عواء الکلب لایظلم البدر 
(گستاخِ نبی کو دندان شکن جواب )
----------------------------------------
گل رضاراہی ارریاوی ✍🏻

ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ کی عظمت شان محتاج بیان نہیں 
شان رسالت کا ادراک تو بہت دور کی بات اس کو تصور میں بھی لانا محال ہے -
  مدحت رسول سے رسول کی شان بلند نہیں ہوتی وہ تو آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو روز ازل سے ہی حاصل ہے جو رب کریم نے آپ کو عطا فرمایا ہےاس میں کمی بیشی نہیں ہوسکتی-

شان رسالت جاننے کےلئے بس ہماری چھوٹی سی عقل میں یہی بات کافی ہے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وجہ کائنات ہیں، یہ کا ئنات اسی آقا کے صدقے اور وسیلے میں سجائی گئی ہے ، شمش وقمر کی ضیاءپاشی ،ارض وسماء کی فراخی یہ سب کے سب اسی کے عنایت اور سخاوت کا صدقہ ہے،اسی کی وجہ سے رب کریم نےہم پر اپنی انعامات کی بارشیں کررہاہے -
لہذا ہم ان کی شان کماحقہ بیان نہیں کرسکتے ہاں اتنا ضرور ہے کہ ہم اپنے نبی کی عظمت شان بیان کرکے اپنے قلب ونظر کو تسکین و تطہیر بخشتے ہیں ،آقا کی شان اتنی بڑی ہے کہ ہماری زبان اس قابل نہیں کہ اس کی عظمت پر لب کشائی کرے مگر پھر بھی ہم کرتے ہیں تاکہ ہماری زبان پاک ہوجاۓ-

شاعر ہمام الدین علاء تبریزی نےکہا! 

ہزار بار بشویم دہن ز مشک و گلاب 
ہنوز نام تو گفتن کمال بے ادبی است 

تو نبی کی شان بیاں کرنا نبی کی عظمت میں اضافہ نہیں کرتا مگر بیان کرنے والااس دنیا میں ضرور لائق تعظیم و تحسین اور آخرت میں مستحق شفاعت ہوجاتا ہے ،کیونکہ لفظ محمد جوکہ حمد سے ماخوذ جس کے معنی بہت زیادہ تعریفوں والا تو جس کا نام ہی تعریف کے تمام پہلوسے لبریز ہو تو ضرور اس کی شان بیان کرنے والے کو بھی اس کاکچھ حصہ مل جائے گا
ایک شاعر نے کہا !
نام محمد سے دلوں کو سرور ملتا ہے 
نگاہ فکر کو تازہ شعور ملتا ہے 
نصیب کیسا بھی ہو وسیلہ محمد کا دے کر
خدا سے جو بھی مانگو ضرور ملتاہے
آپ ہی کی شان ہےکہ آپ کی بعثت کی خوشخبری تمام انبیاء کرام نے دی ،خبر نہیں بلکہ اعلان کیا کہ محمد بن عبداللہ آنے والا ہیں ،جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں تشریف لائیں تو اس پر ایمان لانا تاکہ تم کامیاب ہوسکو
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاۓ تودنیا نے انقلاب کی لہر دیکھی کہ کیسے لوگوں نے اپنی زندگی تبدیل کرڈالی، کیسے دنیا آپ کی عظمت کا گرویدہ بن گئی ،کیسے لوگوں نے آپ کے شان میں قصیدے پڑھنے شروع کردیے ،کفروشرک کی تاریکی میں ڈوبی دنیا کیسے توبہ تائب ہوکر توحید کی روشنی میں آگئی ،باطل کیسے ناکام ونامراد ہوا ،معبودان باطلہ میں کیسے لرزہ طاری ہوگیا ،قیصروکسری کی طاقتیں کیسے کمزور پڑ گئی -
شان رسالت کا اندازہ اس طرح بھی لگایا جاسکتا ہے کہ دنیا میں کبھی کوئی ایسا انسان نہیں آیا جس کے ہر نقل وحرکت ،قول وفعل کو کیمرہ کی طرح محفوظ کیاہو ایسے زمانے میں جب کہ اس طرح کےکوئی اسباب و وسائل موجود نہیں تھے ،پھربھی صحابہ کرام نے آپ کے ہر عادت واطوار کو محفوظ کرلیا اس طور پرکہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےکسی کو درخت کی ٹہنی کے ذریعے کسی عمل کی طرف تو جہ دلائی تو صحابہ کرام نے اسی طرز پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو نقل فرمایا،
صحابہ کرام آپ کے زلہ ربائی (بقیہ ماندہ) چیز کو بھی سعادت سمجھتے تھے ،آپ کے وضو کا بچا ہوا پانی استعمال کرتے تھے، اس کو چہرے اور جسم پر ملا کرتے تھے 
یہ سب عشق رسول کی اعلی درجہ ہے آپ کے صاف وشفاف زندگی کی طرف واضح اشارہ ہے
یہ تو ادنی سی مثال ہے صحابہ کرام نے آپ کی خاطر جان ومال ہی نہیں بلکہ ہر طرح کی قربانیاں پیش کردی ،آپ کی شان ابتداۓ دنیائے سے لے کر اب تک اپنے اپنے انداز سے لوگ بیان کررہے ہیں ،لیکن آپ کی تعریف کی تکمیل تک کسی کی رسائی نہیں ہوئی 
سبھی نے شان رسالت کے ذریعے اپنے کمالات میں نکھار پیدا کیا ہے 
شاعروں نے اپنے شاعری کوآقا کی نسبت سے زینت بخشی ،
مصنفین نے اپنی تصانیف کو سیرت نبوی کی نسبت سے مزین کیا،
مؤرخین نے اپنی تاریخ کو تذکرۂ رسول سے آراستہ کیا 
گویا ہر فن کے لوگوں نے اپنے شکست خوردہ زبان وقلم کو آپ کی مدح سرائی کےصدقے تقویت و تحسین پہونچایا،
سینکڑوں کتابیں سیرت نبوی پر کئی جلدوں میں منصۂ شہود پر آگئی 
پر کوئی مصنف و مؤرخ اور شاعر یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اس نے عظمت رسول کا مکمل احاطہ کرلیاہو، کیونکہ یہ ان کے بس کی بات نہیں ہے کہ وہ رسول کی عظمت کا احاطہ کرسکے
ایک شاعر نے اپنی عاجزی کا اعتراف کرتے ہوۓ کہا!

