آخر سیاسی طاقت کی حد کہاں ختم ہوتی ہے؟ 

 جس ملک کی بنیاد جمہوریت پر ہو، جہاں کثیر مذاہب، کثیرثقافتی اور کثیرلسانی معاشرہ آباد ہو، اور جہاں آئین و دستور ہر شہری کو برابری، عزت اور آزادی کے ساتھ جینے کا حق دیتا ہو، وہاں کسی ایک مخصوص طبقے کو بار بار نشانہ بنانا نہایت تشویش ناک امر ہے۔ خاص طور پر جب یہ نشانہ خواتین بنیں اور ان کی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کے ساتھ بدتمیزی یا تضحیک آمیز رویہ اختیار کیا جائے تو یہ پورے سماجی ڈھانچے کے لیے خطرے کی گھنٹی بن جاتا ہے۔ جمہوری معاشروں کی پہچان یہی ہوتی ہے کہ اختلاف کے باوجود احترام باقی رہتا ہے، مگر جب کسی طبقے کی شناخت، لباس، زبان یا ثقافت کو بہانہ بنا کر اس کی خواتین کو نشانہ بنایا جائے تو یہ محض انفرادی بدسلوکی نہیں رہتی بلکہ ایک منظم سماجی مسئلے کی صورت اختیار کر لیتی ہے، جو اس تاثر کو جنم دیتی ہے کہ کچھ شہری دوسرے درجے کے انسان سمجھے جا رہے ہیں۔
 خواتین کسی بھی معاشرے کی عزت و وقار کی علامت ہوتی ہیں، اور اگر وہی عدم تحفظ، خوف اور تذلیل کا شکار ہوں تو یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ معاشرہ اپنی بنیادی اخلاقی ذمہ داریوں سے منہ موڑ رہا ہے۔ کسی قوم کی ترقی کا معیار بلند عمارتیں یا معاشی اعداد و شمار نہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہاں کی خواتین خود کو کتنا محفوظ اور باعزت محسوس کرتی ہیں۔ ایک جمہوری نظام میں طاقت، عہدہ یا عددی اکثریت کسی کو یہ حق نہیں دیتی کہ وہ دوسروں کی ذاتی حدود پامال کرے۔ کسی خاص طبقے کو مسلسل ٹارگٹ کرنا سماجی ہم آہنگی کو پارہ پارہ کر دیتا ہے اور نفرت، عدم اعتماد اور خوف کو فروغ دیتا ہے، جس کے نتیجے میں معاشرہ اندر سے کھوکھلا ہو جاتا ہے اور جمہوریت محض ایک رسمی دعویٰ بن کر رہ جاتی ہے۔ ایسے حالات میں اجتماعی ضمیر کی بیداری ناگزیر ہو جاتی ہے، کیونکہ جب ظلم معمول بن جائے تو خاموشی بھی جرم کا درجہ اختیار کر لیتی ہے۔
 اگر ہم واقعی ایک کثیرثقافتی اور جمہوری ملک کے شہری ہیں تو ہمیں ہر اس عمل کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی جو کسی بھی طبقے، خصوصاً خواتین کی عزت اور وقار کو مجروح کرتا ہو۔ احترام، رواداری اور برابری محض آئینی دفعات نہیں بلکہ زندہ اقدار ہیں، جن کا عملی اظہار ہی جمہوریت کی اصل پہچان ہوتا ہے۔ اگر ان اقدار کو روزمرہ زندگی اور ریاستی رویّوں میں جگہ نہ دی گئی تو جمہوریت کا دعویٰ خود اپنے بوجھ تلے دب کر رہ جائے گا۔ اسی تناظر میں پٹنہ میں منعقد ایک سرکاری جلسے کے دوران بہار کے وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار کی جانب سے ایک مسلم خاتون ڈاکٹر کے ساتھ پیش آیا واقعہ محض ایک لمحاتی یا غیر ارادی حرکت نہیں بلکہ ایک گہرے سیاسی، سماجی اور اخلاقی سوال کو جنم دیتا ہے۔
 جلسے میں موجود اس مسلم خاتون ڈاکٹر نے حسبِ روایت نقاب اوڑھ رکھا تھا، مگر اس موقع پر وزیرِ اعلیٰ کا خود آگے بڑھ کر ان کا نقاب اپنے ہاتھ سے ہٹانا نہ صرف غیر متوقع تھا بلکہ حد درجہ نامناسب بھی۔ یہ واقعہ اس لیے زیادہ تشویش ناک بن جاتا ہے کہ یہاں کوئی عام فرد نہیں بلکہ ایک آئینی عہدے پر فائز ریاست کا سربراہ شامل ہے، جس سے شائستگی، ضبط اور احترام کی اعلیٰ مثال کی توقع کی جاتی ہے۔ کسی خاتون، بالخصوص ایک تعلیم یافتہ مسلم ڈاکٹر کے ساتھ، عوامی اجتماع میں اس طرح کا برتاؤ نہ تہذیب کے دائرے میں آتا ہے اور نہ ہی جمہوری وقار کے مطابق ہے۔ کسی عورت کی رضامندی کے بغیر اس کے لباس، شناخت یا شخصی حدود میں مداخلت کرنا بدتمیزی ہی نہیں بلکہ طاقت کے غلط استعمال کے مترادف بھی سمجھا جائے گا۔
