بدنظری ایک سنگین اخلاقی اور روحانی بیماری ہے۔
اسلام نے نگاہوں کی حفاظت پر بہت زیادہ زور دیا ہے۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے مومن مردوں اور عورتوں دونوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں۔
سورۂ نور میں یہ حکم صراحت کے ساتھ آیا ہے کہ نگاہ کی حفاظت پاکیزگی کا ذریعہ ہے۔
بدنظری دل کو آلودہ کر دیتی ہے۔
جب نظر خراب ہوتی ہے تو دل میں غلط خیالات پیدا ہوتے ہیں۔
غلط خیالات آہستہ آہستہ گناہ کی طرف لے جاتے ہیں۔
بدنظری شیطان کے تیروں میں سے ایک زہریلا تیر ہے۔
حدیثِ پاک میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ نظر زنا کرتی ہے۔
آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے۔
بدنظری ایمان کی کمزوری کی علامت ہے۔
جو شخص اپنی نگاہ کی حفاظت نہیں کرتا، اس کا دل سخت ہو جاتا ہے۔
دل کی سختی عبادت میں سستی پیدا کرتی ہے۔
بدنظری نماز کی لذت کو ختم کر دیتی ہے۔
قرآن کی تلاوت میں دل نہیں لگتا۔
بدنظری سے حیا ختم ہو جاتی ہے۔
حیا ایمان کا اہم حصہ ہے، جیسا کہ حدیث میں فرمایا گیا۔
جب حیا ختم ہوتی ہے تو انسان ہر برائی پر دلیر ہو جاتا ہے۔
بدنظری خاندانوں کی بربادی کا سبب بنتی ہے۔
اس سے میاں بیوی کے درمیان بدگمانی پیدا ہوتی ہے۔
بدنظری معاشرے میں فحاشی کو عام کرتی ہے۔
یہ گناہ دوسرے گناہوں کی طرف راستہ کھول دیتا ہے۔
بدنظری نوجوانوں کے اخلاق کو تباہ کر دیتی ہے۔
یہ ذہنی پریشانی اور بے سکونی کا سبب بنتی ہے۔
بدنظری سے دل میں حسرت اور مایوسی پیدا ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ کی ناراضی بدنظری کا سب سے بڑا نقصان ہے۔
حدیث میں آتا ہے کہ جو شخص اپنی نظر کی حفاظت کرتا ہے، اللہ اسے ایمان کی حلاوت عطا فرماتا ہے۔
بدنظری انسان کو اللہ کی رحمت سے دور کر دیتی ہے۔
اس سے دعا کی قبولیت میں رکاوٹ آتی ہے۔
بدنظری گناہوں کی عادت بنا دیتی ہے۔
عادت بن جانے کے بعد چھوڑنا مشکل ہو جاتا ہے۔
یہ گناہ تنہائی میں بھی انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتا۔
بدنظری سے دل میں گندگی جمع ہو جاتی ہے۔
دل گندا ہو تو اعمال بھی خراب ہو جاتے ہیں۔
قرآن ہمیں پاکیزہ زندگی اختیار کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔
پاکیزگی نگاہ کی حفاظت سے شروع ہوتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ خود اپنی نگاہ کی بہت حفاظت فرماتے تھے۔
آپ ﷺ نے صحابہؓ کو بھی یہی نصیحت فرمائی۔
بدنظری سے بچنے والا شخص اللہ کے قریب ہو جاتا ہے۔
نگاہ کی حفاظت تقویٰ کی علامت ہے۔
تقویٰ انسان کو ہر برائی سے بچاتا ہے۔
بدنظری دنیا و آخرت دونوں میں نقصان دہ ہے۔
آخرت میں اس گناہ پر سخت پکڑ ہو سکتی ہے۔
اس لیے مومن کو ہمیشہ محتاط رہنا چاہیے۔
بازار، راستے اور موبائل کے استعمال میں بھی نظر کی حفاظت ضروری ہے۔
آج کے دور میں بدنظری کے اسباب زیادہ ہو گئے ہیں۔
اسی لیے احتیاط کی ضرورت بھی زیادہ ہے۔
قرآن و حدیث کی تعلیمات آج بھی مکمل رہنمائی کرتی ہیں۔
بدنظری سے بچنے کے لیے اللہ سے مدد مانگنی چاہیے۔
کثرت سے استغفار کرنا دل کو پاک کرتا ہے۔
نیک صحبت اختیار کرنا بدنظری سے بچاتا ہے۔
فحش چیزوں سے دور رہنا ضروری ہے۔
نگاہ کی حفاظت سے دل کو سکون ملتا ہے۔
دل میں نورِ ایمان بڑھتا ہے۔
عبادت میں خشوع پیدا ہوتا ہے۔
اللہ کی محبت نصیب ہوتی ہے۔
بدنظری چھوڑنا مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔
جو اللہ کے لیے چھوڑتا ہے، اللہ اسے بہتر عطا فرماتا ہے۔
کامیاب مومن وہی ہے جو اپنی نگاہ کی حفاظت کرے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں بدنظری سے بچنے اور پاکیزہ زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

مفتی صادق امین قاسمی