موبائل اور انٹرنیٹ ایمان و اخلاق کیلئے ایک چیلنج

✍🏻از قلم محمد عادل ارریاوی 
_______________________________
محترم قارئین رفتہ رفتہ انسانی تاریخ میں سائنس اور ٹیکنالوجی نے ہمیشہ زندگی کو آسان بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے وقت کے ساتھ ساتھ نئی ایجادات نے انسان کے رہن سہن سوچ اور طرزِ زندگی کو بدل کر رکھ دیا ہے موجودہ دور کو سائنسی ترقی کا دور کہا جاتا ہے جس میں موبائل فون انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نمایاں حیثیت رکھتے ہیں ان ذرائع نے جہاں فاصلے سمیٹ دیے ہیں اور دنیا کو ایک گاؤں بنا دیا ہے وہیں ان کے بے جا اور غلط استعمال نے فرد اور معاشرے کے لیے کئی اخلاقی دینی اور سماجی مسائل بھی پیدا کر دیے ہیں اس مضمون میں موبائل فون اور انٹرنیٹ کے فوائد کے ساتھ ساتھ بالخصوص ان کے نقصانات کو اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ ہم ان سہولتوں کو شعور اور اعتدال کے ساتھ استعمال کر سکیں انٹرنیٹ موبائل فون اور سوشل میڈیا کے جہاں بے شمار فوائد ہیں وہیں ان کے کئی نقصانات بھی ہیں ماضی میں لوگوں کے لیے ایک دوسرے سے رابطہ کرنا مشکل تھا اور خط و کتابت کے ذریعے پیغام رسانی ہوتی تھی مگر آج موبائل فون کی بدولت چند لمحوں میں دوستوں رشتہ داروں اور والدین سے رابطہ ممکن ہو گیا ہے اسی طرح موبائل اور انٹرنیٹ نے کاروبار خرید و فروخت تشہیر اور روزمرہ ضروریات کو آسان بنا دیا ہے دینی اعتبار سے بھی اس کے فوائد ہیں کہ قرآن و سنت کی تعلیمات دینی بیانات اور کتابیں آسانی سے دستیاب ہو گئی ہیں جو پہلے خریدنا ہر کسی کے بس کی بات نہ تھی
تاہم ان فوائد کے باوجود موبائل فون کے سنگین نقصانات بھی ہیں جنہیں اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے آج موبائل ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے یہاں تک کہ انسان ہر وقت اسی میں مشغول رہتا ہے سب سے بڑا نقصان بے حیائی کا فروغ ہے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال نے اخلاقی بگاڑ کو عام کر دیا ہے بہت سے والدین اپنی اولاد کی گمراہی پر پریشان ہیں اور کئی نوجوان لڑکے اور لڑکیاں دھوکے کا شکار ہو کر اپنے مستقبل کو برباد کر بیٹھے ہیں۔
ماضی میں بے حیائی اس حد تک عام نہ تھی جیسی آج ہے موبائل اور انٹرنیٹ نے گھر کی چار دیواری کے اندر بھی فتنہ پہنچا دیا ہے ماں باپ بیٹا اور بیٹی سب کے ہاتھ میں موبائل ہے اور نادانستہ طور پر ایسی چیزیں دیکھی جا رہی ہیں جو ایمان اور حیا کو نقصان پہنچاتی ہیں حالانکہ حیاء ایمان کا ایک اہم حصہ ہے اور جس معاشرے سے حیا ختم ہو جائے وہاں ایمان بھی کمزور پڑ جاتا ہے آج موبائل اور انٹرنیٹ کو دانستہ طور پر سستا کیا گیا ہے تاکہ لوگ زیادہ سے زیادہ وقت اسی میں ضائع کریں اس کے نتیجے میں ناجائز تعلقات اخلاقی بگاڑ اور خاندانی نظام کی کمزوری سامنے آرہی ہے اگرچہ موبائل فون ایک مفید ایجاد ہے لیکن اس کا غلط استعمال انسان کے دین اخلاق اور معاشرتی اقدار کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم موبائل اور انٹرنیٹ کو ضرورت اور حدود کے اندر رہ کر استعمال کریں تاکہ اس کے فوائد حاصل ہوں اور نقصانات سے بچا جا سکے۔ موبائل اور سوشل میڈیا کا نقصان صحت پر اسکے منفی اثرات کا ہونا آج دن بدن ہماری صحتیں خراب ہوتی جارہی ہیں جو لوگ اس کا کثرت سے استعمال کرتے ہیں آپ دیکھ لیں ان پر بیماریاں دن بدن بڑھتی جا رہی ہیں کوئی دماغی بیماریوں مبتلا ہیں کوئی اعصابی بیماریوں میں مبتلا ہیں بعض کی نظریں کمزور ہو گئیں بعض کے حافظے کمزور ہو گئے چہرے کی رعنائیاں چھن گئیں کیونکہ چلنا پھرنا تو ہے نہیں صبح سے شام موبائل چلانا ہے پہلے تو چلتے پھرتے کھانا ہضم ہو جاتا چہل قدمی سے صحت اچھی ہوتی تھی جب سے موبائل موٹر سائیکل گاڑیاں اور سہولتیں آئیں تو ہمارا چلنا پھرنا ختم ہو گیا ہمارا بس نہیں چلتا ورنہ بیت الخلا بھی موٹر سائیکل پر جائیں ہر جگہ موٹر سائیکل پر جانا گاڑی پر جانا ہر وقت موبائل استعمال کرنا اس سے صحتیں متاثر ہو گئیں رفتہ رفتہ متعدد امراض کا شکار ہو گئے دیکھتے دیکھتے کیا سے کیا ہوگیا ۔
اے اللہ ربّ العزت ہمیں بے حیائی اور ہر برائی سے محفوظ رکھ ہمارے ایمان اور حیا کی حفاظت فرما ہماری اولاد کی اصلاح فرما اور ہمیں دین و دنیا میں کامیابی نصیب فرما آمین یارب العالمین ۔