 سیاست میں شائستگی، برداشت اور احترام کو بنیادی اقدار مانا جاتا ہے، مگر جب ایک وزیرِ اعلیٰ خود ان اقدار کی خلاف ورزی کرتا نظر آئے تو یہ سوال اٹھنا فطری ہو جاتا ہے کہ آخر سیاسی طاقت کی حد کہاں ختم ہوتی ہے؟ کیا عوامی جلسوں میں موجود افراد، خاص طور پر خواتین، اس بات پر مجبور ہیں کہ وہ طاقتور سیاسی شخصیات کے ہر عمل کو خاموشی سے برداشت کریں؟ اس واقعے نے اس تاثر کو بھی تقویت دی ہے کہ بعض سیاسی رہنما عوامی جذبات، ثقافتی شناخت اور ذاتی حدود کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ ایک مسلم خاتون ڈاکٹر کی پیشہ ورانہ شناخت، وقار اور شخصی دائرے کو نظرانداز کرنا نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ سیاست کے اخلاقی معیار پر بھی ایک سنگین سوالیہ نشان ہے۔
 ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے واقعات کو معمولی یا غیر اہم سمجھ کر نظرانداز نہ کیا جائے، کیونکہ یہی بے حسی آگے چل کر بڑے سماجی انحرافات کو جنم دیتی ہے۔ عوامی نمائندوں کو یہ بات اچھی طرح سمجھنی ہوگی کہ اقتدار انہیں دوسروں کی ذاتی حدود عبور کرنے کا لائسنس نہیں دیتا۔ اگر سیاست میں اخلاقیات، شائستگی اور انسانی وقار کا لحاظ باقی نہیں رہے گا تو عوام کا اعتماد بھی تیزی سے متزلزل ہو جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ واقعہ بہار کی سیاست کے لیے ایک سنجیدہ تنبیہ ہے کہ ترقی اور سیکولرزم کے دعوے محض نعروں یا تقریروں سے نہیں بلکہ عملی رویّوں، احترامِ انسانیت اور آئینی قدروں کی پاسداری سے ثابت ہوتے ہیں۔
 اسی تناظر میں یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ اسلام نے عورت کو عزت، وقار اور مکمل تحفظ عطا کیا ہے، اور پردہ اسی عزت و حیا کا ایک عملی اور باوقار اظہار ہے۔ پردہ محض لباس تک محدود نہیں بلکہ ایک جامع طرزِ فکر اور اخلاقی نظام کی نمائندگی کرتا ہے، جس کا مقصد عورت کو غیر ضروری نگاہوں، استحصال اور سماجی دباؤ سے محفوظ رکھنا ہے۔ قرآنِ مجید میں مرد و عورت دونوں کو نگاہیں نیچی رکھنے اور پاکیزگی اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، جبکہ عورتوں کے لیے حجاب کو خصوصی اہمیت اس لیے دی گئی ہے تاکہ ان کی پہچان ان کی صلاحیت، کردار اور ایمان سے ہو، نہ کہ محض ظاہری نمائش سے۔ اس اعتبار سے پردہ اسلام میں کسی جبر کا نام نہیں بلکہ اختیار، خودداری اور وقار کی علامت ہے۔
 ایک مسلمان عورت جب پردہ اختیار کرتی ہے تو وہ اپنے مذہبی عقیدے پر عمل کرتے ہوئے اپنی شناخت کا اظہار کرتی ہے، اور یہ اس کا بنیادی مذہبی حق ہے، جسے کسی بھی مہذب، کثیرثقافتی اور جمہوری معاشرے میں تسلیم کیا جانا چاہیے۔ اسی اصول کی توثیق بھارتی آئین بھی کرتا ہے۔ آئینِ ہند کا آرٹیکل 25 ہر شہری کو مذہبی آزادی فراہم کرتا ہے، جس کے تحت ہر فرد کو اپنے مذہب پر عمل کرنے، اس کی تبلیغ کرنے اور اس کے مطابق زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔ چونکہ پردہ مسلمان عورت کے مذہبی عقیدے کا حصہ ہے، اس لیے اسے مکمل آئینی تحفظ حاصل ہے۔ مزید برآں، آئین کا آرٹیکل 14 تمام شہریوں کو برابری کا حق دیتا ہے اور آرٹیکل 15 مذہب، جنس یا لباس کی بنیاد پر کسی بھی قسم کے امتیاز کو واضح طور پر روکتا ہے۔ اس طرح یہ معاملہ صرف مذہبی حساسیت کا نہیں بلکہ آئینی حقوق، انسانی وقار اور جمہوری اقدار کے احترام کا بھی ہے۔ جب ان اصولوں کو نظرانداز کیا جاتا ہے تو صرف ایک طبقہ نہیں بلکہ پورا سماج متاثر ہوتا ہے، اور جمہوریت اپنی اخلاقی بنیادوں سے کمزور پڑنے لگتی ہے۔

 یہ کہنا کہ پردہ عورت کی ترقی میں رکاوٹ ہے، ایک سطحی، غیر سنجیدہ اور غیر منصفانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے، کیونکہ تعلیم، ملازمت اور سماجی سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کرنا پردے کے کسی بھی طرح منافی نہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک میں لاکھوں مسلمان عورتیں پردے کے ساتھ ڈاکٹر، پروفیسر، وکیل، صحافی، محقق اور سماجی کارکن کے طور پر نمایاں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اصل رکاوٹ پردہ نہیں بلکہ وہ ذہنیت ہے جو مذہبی آزادی اور ثقافتی تشخص کو شک اور تعصب کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ آئینی اعتبار سے ریاست کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر شہری کے مذہبی اور ثقافتی تشخص کا احترام کرے۔ اگر کسی عورت کو اس کے لباس یا حجاب کی بنیاد پر تعلیم، ملازمت یا عوامی سہولیات سے محروم کیا جاتا ہے تو یہ نہ صرف آئین کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ بنیادی انسانی حقوق کی بھی کھلی پامالی ہے۔ جمہوریت کا حسن ہی یہی ہے کہ مختلف عقائد، نظریات اور طرزِ زندگی رکھنے والے افراد کو باعزت اور محفوظ طریقے سے جینے کا حق حاصل ہو۔
 درحقیقت مسلمان عورت کا پردہ اس کی کمزوری نہیں بلکہ اس کی طاقت ہے۔ یہ اس کے ایمان، خود اعتمادی، خودداری اور آئینی شعور کا مظہر ہے۔ ایک مہذب معاشرہ وہی ہوتا ہے جو عورت کو یہ آزادی دے کہ وہ اپنی مرضی، سوچ اور عقیدے کے مطابق لباس اختیار کرے، بغیر کسی خوف، دباؤ یا جبر کے۔ اسی لیے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پردہ اور آئینی حقوق ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ہم آہنگ ہیں۔ جب مذہبی آزادی اور آئینی ضمانتیں ساتھ ساتھ چلتی ہیں تو معاشرہ امن، احترام اور رواداری کی راہ پر گامزن ہوتا ہے، اور اختلاف کے باوجود باہمی اعتماد قائم رہتا ہے۔
 ایسے ماحول میں اگر کسی ریاست کا وزیرِ اعلیٰ ایک مسلم خاتون کے ساتھ اس نوعیت کا نامناسب رویّہ اختیار کرتا ہے تو اس کے اثرات محض ایک فرد یا ایک لمحے تک محدود نہیں رہتے، بلکہ وہ پورے سماج کی سمت متعین کرنے لگتے ہیں۔ سیاست میں پیغام الفاظ سے زیادہ طاقتور ہوتے ہیں، اور اس طرح کے اعمال خاموش مگر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ رویّہ اقلیتی طبقے، خصوصاً مسلم خواتین میں عدم تحفظ کے احساس کو گہرا کرتا ہے، اور انہیں یہ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ آیا ان کی شناخت، وقار اور ذاتی حدود واقعی محفوظ ہیں یا نہیں۔ جب طاقت کے اعلیٰ مراکز سے ایسے اشارے ملیں تو خوف، خاموشی اور پسپائی جنم لیتی ہے، جو کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے نہایت خطرناک علامت ہے۔
