اس سال کیا پایا اور کیا کھویا ؟؟

از قلم :ریاض بگٹی 

 وقت کی روانی کسی دریا کے مثل ہوتی ہے جس میں لمحے ریت کے ذروں کے مانند بہہ جاتے ہیں ،ہر گزرتا سال ہمیں کچھ دیتا ہے تو سینکڑوں چیزیں چھین بھی لیتا ہے ،یہ لینا دینا ہی حیات چند روزہ کی حقیقت ہے ،
یہ سال "2025"ایک ایسا سال تھا جس میں بہت سے امتحانوں سے گزر ہوئ ، تو کچھ خواب مکمل ہوے اور بے شمار تمنائیں حسرت کی خلعت اوڑھ کر رہ گئیں ،اگر ہم اس سال کی بلند چوٹی پر کھڑے ہوکر نگاہ ڈالیں تو ہمیں کچھ خواب اور لاتعداد تلخ یادیں قطار در قطار نظر آئیں گئ ـ
اس سال ہم نے کئی انمول چہرے کھو دیئے اور کچھ قریبی دوست یا پھر قوم کے وہ چراغ جو ہمیشہ کےلئے زیست کے دروازہ کھٹکھٹا کر گئے ،کچھ ایسے خواب جو کاش کے دامن سے چمٹ کر گوشہ نشین ہوئے ،اور بہت سے ایسے اہل علم کھو بیٹھے جو اب شائد کہ صرف کتابوں میں ملیں ـ
اور ہم نے قومی اور سماجی سطح پر اپنے اندر کا وہ انسان کھودیا جو دکھ سہہ کر معاف کر سکتا تھا ،جو بلا غرض کسی سے ہنس کر مل سکتا تھا ،جو معاشرے کے ظلم و ستم جھیل کر اپنی اناؤوں کی قربانی دے سکتا تھا ،اور ایسے جوان کھو دیئے جو کفار کے صفوں کو شکن کرتا تھا،
اس کے علاوہ سیاسی نعروں کے تحت ہم اخلاقیات کھو بیٹھے ،ثقافت و کلچر کے
 نام سے منعقد ہونے ہونے والے پروگراموں سے حیاء کے دامن سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ،اور بعض نے تو سائنس و ٹیکنالوجی میں اس قدر ترقی کی کہ انہی کو ہی مؤثر حقیقی کہنے سے ایمان بھی گنوا کر رہ گئے(العیاذ باللہ)ـ
لیکن کچھ کھونے کے ساتھ پالینا بھی زندگی کی ہی فطرت ہے،
اتنی خامیوں اور ناکامیوں کے باوجود بھی اس سال نے ہمیں صبر و تحمل کا درس دے کر یہ سکھایا'کہ معاشرے کے بھی ظلم و جبر جاری رہیں گے لیکن آپ ہمت نہ ہارنا ، دشمن بھی دین و ملت پر حملہ آور ہونگیں لیکن آپ بنیان مرصوص کا عملی نقشہ پیش کرناـ
اس کے علاوہ اس سال نے نوجوانوں کو نئی راہیں دی،اور جہد مسلسل کا بھی جذبہ عطاء کر گیا 'کہ یہی دستور حیات ہے کہ انسان گر کر سنبھلتا ہے پھر اٹھ کر بسوء منزل رواں دواں ہوتا ہے ،اس کے ساتھ ساتھ نوجوانوں نے تعلیم و ہنر مندی کے میدان میں بھی اچھے رتبے پالئے ،خاص کر مدارس کے طلباء نے کہ جنہوں نے مختلف عالمی مقابلوں میں پوزیشنیں لے کر ملک و ملت کے نام کو بلند کیا ـ
بذاتہ میرے لئے یہ سال رفتگاں گزرے ہوئے تمام سالوں سے بہتر تھا، کہ میں نے قلم کے میدان میں اپنی ناکام کوششوں سے بہت کچھ سیکھ لیا ،نئی کتابیں ملئ، کتب بینی کی شوق نے 
فراغت کے لمحوں کو لذت بخشی
 
بہر حال یہ سال ہمارے زندگی پر مزید کچھ نشانات چھوڑ گیا ،جن کو دیکھ کر انسان حسرت کی آئیں بھی بھر سکتا اور اپنے مقصد کے حصول میں بھی لگ سکتا ہے ،
یہ سال دراصل ہمیں زندگی کی حقیقت سمجھا کر گیا 'کہ سال گزرتا ہے کسی کو پتہ بھی نہیں چلتا حتیٰ کی آخری دن سب کی زبان یہ کہنے پے مجبور ہوتی کہ "یار کل کی بات تو ہے "اسی طرح یہ زندگی بھی جب کہولت کی منزل کو پہنچ جائے گی ،تب ہمارے لئے ہاے اور افسوس کے سوا کچھ بھی نہیں ہوگا ـ
آو آج عہد کریں ! کہ آنے والے سال میں وہ کریں گے جو ہمارے اور ہمارے معاشرے اور ملت اسلامیہ کےلئے بہتر ہو ،جو قوم کے بچوں کے لئے بیداری کا سبب ہو ،جو نوجوانوں کو دین کی طرف بلانے کا ذریعہ ہو ،جو غزہ کے بے گھر اور اعضاء سے محروم چہروں پر مسکراہٹ کا سبب ہو ،جو امت مسلمہ کی حالت زار کو دور کرنے کا وسیلہ ہو ــ
لیکن اگر اس سال بھی غافل رہے اور یہ سال بھی موج و مستی میں گزار دی تو آئندہ کل کی سختی و درشتی کے لیے اپنے آپ کو تیار رکھنا ـ
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں وقت کی ضیاع سے محفوظ رکھے آمین یا رب العالمین