تقدیر کا مسئلہ: فکری الجھن یا ایمانی بصیرت؟
مضمون 65. بسم اللہ الرحمن الرحیم
تقدیر پر ایمان اسلامی عقیدے کی اساسات میں سے ہے۔
اگرچہ یہ مسئلہ انسانی عقل کے لیے دقیق اور فکر کو الجھانے والا محسوس ہوتا ہے، مگر وحیِ الٰہی کی روشنی میں یہ حقیقت پوری وضاحت کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ تقدیر، اللہ کے علمِ کامل کا نام ہے، نہ کہ انسان کے اختیار کی نفی۔ اسی فکری توازن کو سمجھنا ایمان کی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔
تقدیر پر ایمان فرض ہے. مسئلہ تقدیر کے متعلق اگرچہ انسانی تخیل الجھن محسوس کرتا ہے اور ذہن کے نقشے پر کئی سوال ابھرتے ہیں مگر تقدیر الٰہی پر یقین ہونا چاہیئے کہ یہ ایمان کا حصہ ہے. حضرت علی رضی اللہ عنہ. بیان کرتے ہیں کہ رسولُ اللہ ﷺ نے فرمایا بندہ مومن نہیں ہوتا جب تک چار باتوں پر ایمان نہ لائے. گواہی دےکہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں. مجھے اللہ نے حق کے ساتھ بھیجا مرنے اور مرنے کے بعد اٹھنے پر اور تقدیر پر ایمان لائے (مشکوٰۃ. جلد1ص 22.) مسئلہ تقدیر پر عوامی مسائل. ص 23.
تقدیر کیا ہے؟
تقدیر دراصل اللہ تعالیٰ کے ازلی علم کا نام ہے، جسے اہلِ علم نے
"العلمُ السابِق"
کہا ہے. یعنی وہ علم جو کسی چیز کےوقوع میں آنے سے پہلے ہی اللہ کو حاصل ہوتا ہے۔
لغوی معنی:
تقدیر کے لغوی معنی اندازہ کرنا، مقدار مقرر کرنا اور کسی شے کو طے کرنا ہیں۔
اصطلاحی معنی:
تقدیر سے مراد اللہ تعالیٰ کا وہ ازلی علم، فیصلہ اور مقرر کردہ نظام ہے جس کے مطابق کائنات کی ہر چیز. اس کا وجود، وقت، مقدار اور کیفیت پہلے سے طے ہے اور لوحِ محفوظ میں لکھی ہوئی ہے، جس کا کامل علم صرف اللہ کو ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے علمِ قدیم کے مطابق ہر چیز کو ایک مقرّرہ وقت پر خاص شکل و صورت میں بنایا. اشیاء کو خاص حد تک نشوونما دے کر انہیں باقی رکھا اور مدت پوری ہونے پر انہیں ختم کردیا گیا
علامہ راغب اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ تقدیر کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں.
بان یجعلھا علی مقدار مخصوص ووجہ مخصوص حسبما اقتضت الحکمۃ
(المفردات ص 396)
علامہ سعدالدین تفتازانی رحمۃ اللہ علیہ تقدیر کا معنی لکھتے ہیں. وھو تحدید کل مخلوق بحدہ الذی یوجد من حسن وقبح و نفع و ضرر وما یحویہ من زمان او مکان وما یترتب من ثواب و عقاب. (شرح عقائد ص 104)
ہر مخلوق کہ اس کے حسن قبح ؛نفع ؛ضرر ؛اس کے زمانہ حیات ؛اس کے مکان اور اس کے ثواب اور عذاب کی مقرر کردہ حد کا نام اس کی تقدیر ہے؛ (مسئلہ تقدیر پر عوامی مسائل ص 15/16/مفتی محمد تصدق حسین صاحب ٗ)
اقسامِ تقدیر:
تقدیرِ مُبرَم: وہ حتمی اور اٹل فیصلہ جس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔
