حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم قبا سے مدینہ منورہ پہنچے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے قریشی لشکر سے مقابلے کے سلسلے میں مشورہ کیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے یہ تھی کہ قریش پر شہر سے باہر حملہ کرنے کے بجائے شہر میں رہ کر اپنا دفاع کیا جائے،چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"اگر تمہاری رائے ہو تو تم مدینہ منورہ میں رہ کر ہی مقابلہ کرو،ان لوگوں کو وہیں رہنے دو،جہاں وہ ہیں ،اگر وہ وہاں پڑے رہتے ہیں تو وہ جگہ ان کے لیے بدترین ثابت ہوگی اور اگر ان لوگوں نے شہر میں آ کر ہم پر حملہ کیا تو ہم شہر میں ان سے جنگ کریں گے اور شہر کے پیچ و خم کو ہم ان سے زیادہ جانتے ہیں -"
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو رائے دی تھی،تمام بڑے صحابہ کرام کی بھی وہی رائے تھی-منافقوں کے سردار عبداللہ ابن اُبی نے بھی یہی مشورہ دیا-یہ شخص ظاہر میں مسلمان تھا اور اپنے لوگوں کا سردار تھا-
دوسری طرف کچھ پرجوش نوجوان صحابہ اور پختہ عمر کے صحابہ یہ چاہتے تھے کہ شہر سے نکل کر دشمن کا مقابلہ کیا جائے-یہ مشورہ دینے والوں میں زیادہ وہ لوگ تھے جو غزوہ بدر میں شریک نہیں ہوسکے تھے اور انہیں اس کا بہت افسوس تھا-وہ اپنے دلوں کے ارمان نکالنا چاہتے تھے،چنانچہ ان لوگوں نے کہا:
"ہمیں ساتھ لے کر دشمنوں کے مقابلے کے لیے باہر چلیں تاکہ وہ ہمیں کمزور اور بزدل نہ سمجھیں ،ورنہ ان کے حوصلے بہت بڑھ جائیں گے اور ہم تو یہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ وہ ہمیں دھکیلتے ہوئے ہمارے گھروں میں گھس آئیں اور اے اللہ کے رسول!جو شخص بھی ہمارے علاقے میں آیا،ہم سے شکست کھاکر گیا ہے،اب تو آپ ہمارے درمیان موجود ہیں ،اب دشمن سے کیسے ہم پر غالب آسکتا ہے؟"
حضرت حمزہ رضی االلہ عنہ نے بھی ان کی تائید کی-آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بات مان لی- پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کی نماز پڑھائی اور لوگوں کے سامنے وعظ فرمایا-انہیں حکم دیا:
" مسلمانو! پوری تن دہی اور ہمت کے ساتھ جنگ کرنا،اگر تم لوگوں نے صبر سے کام لیا تو اللہ تعالیٰ تمہیں فتح اور کامرانی عطا فرمائیں گے،اب دشمن کے سامنے جاکر لڑنے کی تیاری کرو-"
لوگ یہ حکم سن کر خوش ہوگئے-اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کے ساتھ عصر کی نماز پڑھی-اس وقت تک ارد گرد سے بھی لوگ آگئے تھے- پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ گھر میں تشریف لے گئے-ان دونوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر پر عمامہ باندھا اور جنگی لباس پہنایا-باہر لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے اور صفیں باندھے کھڑے تھے-
اس وقت حضرت سعد بن معاذ اور حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہما نے مسلمانوں سے کہا:
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی شہر میں رہ کر لڑنے کی تھی،تم لوگوں نے انہیں باہر نکل کر لڑنے پر مجبور کیا...بہتر ہوگا،تم اب بھی اس معاملے کو ان پر چھوڑ دو-حضورصلی اللہ علیہ وسلم جو بھی حکم دیں گے،ان کی جو بھی رائے ہوگی،بھلائی اسی میں ہوگی،اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمابرداری کرو-"
باہر یہ بات ہورہی تھی،اتنے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے آئے-آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگی لباس پہن رکھا تھا،دوہری زرہ پہن رکھی تھی- ان زرہوں کا نام ذات الفضول اور فضہ تھا-یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بنی قینقاع سے مال غنیمت سے ملی تھیں -
ان میں سے ذات الفضول وہ ذرہ ہے کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو یہ ایک یہودی کے پاس رہن رکھی ہوئی تھی،حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یہودی کی رقم ادا کرکے اسے واپس لیا تھا- زرہیں آپ صلی للہ علیہ وسلم نے لباس کے اوپر پہن رکھی تھیں -اس وقت ان نوجوانوں نے عرض کیا:
"اللہ کے رسول!ہمارا مقصد یہ نہیں تھا کہ آپ کی رائے کی مخالفت کریں یا آپ کو مجبور کریں ،لہٰذا آپ جو مناسب سمجھیں ،وہ کریں -"
اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"اب میں ہتھیار لگا چکا ہوں اور کسی نبی کے لیے ہتھیار لگانے کے بعد ان کا اتار دینا اس وقت تک جائز نہیں جب تک کہ اللہ تعالی اس کے اور دشمنوں کے درمیان فیصلہ فرمادے-"
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر تین پرچم بنوائے-ایک پرچم قبیلہ اوس کا تھا-یہ حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تھا-دوسرا پرچم مہاجرین کا تھا،یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ یا حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تھا-تیسرا پرچم قبیلہ خزرج کا تھا،یہ حباب بن منذر رضی اللہ عنہ یا حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں تھا-
اس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہزار کا لشکر لے کر روانہ ہوئے-لشکر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے سعد بن معاذ اور سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہما چل رہے تھے-یہ دونوں قبیلہ اوس اور خزرج کے سردار تھے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں ایک نابینا صحابی حضرت عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو اپنا قائم مقام مقرر فرمایا،مدینہ منورہ سے کوچ کرکے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ثنیہ کے مقام پر پہنچے- پھر یہاں سے روانہ ہوکر شیخین کے مقام پر پہنچے، شیخین دو پہاڑوں کا نام تھا-یہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر کا معائنہ فرمایا اور کم عمر نوجوانوں کو واپس بھیج دیا-یہ ایسے نوجوان تھے جو ابھی پندرہ سال کے نہیں ہوئے تھے-ان کم سن مجاہدوں میں رافع بن خدیج اور سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہما بھی تھے، لیکن پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت رافع رضی اللہ عنہ کو جنگ میں حصہ لینے کی اجازت دے دی-یہ دیکھ کر حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے کہا:
"آپ نے رافع کو اجازت دے دی جب کہ مجھے واپس جانے کا حکم فرمایا،حالانکہ میں رافع سے زیادہ طاقت ور ہوں -"
اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"اچھا تو پھر تم دونوں میں کشتی ہوجائے-"
دونوں میں کشتی کا مقابلہ ہوا،سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کو پچھاڑ دیا-اس طرح انہیں بھی جنگ میں حصہ لینے کی اجازت ہوگئی-
آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوج کے معائنے سے فارغ ہوئے تو سورج غروب ہوگیا-حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے اذان دی-آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی- پھر عشاء کی نماز ادا کی گئی-نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم آرام فرمانے کے لیے لیٹ گئے-رات کے وقت پہرہ دینے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچاس مجاہدوں کو مقرر کیا-ان کا سالار حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو مقرر فرمایا-یہ تمام رات اسلامی لشکر کے گرد پہرہ دیتے رہے-رات کے آخری حصے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شیخین سے کوچ فرمایا اور صبح کی نماز کے وقت احد پہاڑ کے قریب پہنچ گئے۔☆