شعبان المعظم اسلامی سال کا ایک بابرکت اور عظمت والا مہینہ ہے۔
یہ مہینہ رجب اور رمضان کے درمیان واقع ہے اور دونوں عظیم مہینوں کے درمیان ایک خاص حیثیت رکھتا ہے۔
نبی کریم ﷺ اس مہینے کی بہت زیادہ تعظیم فرمایا کرتے تھے۔
شعبان وہ مہینہ ہے جس میں رمضان المبارک کی تیاری کی جاتی ہے۔
قرآنِ مجید میں براہِ راست شعبان کا نام نہیں آیا،
لیکن بعض مفسرین کے نزدیک سورۂ دخان میں مذکور “لیلۃ مبارکہ” کی تفسیر میں شعبان کی پندرہویں رات کا ذکر ملتا ہے۔
اگرچہ جمہور علماء کے نزدیک لیلۃ القدر رمضان میں ہے،
تاہم شعبان کی پندرہویں رات کی فضیلت احادیث سے ثابت ہے۔
حدیث شریف میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ شعبان میں کثرت سے روزے رکھا کرتے تھے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ
میں نے نبی ﷺ کو رمضان کے علاوہ کسی مہینے میں اتنے زیادہ روزے رکھتے نہیں دیکھا جتنے شعبان میں رکھتے تھے۔
آپ ﷺ پورا شعبان روزوں میں گزار دیتے تھے سوائے چند دنوں کے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شعبان کے روزے بڑی فضیلت رکھتے ہیں۔
ایک حدیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا
یہ شعبان وہ مہینہ ہے جس سے لوگ غافل رہتے ہیں،
حالانکہ اسی مہینے میں اعمال اللہ رب العزت کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں۔
آپ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے پسند ہے
کہ میرے اعمال اس حال میں پیش ہوں کہ میں روزے سے ہوں۔
شعبان کی پندرہویں رات کو “شبِ برات” کہا جاتا ہے۔
احادیث میں آیا ہے کہ اس رات اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق پر خاص رحمت نازل فرماتا ہے۔
اس رات بے شمار گناہ گاروں کی مغفرت فرمائی جاتی ہے۔
مگر بعض لوگ جیسے کینہ رکھنے والا اور مشرک
اس عظیم مغفرت سے محروم رہتے ہیں۔
یہ رات توبہ، استغفار اور اللہ کی طرف رجوع کرنے کی رات ہے۔
اس رات عبادت کرنا، نفل نماز پڑھنا، دعا مانگنا مستحب ہے۔
شعبان میں زیادہ سے زیادہ درود شریف پڑھنا چاہیے۔
قرآنِ کریم کی تلاوت کا اہتمام کرنا چاہیے۔
رمضان کی تیاری کے لیے اپنے دل کو صاف کرنا چاہیے۔
شعبان ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ
رمضان اچانک نہیں آتا بلکہ تیاری کے ساتھ آتا ہے۔
جو شخص شعبان میں عبادت کا عادی بن جائے
اس کے لیے رمضان کی عبادت آسان ہو جاتی ہے۔
اس مہینے میں گناہوں سے بچنے کی خاص کوشش کرنی چاہیے۔
حقوق العباد کی ادائیگی کی فکر کرنی چاہیے۔

مفتی صادق امین قاسمی