا کیا کھویا آغاز سال کا پورہ نقشہ میرے سامنے آگیا کہ ابھی کل تو داخلہ امتحان دیکر داخلہ لیا، تعلیم کا آغاز ہوا تو ہراستاذ نے اپنے اپنے ساعت میں جہد تعلیم کی ترغیب وغفلت پہ ترہیب وزیاں کی نصیحت آمیز فقرے الفاظ کی موتیوں میں پرو کرپیش کررہے تھے ، دست شفقت دراز کررہے ہیں ،اپناٸیت کا مظاہرہ کررہے تھے ،خیرخواہی کا بےمثال نمونہ پیش کررہے تھے، اساتذہ و ساتھیوں سے تعارف وشناخت اور تعلق استوار کرنے کی کوشش کررہےتھے، یہ ایساغم ہےجو زندگی بھر کی یادگار تصویر ہے، جس کا اظہار الفاظ میں کرنا غایت مشکل ہے ، خیر یہ حقیقت ہے اور اس سے بھلا کس کو ابا ہوسکتاہے -
غم فرقت ہے کھانے کو شب غم ہے تڑپنے کو
ملا ہے ہم کو وہ جینا کہ مرنا اس کو کہتے ہیں
اللہ پاک سب کو بخیر وعافیت رکھے اورحضرات اساتذہ کا سایہ دراز فرماۓ اور ان سے مزید استفادے کا مواقع فراہم کرے ۔
اخیر میں راقم آپ سبھی حضرات سے عموما ،اساتذہ ورفقاۓ درس وغرفہ سے خصوصا دست بستہ عرض ہیکہ اگر احقرکے قول وفعل سے یا ناشاٸستہ حرکات وسکنات سے کسی کی دل آزاری ہوٸی ہو یا احقر کسی لیۓ باعث اذیت بناہو تو اپنی دریادلی وفراخ دلی سے احقر کوعفو فرمادیں ۔
احقر اس کو آپ کی وسعت ظرفی پہ محمول کرےگا اور ممنون و مشکور ہوگا۔
جزاک اللہ خیرا واحسن الجزاء فی الدنیا والآخرۃ