تقویٰ کی اہمیت قرآن و سنت کی روشنی میں
✍🏻از قلم محمد عادل ارریاوی
______________________________
محترم قارئین تقوی اسلام کی بنیادوں میں سے ایک اہم بنیاد ہے جس کے بغیر ایمان کی حفاظت اور اعمال کی درستگی ممکن نہیں قرآن کریم نے بار بار تقویٰ کی طرف توجہ دلائی ہے اور اسے ہدایت سکون قلب اور اللہ کی محبت کا ذریعہ قرار دیا ہے قرآن کریم اور احادیثِ نبویہ میں تقویٰ کی غیر معمولی اہمیت اور عظمت کو بار بار بیان کیا گیا ہے قرآن کریم میں جگہ جگہ اللہ تعالیٰ کا خوف خشیت اور پرہیزگاری کا ذکر ملتا ہے بلکہ شاید ہی کوئی سورت ایسی ہو جس میں تقویٰ اور خوفِ خدا کی طرف توجہ نہ دلائی گئی ہو حقیقت یہ ہے کہ تقویٰ ہی انسان کے لیے گناہوں سے بچنے کا مضبوط ذریعہ ہے جب انسان رات کی تنہائی میں ہو کوئی دیکھنے والا موجود نہ ہو تو اسی وقت اللہ کا خوف اسے معصیت سے روکتا ہے شریعت کی اصطلاح میں تقویٰ کے دو بنیادی مفہوم بیان کیے جاتے ہیں ایک ڈرنا اور دوسرا بچنا غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل مقصد بچنا ہی ہے یعنی گناہوں سے محفوظ رہنا اور اس کا سبب دل میں اللہ کا خوف ہونا ہے کیونکہ جب کسی چیز کا خوف دل میں پیدا ہو جائے تو انسان لازماً اس سے بچنے کی کوشش کرتا ہے اس اعتبار سے تقوی کا مفہوم یہ ہوا کہ انسان ظاہر و باطن کے تمام گناہوں سے اجتناب کرے اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب وہ ممنوعات سے بچے اور اللہ کے احکام کو پورا کرے کیونکہ جن کاموں کا حکم دیا گیا ہے انہیں چھوڑ دینا بھی گناہ ہے لہٰذا ضروری ہے کہ تمام معاصی سے بچا جائے اور فرائض و واجبات کی ادائیگی کی بھرپور کوشش کی جائے خاص طور پر آنکھ کان زبان اور ذہن ان چاروں اعضاء کی حفاظت نہایت ضروری ہے ان کا غلط استعمال انسان کو بہت سی خرابیوں میں مبتلا کر دیتا ہے یہ چاروں علم کے دروازے ہیں اور انہی کے ذریعے علم کا نور دل میں داخل ہوتا ہے اگر یہ ذرائع آلودہ ہو جائیں تو وہ نور جو اللہ کی معرفت اور اس سے تعلق کا ذریعہ بنتا ہے دل میں داخل نہیں ہو پاتا اور نہ ہی علم صحیح طریقے سے محفوظ رہتا ہے اس لیے لازم ہے کہ انسان ان اعضاء کو پاکیزہ رکھے۔
جو شخص تقویٰ کو اپنا شعار بنا لیتا ہے اللہ تعالیٰ اسے قرآن کریم سے حقیقی فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرماتا ہے ایسے انسان کو قرآن کی تلاوت اس کے ترجمے اور معانی کو سمجھنے کا شوق اور سعادت نصیب ہوتی ہے قرآن کریم کے آغاز ہی میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں الم ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ (البقرہ 1) یعنی یہ وہ عظیم کتاب ہے جس میں کسی قسم کا شک نہیں اور یہ مکمل ہدایت ہے ان لوگوں کے لیے جو تقوی اختیار کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کی ہر بات یقینی اور حق ہے انسان کی لکھی ہوئی کوئی بھی کتاب شک و خطا سے مکمل طور پر پاک نہیں ہو سکتی کیونکہ انسان کا علم محدود ہوتا ہے اور اس کی تحریر اکثر ذاتی فہم اور اندازے پر مبنی ہوتی ہے لیکن چونکہ قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے جس کا علم لامحدود اور یقینی ہے اس لیے اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں اگر کسی کو شبہ ہو تو وہ اس کی اپنی کم فہمی کا نتیجہ ہے کتاب میں کوئی نقص نہیں۔ اگرچہ قرآن کریم نے ہدایت کا راستہ ہر انسان کے سامنے واضح کر دیا ہے چاہے وہ مومن ہو یا کافر لیکن عملی فائدہ صرف انہی لوگوں کو حاصل ہوتا ہے جو اس پر ایمان لا کر اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں اسی لیے فرمایا گیا کہ یہ ہدایت ہے متقیوں کے لیے یعنی ان لوگوں کے لیے جو بن دیکھے حقائق پر ایمان رکھتے ہیں اور اللہ سے ڈرتے ہیں پرہیزگاری کا مطلب یہ ہے کہ انسان ہر وقت اس بات کو ذہن میں رکھے کہ ایک دن اسے اللہ کے سامنے اپنے اعمال کا حساب دینا ہے اس لیے کوئی ایسا کام نہ کرے جو اللہ کی ناراضی کا سبب بنے اسی مستقل احساس اور خوف کو تقویٰ کہا جاتا ہے۔ جو شخص تقویٰ کی زندگی اپناتا ہے اسے اللہ تعالیٰ کی محبت نصیب ہوتی ہے اللہ نیک بندوں سے محبت فرماتا ہے اور نیک بندے اللہ سے محبت کرتے ہیں قرآن کریم میں ارشاد ہے فَإِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ (آل عمران ۷۶) یعنی یقیناً اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں سے محبت کرتا ہے۔
آج کا ناسمجھ انسان کسی دوشیزہ کو دیکھ کر خوش ہو جاتا ہے دل میں خیالات بٹھا لیتا ہے اس کی تصویریں موبائل میں محفوظ کر لیتا ہے اور دوسروں کو دکھا کر فخر محسوس کرتا ہے اے اللہ کے نادان بندے تو نے مخلوق کے حسن کو دیکھا اور اس پر فریفتہ ہو گیا مگر کبھی یہ نہ سوچا کہ جس نے یہ حسن بنایا ہے وہ کتنا حسین ہوگا حالانکہ یہ ظاہری خوبصورتی عارضی ہے چند دن کی بیماری آ جائے تو سارا حسن ماند پڑ جاتا ہے اگر کوئی جلدی مرض لاحق ہو جائے تو ساری دلکشی ختم ہو جاتی ہے
آج انسان کی پریشانی کی اصل وجہ دل کا بے سکون ہونا ہے قرآن کہتا ہے
اَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ یاد رکھو دلوں کا سکون صرف اللہ کے ذکر میں ہے تقویٰ کے اندر ہی حقیقی اطمینان پوشیدہ ہے اور اطمینانِ قلب ایک ایسی عظیم نعمت ہے جسے دنیا کی کوئی دولت خرید نہیں سکتی مادہ پرستی کی دوڑ میں انسان سکون کے لیے تڑپ رہا ہے حالانکہ اس نعمت کو پانے کا سب سے آسان راستہ اللہ سے مضبوط تعلق اور اس کی یاد کو دل میں بسانا ہے۔ آج کا انسان یہ سمجھ بیٹھا ہے کہ فلاں چیز مل جائے تو سکون مل جائے گا حالانکہ تمام لذتوں سے بڑھ کر لذت اللہ کی یاد میں ہے اللہ کے ذکر سے زیادہ کسی چیز میں راحت نہیں۔ مختصر یہ کہ جو شخص تقویٰ اختیار کرتا ہے اسے اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل ہو جاتی ہے مولانا رومی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب اللہ کا نام میری زبان سے نکلتا ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے میرے وجود کا ہر ذرہ شہد کے دریا میں ڈوب گیا ہو۔ اب سوال یہ ہے کہ دل میں اللہ کی محبت اس درجے تک کیسے پہنچے کہ وہ سب محبتوں پر غالب ہو جائے؟ اگر اللہ کی محبت سب سے زیادہ نہ ہوئی تو یاد رکھیے کہ ہم اللہ کے مکمل فرماں بردار نہیں بن سکتے اس لیے کہ جب انسان کو اپنا دل زیادہ عزیز ہو جاتا ہے تو جہاں دل کو تکلیف محسوس ہوتی ہے وہاں وہ اللہ کے حکم کو توڑ دیتا ہے مثال کے طور پر کوئی حسین منظر سامنے آ گیا دل چاہتا ہے اسے دیکھے اگر نہ دیکھے تو دل کو تکلیف ہوتی ہے اگر اللہ زیادہ محبوب ہے تو انسان دل کی خواہش کو قربان کر دے گا اور اللہ کو راضی کرے گا لیکن اگر دل کی محبت غالب ہو جائے اور اللہ کی محبت کمزور ہو تو پھر دل ہی محبوب بن جاتا ہے اور ایسی حالت میں انسان گناہوں سے خود کو نہیں بچا سکتا۔ لہٰذا گناہوں سے محفوظ رہنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت سب سے زیادہ سب پر غالب اور سب سے شدید ہونا ضروری ہے۔
اے اللہ ربّ العزت ہمیں تقویٰ نصیب فرما ہمیں ہر حال میں اپنا خوف عطا کر اور اپنی رضا کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق دے آمین یارب العالمین ۔