تھکی ہے فکرِ رسا اور مدح باقی ہے
قلم ہے آبلہ پا اور مدح باقی ہے
تمام عمر لکھا اور مدح باقی ہے
”ورق تمام ہوا اور مدح باقی ہے

ایک شاعر نے کہا!
ما ان مدحت محمدا بمقالتی 
لکن مدحت مقالتی بمحمد 

کہ یہ نہیں ہوسکتا میں اپنی گفتگو کے ذریعے محمد کی شان بیان کروں
لیکن میں محمد کے ذریعے اپنے گفتگو کے حسن کو دوبالا کررہاہوں
  ہمیشہ دنیا کےتمام صحیح العقل والفکر انسان محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم گرامی بہت ادب واحترام سے لیتے رہے ہیں
یہ سب وہ چیز ہیں جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کےسچے نبی اور سید الانس والجن ہونے پر دلالت کرتی ہے
لہذا جو لوگ کلنک انسانیت ہیں ،جن کاذہن ودماغ بغض وعناد سے لبریز ہے،شقیق القلب وغلیظ القلب ہے انہیں شفیق القلب و رقیق القلب انسان کی بات اور زندگی کا اسوۂ حسنہ اور اقوال زریں کبھی سمجھ نہیں آۓ گی-
ارذل الانسان کو چاہیے تھا کہ وہ اشرف الانسان کے تابع ہوکر شریف بن جاۓ پر آج کا کچھ نالائق انسان یہ چاہتاہے کہ اشرف الانسان ارذل الانسان کے تابع ہوکر اس جیسا بن جاۓ نعوذ باللہ من ذالک 
جب کہ دستور یہ ہےکہ ارذل اشرف کے تابع ہو

جو لوگ ہمارے نبی کی شان میں گستاخی کرتے ہیں وہ خود ذلیل وخوار ہورہے ہیں اس کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی ہے -
نبی کی شان میں تنقیص کرنے کی کوشش آفتاب و ماہتاب کی روشنی میں تنقیص کرنے کےمثل ومترادف ہے جو کہ فضول اور خود کو مثل حمار کہلانے کی حماقت بھی ہے 
اس کی ایک اورمثال اس کتے کی سی ہے جو اس لیے بھونکتا ہے تاکہ چودہویں رات کی چاند تاریکی میں تبدیل ہوجاۓ جب کہ ایسا کبھی نہیں ہوتا
عربی کا مقولہ ہے
عواء الکلب لایظلم البدر 
کہ کتے کی بھونک چودہویں چاند کو بے نور نہیں کرتا
ان شاءاللہ یہ تمام لوگ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتے ہیں ،ان پر کیچڑ اچھالتے ہیں 
محبین رسول صلی اللہ علیہ کےلیے اسباب اذیت کی کوشش کرتے ہیں جلد کیفر کردار تک پہونچیں گے ،
یہ سب کے سب ذلیل وخوار ہوں گے ،ذلت ونکبت کا طوق ان کا مقدر بنے گا ان شاءاللہ