محترم قارئین!!

حقیقت کے اس پہلو سے کسی کو انکار نہیں کہ اقوامِ عالم کو عروج و زوال پیش آتا رہتا ہے ، تاریخِ اسلام نے بھی ترقی و تنزلی کا دور دیکھا ہے، البتہ فی الوقت امتِ مسلمہ کو جن مشکلات کا سامنا ہے، امت جن حالات سے دو چار ہے، بین الاقوامی سطح پر امت جن کشیدگیوں کا شکار ہے،اس کا حل بہ ظاہر دور دور تک کہیں نظر نہیں آرہا ہے ،چہار جانب یہی مشہور ہے کہ مسلم قوم پستی کا شکار ہے اور روز افزوں اس کا معیار گھٹتا ہی جارہا ہے، سامراجی طاقتوں نے مسلمانوں کے تعلیمی ،سیاسی اور اقتصادی معاملات میں دخل اندازی کرکے عالمِ اسلام کو کشمکش میں مبتلا کر رکھا ہے ان کا رویہ یہ ہے کہ اولاً ہمیں زخم دیتے ہیں اور ثانیاً ہمدردی کو آتے ہیں ۔

        عالم اسلام کو جن حالات میں جکڑا گیا ہے یہ کوئی ایک اتفاقی حادثہ نہیں ہے، بلکہ صہیونیت و صلیبیت کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے جس کی بنیاد کئی عرصہ پہلے رکھ دی گئی تھی، دوسری جنگ عظیم کے بعد جب اسلامی ممالک کا اتحاد پاش پاش ہوگیا اور وہ مختلف وطنی، نسلی اور لسانی افتراقات کی شکار ہوکر انتشار میں مبتلا ہوگئے تو پورپ و امریکہ نے آگے بڑھ کر ان کی مدد کی،انہیں نام نہاد آزادی دلائی اس سے ان کا مقصد صرف یہ تھا کہ ان کو قابو میں لاکر عالم اسلام کو تباہ وبرباد کردیا جائے، اور یہ نادان سمجھنے لگے کہ یہ ان کے ہمنوا ہیں، تاریخ شاہد ہے کہ پورپی اقوام نے طرح طرح کی حیلہ بازیوں کے ذریعہ ان کو نہ صرف اپنا ذہنی غلام بنایا ہے بلکہ بظاہر یہ اسلامی سلطنت کے سربراہ کہلاتے ہیں لیکن ان کے شب و روز مغربی مقاصد کی تکمیل میں صرف ہوتے ہیں۔

      ان کی سازشوں کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اسلامی بنیادوں کو کمزور کرنے کے لیے تین جہت سے اپنا شکار بنایا ،اولاً نئی نسل کے سامنے اسلامی تعلیمات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا ، عصبیت پر مشتمل ایسے نصاب تعلیم کی ترویج کی جس کے پڑھنے والے ظاہراً تو مسلمان رہے لیکن اسلامی روحانیت سے تہی دامن تھے، سوشلزم کمیونزم،لبرلزم،نیشنلزم،فیمینازم جیسے نظریات کو اسلامی موقف کے بالمقابل پیش کرکے عام کیا گیا ،انہیں یہ یقین دلایا گیا کہ اسلامی تعلیمات ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں، نتیجتاً آج نوجوانوں کی بڑی تعداد مغربی افکار کے شکار ہے، ثانیاً ان کی بری نظر مسلمانوں کے معاش پر گئی کہ معاشی طور پر انہیں طرح طرح کے معاہدات میں جکڑ کے ایسا مفلوج کردیا گیا کہ اسباب کی فراوانی کے باوجود یہ ان کے دستخط کے منتظر رہتے ہیں، اس طرح یہ اسلامی تجارت کو فروغ دینے سے اسلامی یونیورسٹیاں قائم کرنے سے قاصر ہیں اور غیر شرعی طریقے پر معاملات کرنے پر مجبور ہیں، ثالثاً ان کے سیاسی حالات میں مداخلت کی گئی اسلامی ممالک کے مابین تناؤ پیدا کیا گیا ،کویت، قطر سعودی، ایران ،عمان جیسے ممالک کو آپس میں ایک دوسرے کا مدمقابل بنادیا گیا کہ ایک کو دوسری کی قیادت منظور نہیں اور جن ملکوں نے ان کی خواہشات کی تکمیل سے انکار کیا وہاں تختہ پلٹ کر دیا گیا، رہ جاتی ہے بات ہند و پاک کی تو دونوں جگہ مسلم قوم ابھی تک اپنے مذہبی اختلافات سے باہر ہی نہیں آپائی ہے کہ دیگر اہم امور کی طرف توجہ کرپائے ، نسل نو کی تعلیم وترقی کو مقصد بنائے، اپنی کھوئی ہوئی برتری کو حاصل کرسکے ۔

ظاہر ہے کہ جب امت اندرونی اور خارجی دونوں اعتبار سے اختلافات کا شکار ہو تو کس طرح یہ ایک پلیٹ فارم پہ جمع ہوسکتی ہے،بلکہ حقیقت یہ ہے کہ امت نے (واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا) کے پیغام کو فراموش کردیا ہے ،نتیجہ یہ کہ امت سیاسی, اقتصادی ,تعلیمی تہذیبی و ثقافتی ؛تمام مسائل میں کشمکش کا شکار ہے، لیکن کوئی ملاح نہیں ہے جو اس کشتی کو کنارے لگائے ۔