تقدیرِ مُعلّق: وہ فیصلہ جو دعا، اعمال اور اسباب کے ساتھ مشروط ہوتا ہے اور اللہ کے حکم سے بدل سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے،
علیم بذات الصدور ہے،
وہ جانتا ہے کہ انسان اپنے ارادے، اختیار اور آزادی کے ساتھ کیا انتخاب کرے گا۔
اہم نکتہ یہ ہے کہ اللہ کا جاننا انسان کے عمل کا سبب نہیں بنتا، بلکہ انسان کا آزادانہ عمل اللہ کے علم میں پہلے سے معلوم ہوتا ہے۔
علم اور جبر میں بنیادی فرق
انسان یہ نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا، کہاں ہوگا اور کس لمحے کیا فیصلہ کرے گا،
مگر اللہ جانتا ہے-
کیونکہ اس کے علم پر زمان و مکان کی کوئی قید نہیں۔
قرآن اس حقیقت کو یوں واضح کرتا ہے:
﴿إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ﴾
“بے شک ہم نے ہر چیز کو ایک اندازے (تقدیر) کے ساتھ پیدا کیا ہے۔”
(سورۃ القمر: 49)
یہاں قدر سے مراد جبر نہیں، بلکہ نظام، علم اور حکمت ہے. وَكُلُّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ مُسْتَطَرٌ. اور ہر چھوٹی بڑی چیز لکھی ہوئی ہے سورۃ القمر آیت 53. وَكُلُّ شَيْءٍ عِندَهُ بِمِقْدَارٍ. اور ہر چیز اس کے پاس ایک اندازے سے
ہے.سورۃ الرعد آیت8. وَكُلَّ شَيْءٍ أَحْصَيْنَاهُ فِي إِمَامٍ مُّبِينٍ. اور ہر چیز ہم نے گن رکھی ہے ایک بتانے والی کتاب میں. سورۃ یٰس آیت 12. وَلَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ. اور نہ کوئی تر اور نہ خشک مگر ایک روشن کتاب میں لکھا ہوا؛ سورۃ الأنعام آیت 59
وَلَا أَصْغَرَ مِن ذَٰلِكَ وَلَا أَكْبَرَ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ. اور نہ اس سے چھوٹی چیز اور نہ اس سے بڑی ؛کوئی چیز نہیں جو ایک روشن کتاب میں نہ ہو. سورۃ یونس آیت 61. فَقَدَرْنَا فَنِعْمَ الْقَادِرون . پھر ہم نے اندازہ کیا اور ہم کتنا اچھا اندازہ کرنے والے ہیں. ؛ سورہ المرسلات 23.
تقدیر کو سمجھنے کے لیئے پہلے ایک عام فہم مؤثر فکری مثال
سمجھیں.
فرض کیجیے کہ آج کل کی دنیا میں ایک شخص جادو یا فنِ پیش گوئی دکھاتا ہے۔ وہ آپ کو ایک کاغذ دیتا ہے اور کہتا ہے کہ آپ اپنے ارادے، اختیار اور مرضی سے اس پر جو چاہیں لکھ دیں۔ وہ کسی دباؤ یا اشارے کے بغیر آپ کو مکمل آزادی دیتا ہے۔
ادھر وہ شخص اپنے پاس ایک الگ کاغذ رکھ لیتا ہے، جس پر وہ پہلے ہی وہی چیز لکھ چکا ہوتا ہے جو آپ بعد میں منتخب کرنے والے ہوتے ہیں۔
جب آپ اپنی مرضی سے لکھ چکے ہوتے ہیں اور پھر وہ شخص اپنا کاغذ دکھاتا ہے، تو آپ حیران رہ جاتے ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہوا؟
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ:آپ نے جو لکھا،اپنی مرضی سے لکھا اس نے آپ کو مجبور نہیں کیا
اس نے صرف پہلے سے جان لیا تھا کہ آپ کیا انتخاب کریں گے
میرے معزز بھائیوں !
