آخری درس 📖مفارقت ،احساس اور نصیحت🎤
-----------------------------------------------
✍🏻گل رضاراہی ارریاوی
ہجوم کیوں ہے زیادہ شراب خانے میں
فقط یہ بات کہ پیر مغاں ہے مرد خلیق
آج بتاریخ ١٤رجب المرجب ١٤٤٧ھ بروز اتوار حدیث کی مشہور ومعروف کتاب مشکوۃ شریف جلد اول کا آخری درس ہونا تھاجو نواسۂ شیخ الاسلام استاذ محترم حضرت مولانا ومفتی سید محمد عفان صاحب منصورپوری شیخ الحدیث و صدر المدرسین جامعہ اسلامیہ عربیہ جامع مسجد امروہہ کے متعلق تھی -
ہم احباب پورے ذوق وشوق ،حساس وبیداری، اشتیاق ودیدوری کے ساتھ وقت مقررہ پر شریک درسگاہ ہوۓ،آخری عبارت کے سلسلے میں دو احباب کے مابین گفت وشنید ہوئی ، بعض احباب کی رائے عثمان بھائی کی طرف غالب تھی ،
راقم نے مصالحت کی غرض سے عبارت کو دو حصے میں تقسیم کی گزارش کی پر وہ گزارش ہی رہی -
ترجمان صاحب نے حضرت الاستاذ سے خود مسحور کن، شریں آواز میں عبارت پڑھنے کی درخواست کی پر حضرت نے ہامی نہیں بھری ،
پھر ترجمان صاحب نےاپنے حق میں خیر سمجھتے ہوۓ خود آخری عبارت پڑھی-
حضرت استاذ محترم دامت برکاتہم العالیہ نے نہایت متانت وسنجیدگی کے ساتھ حسب معمول مختصر وضروری تشریحات کےساتھ دلنشیں طرزِ بیاں ادب و لطافت سے پر شریں بیانی، خوش کن و مسحور کن لب ولہجہ اور بہترین اسلوب القاء کے ساتھ مشکوۃ شریف جلد اول کا درس مکمل فرمایااورچند نصیحتیں فرمائی-
عزیرو!
اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم اور اس کا احسان کہ آج مشکوٰۃ شریف جلد اول کا یہ مجموعۂ احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم
میرے توسط سے پایۂ تکمیل کو پہونچی-
قرآن واحادیث منبع علم و حکمت ہے ،اس کے درس وتدریس کابنیادی مقصد یہ ہے کہ ہم اور آپ اپنی حیات مستعار کو اس نورانی سرچشمہ سے سیراب کرتے رہیں،ہماری زندگی حکم ربی فرمان آقاۓ مدنی کے مطابق گزر جاۓ،گویااس کی روشنی میں دارین سنور جاۓ -
آپ جد و جہد کوساری زندگی جاری رکھیں ،سنت نبوی کو اوڑھنا بچھونا بنالیں ،اس سے خود بھی استفادہ کریں اور دوسروں کو بھی موقع دیں -
درسی مفارقت کو دائمی مفارقت نہ سمجھیں ،ہمیشہ اپنے اساتذہ سے ربط وتعلق قائم رکھیں ،ان سے دینی و دنیوی امور میں مشورہ لیتے رہیں -
روز بروز دین کے لبادے میں نئےنئے فتنہ رونما ہورہے ہیں ،آپ اس کا شکار نہ ہونا؛بلکہ اس کا مقابلہ صبر وتحمل اور بے باکی کے ساتھ ڈٹ کر کرنا اور لوگوں کے سامنے وہ باتیں پیش کرنا جو جمہور اہل حق و
علماء دیوبند کانقطۂ نظر ہو ،دین کی اشاعت میں کوشش کرتے رہنا،خدمت دین کا جذبہ کبھی فروتر نہ ہونے دینا -
آپ کے پاس روایتی تعلیم کاایک سال اور باقی ہے ،کوشش یہ کرنا کہ آپ ازھر ہند ام المدارس دارالعلوم دیوبند جائیں اور وہاں کے ہمارے اساتذہ و اساطین علم وفضل سے کسب فیض کرنا،ان کی آغوش تربیت میں شب و روز گزار کر ظاہری وباطنی اصلاح کرنا، اگرچہ دارالعلوم سے ملحق تمام مدارس میں تعلیم یکساں ہیں مگر وہ اکابر واسلاف کےتوجہ کا محور و مرکز ہے ،دنیا جہاں اس کے فیضان کا معترف ہے-
کہنے کو تو!یہ چند نصیحت تھی مگر یہ باتیں یہ الفاظ ومعانی کا جامہ در حقیقت دریا بکوزہ کے مترداف ہے-
پھر حضرت الاستاذ نے رقت آمیز دعاکرائی جس میں جامعہ ہذا ودیگر دینی ادارے کےلیے سلامتی ،اکابر واسلاف و محدثین کےلیے ایصال ثواب کیا گیا، بطورِ خاص ہم خوشہ چینیوں کےلیے دعاکی اور دعا دی -
پھر فرط محبت ونم آنکھوں سے احباب نےمصافحہ کیا، دست بوسی کی، راقم عاصی نے بھی دو مرتبہ مصافحہ ودست بوسی کا شرف حاصل کیا-
پھر بھائی عثمان نے مدینہ کی عجوہ کھجور وآب زمزم سے حضرت الاستاذ کی ضیافت کی،استاذ جی نے اس کو شرف قبولیت عطاء فرمائی -
اس طرح تبسم وترنم ،تفضل وتفوق، تفکر و تدبر،تحمل وتوسع کا یہ زمزمہ ،اقلیم سخن کا شہنشاہ مسکراتے چہرے کے ساتھ ہمارے مابین سے رخصت پذیر ہوۓ-
احباب دیوانہ وار حضرت کے تبرکات ( کھجور وزم زم )سے لطف اندوز ہوۓ-
وقت کی برق رفتاری نے یہ محسوس نہیں ہونے دیا کہ آغاز سال اور آخر سال کے درمیان کچھ وقفہ بھی چھوڑ اہے،کیسے لمحہ دن میں ،دن ہفتہ میں، ہفتہ ماہ میں اورماہ سال میں تبدیل ہوگیا؟ پتہ نہیں چلا-
یہ کیفیت و لمحہ نہایت غمگیں مرحلہ ہے جو علمی ادبی ،شیفتگی ،شائستگی،تجربات ومشاہدات اور روحانی سلسلۂ فیضان کےانقطاع کی وجہ سے نمودار ہوا ہے-
الفاظ ومعانی ،زبان وبیان ،قلم و قرطاس اس طاری کیفیت کو خاص اسلوب القاء کے باوجود ترجمانی کرنے سے عاجز وقاصر ہے-
عقیدت ومحبت اور قدر ومنزلت کےحسین گلدستہ بھلے ہی ہمیشہ دل میں موجزن رہے گا؛ مگر روز وشب کی یہ سنہری کڑی ہردن علمی موتیوں کی لڑی ٹوٹ تو گئی جس کا کوئی ازالہ اور کوئی بدل نہیں -
یہ موقع یہ لمحہ یہ وقت یہ ساعت پھر کہاں میسر ہوں گے
سب ختم ہوگیا اور ہم مفارقت کا داغ لے کر اگلے ساعت کےلیے تیار ہوۓ