آج کا دور جسے ہم حالاتِ حاضرہ کہتے ہیں، تیزی سے بدلتا ہوا دور ہے۔ سائنسی ترقی، ٹیکنالوجی، میڈیا، معاشی دباؤ، اخلاقی زوال، فکری انتشار اور عالمی سطح پر جنگ و امن کی کشمکش نے انسانی زندگی کو گہرے اثرات میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایسے حالات میں ہر فرد، بالخصوص ایک مسلمان، پر کچھ اہم ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں جنہیں سمجھنا اور ادا کرنا نہایت ضروری ہے۔
سب سے پہلی ذمہ داری ایمان اور عقیدے کی حفاظت ہے۔ فتنوں کے اس دور میں غلط نظریات، بے دینی اور اخلاقی گمراہی عام ہو رہی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ قرآن و سنت سے مضبوط تعلق رکھیں، دینی علم حاصل کریں اور اپنے ایمان کی حفاظت کریں۔
دوسری اہم ذمہ داری اخلاقی کردار کی مضبوطی ہے۔ جھوٹ، دھوکہ، بددیانتی، بے حیائی اور نفرت آج کے معاشرے میں عام ہو چکی ہیں۔ ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ سچائی، امانت، صبر، برداشت اور حسنِ اخلاق کو اپنا شعار بنائے تاکہ وہ عملی طور پر دینِ اسلام کی خوبصورت تصویر پیش کر سکے۔
تیسری ذمہ داری سماجی اصلاح ہے۔ معاشرے میں پھیلی ہوئی برائیوں کے خلاف آواز اٹھانا، نیکی کی تلقین کرنا اور برائی سے روکنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ البتہ یہ کام حکمت، نرمی اور اخلاص کے ساتھ ہونا چاہیے۔
چوتھی ذمہ داری علم و آگہی ہے۔ حالاتِ حاضرہ سے باخبر رہنا، سچی اور مستند معلومات حاصل کرنا اور افواہوں سے بچنا بہت ضروری ہے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں ہر خبر پر یقین کرنے کے بجائے تحقیق اور سوچ سمجھ کر رائے قائم کرنی چاہیے۔
پانچویں ذمہ داری اتحاد و بھائی چارہ ہے۔ فرقہ واریت، تعصب اور نفرت نے امت کو کمزور کر دیا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ باہمی اختلافات کو کم کریں، ایک دوسرے کا احترام کریں اور اتحاد کے ساتھ آگے بڑھیں۔
آخر میں یہ بات واضح ہے کہ حالات چاہے کتنے ہی خراب کیوں نہ ہوں، اگر ہم اپنی ذمہ داریوں کو دیانت داری سے ادا کریں تو نہ صرف اپنی اصلاح کر سکتے ہیں بلکہ معاشرے کو بھی بہتر بنا سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حالاتِ حاضرہ کو سمجھنے اور اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 
از محمد ساجد قاسمی