اسی حقیقت کا نام تقدیر ہے-فرق صرف یہ ہے کہ یہاں جاننے والا کوئی فنکار نہیں، بلکہ اللہ عالم الغیب ہے، جسے پوری کائنات کا نظام چلانا ہے۔اللہ نے انسان کو خود مختار بنایا، مگر چونکہ وہ جانتا ہے کہ انسان اپنی آزادی کے ساتھ کون سا عمل اختیار کرے گا، اس لیے اسی علم کو اس نے اپنے ہاں لکھ رکھا ہے۔
یہ لکھا جانا انسان کے اختیار کو ختم نہیں کرتا، بلکہ اللہ کے علمِ کامل کا اظہار ہے۔
اسی لیے کہا جاتا ہے کہ اللہ کو معلوم ہے کہ تم کیا کرو گے اور کیا نہیں کرو گے-لیکن یہ علم تمہیں مجبور نہیں کرتا۔ انسان کو اختیار دیا گیا ہے-اگر انسان مجبور ہوتا تو: امر و نہی بے معنی ہو جاتے
گناہ کا تصور باقی نہ رہتا. جزا و سزا ظلم بن جاتی. قرآن صاف اعلان کرتا ہے:﴿فَمَن شَاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَمَن شَاءَ فَلْيَكْفُرْ﴾ جس کا جی چاہے ایمان لائے، اور جس کا جی چاہے انکار کرے۔سورۃ الکہف: 29
یہ آیت انسان کےاختیار پر قطعی دلیل ہے۔
دنیا: دارالامتحان
یہ دنیا ایک امتحان گاہ ہے، اور امتحان کا بنیادی تقاضا یہی ہے کہ: اختیار دیا جائے
خیر و شر واضح کیے جائیں. نتیجہ عمل کے بعد ظاہر ہو. قرآن فرماتا ہے﴿الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا﴾
“جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں کون بہتر عمل کرتا ہے۔سورۃ الملک: 2.
یہ بات بھی پیشِ نظر رہے کہ اگر امتحان کا نتیجہ اللہ کو معلوم ہے، تب بھی امتحان کا ہونا ضروری ہے، کیونکہ عدل کا تقاضا یہی ہے کہ فیصلہ عمل کے ظہور کے بعد ہو، نہ کہ محض علم کی بنیاد پر۔. پھر یہ سوال کہ
؛ اگر نتیجہ معلوم تھا تو ہمیں سیدھا جنت یا دوزخ کیوں نہ بھیج دیا گیا؟.؛
درحقیقت عدلِ الٰہی کو نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے:
عقل عطا کی
فطرت دی
اختیار بخشا
اور پھر کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء و رسل مبعوث فرمائے اور آخر میں خاتم النبیین محمد ﷺ کو بھیجا تاکہ انسان کو سمجھایا جائے، راستہ دکھایا جائے، اور کامیابی کے تمام مواقع فراہم کر دیے جائیں۔
قرآن اعلان کرتا ہے:
﴿لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ﴾
.؛تاکہ رسولوں کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے خلاف کوئی حجت باقی نہ رہے۔؛سورۃ النساء: 165؛ یہی اللہ کا احسانِ عظیم ہے اور اسی سے اس کی حجت پوری ہوتی ہے۔
(خلاصہ)
اللہ کا علم جبر نہیں،
انسان کا عمل اختیار سے ہے،
تقدیر اللہ کے علم کا نام ہے، انسان کی مجبوری کا نہیں،
جزا و سزا عدلِ الٰہی پر مبنی ہے،
اور جنت و دوزخ انسان کے اپنے انتخاب کا منطقی انجام ہیں۔
لہٰذا قصور ربِّ کائنات کا نہیں، قصور انسان کی بصیرت کا ہے-
جو نشانیاں پاتے ہوئے بھی نہ سمجھے،
اور روشنی موجود ہو مگر آنکھیں بند رکھے۔
جیسے چمگادڑ کو سورج دکھائی نہیں دیتا، اس میں سورج کا کوئی قصور نہیں۔
؛ علمی نوٹ. ؛
اس مضمون میں پیش کیے گئے تمام مباحث، دلائل اور نکات راقم نے غور و فکر، فہم اور تحقیق کے بعد معتبر دینی مصادر سے اخذ کیے ہیں، جن میں
بالخصوص مشکوٰۃ شریف، تفسیر ابنِ کثیر، تفسیرِ مظہری، شرحِ عقائد، تقدیر کیا ہے ؛تدبیر و تقدیر، اور مسئلۂ تقدیر پر عوامی مسائل ؛ فہم و تدبر کے ساتھ اخذ کیے گئے ہیں۔ تحریر کی تعبیر و اسلوب کی ذمہ داری مکمل طور پر راقم پر عائد ہوتی ہے۔اگر کہیں کوئی لغزش یا کوتاہی ہو تو وہ راقم کی فہم کا نتیجہ ہے، نہ کہ مصادرِ معتبرہ کا۔
اللہ ہمیں سبھوں کو حق کی سمجھ دے اور ایمان بالقدر پر
استقامت عطا فرمائے آمین
بقلم محمودالباری
mahmoodulbari342@gmail.com