 اس کا دوسرا سنگین نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سماج میں بدتمیزی، عدم احترام اور حدود کی پامالی کو غیر محسوس طور پر معمول بنا دیا جاتا ہے۔ جب بااثر اور طاقتور شخصیات جواب دہی سے بچ نکلیں تو عام لوگوں کو بھی یہ حوصلہ ملتا ہے کہ وہ کمزور طبقات کے ساتھ اسی طرح کا رویّہ اختیار کریں۔ یوں بدتمیزی ایک استثنا نہیں بلکہ رویّہ بن جاتی ہے، اور سیاست اخلاقی زوال کی طرف بڑھنے لگتی ہے۔ حالانکہ قیادت کا اصل کام راستہ دکھانا، اقدار کی حفاظت کرنا اور سماج کو جوڑنا ہوتا ہے، نہ کہ سماجی حساسیت اور انسانی وقار کو مجروح کرنا۔ جب سیاسی قیادت اپنی ذمہ داری سے غافل ہو جائے تو سیاست خدمت کے بجائے طاقت کے مظاہرے میں تبدیل ہو جاتی ہے، جہاں انسان کی عزت ثانوی حیثیت اختیار کر لیتی ہے۔
 طویل مدت میں ایسے واقعات معاشرتی ہم آہنگی کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ باہمی اعتماد کمزور پڑ جاتا ہے، سماجی فاصلے بڑھنے لگتے ہیں اور ایک ساتھ جینے کا تصور متاثر ہوتا ہے۔ نتیجتاً ملک آگے بڑھنے کے بجائے اندرونی کشمکش اور عدم استحکام کا شکار ہو جاتا ہے۔ اگر ایسے رویّوں پر بروقت سوال نہ اٹھایا جائے تو ہم ایک ایسے سماج کی طرف بڑھ سکتے ہیں جہاں احترام انتخابی ہو اور عزت طاقت کے تابع، جو جمہوریت نہیں بلکہ اخلاقی انحطاط کی علامت ہے۔ایسے حالات میں یہ سوال نہایت اہم ہو جاتا ہے کہ ہندوستان میں عورتوں کے تحفظ اور وقار کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے۔ سب سے پہلا اور مؤثر قدم یہ ہے کہ جو لوگ عورتوں کی عزت، عظمت اور وقار کو مجروح کرنے کی جرات کرتے ہیں اور قانون و دستور کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہیں، ان کے خلاف سخت اور فوری قانونی کارروائی کی جائے۔ قانون کا خوف ہی ایسے عناصر کو روک سکتا ہے جو خود کو طاقت اور عہدے سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ عورتوں کے تحفظ سے متعلق قوانین پر سنجیدہ اور غیر جانبدارانہ عمل درآمد ناگزیر ہے، نہ کہ محض کاغذی کارروائی۔
 پولیس، عدلیہ اور انتظامیہ کو سیاسی یا سماجی دباؤ سے آزاد ہو کر خواتین کے خلاف ہونے والے ہر جرم پر بلا امتیاز کارروائی کرنی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ سماج میں عورت کے احترام کو فروغ دینے کے لیے تعلیمی نصاب، عوامی مہمات اور سماجی پروگراموں کے ذریعے اخلاقی تربیت دی جائے، تاکہ نئی نسل یہ سمجھے کہ عورت کمزور نہیں بلکہ معاشرے کی بنیاد ہے۔ عورتوں کو قانونی آگہی فراہم کرنا بھی نہایت ضروری ہے، تاکہ وہ اپنے حقوق سے واقف ہوں اور کسی بھی زیادتی کے خلاف خاموشی اختیار نہ کریں۔ ہیلپ لائنز، فاسٹ ٹریک عدالتیں اور محفوظ شکایتی نظام اس سلسلے میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ آخرکار، معاشرے کو یہ واضح طور پر طے کرنا ہوگا کہ عورت کے احترام، وقار اور تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ جو قوم اپنی عورتوں کو تحفظ نہیں دے سکتی، وہ حقیقی ترقی، جمہوریت اور اخلاقی برتری کا دعویٰ بھی نہیں کر سکتی۔


تحریر: محمد فداء المصطفٰی قادری 
رابطہ نمبر: 9037099731
پی جی ریسرچ اسکالر: دارالہدیٰ اسلامک یونیورسٹی، کیرالا