{میرے درد کی تھی داستاں جسے تم ہنسی میں اڑا گیے}
✍🏻گل رضاراہی ارریاوی
آۓ دن موبائل ٹیلی ویژن ،شوشل میڈیا کی خبریں ،نیوز ،ویڈیوز ریکارڈنگ اور اخبار میری نظروں سے گزرتی ہے،ایسے واقعات وحادثات کا مشاہدہ ہوتاہےجن سے دل دہل جاتاہے ،سانسیں رک جاتی ہے ،دل سکتے میں پڑجاتاہے،عقل توقف کے ساعتے شمار کررہاہوتاہے،اضطرابی کیفیت میں اضافہ ہوجاتاہے-
اہل زمیں کے کچھ مسند نشیں، طاقت وعروج والے کم ظرف اورستم گر لوگ کس قدر حاوی ستم ہے ،احساسات کی رگیں کام کرنا بند کردی ہیں،جذبات مرچکی ہیں ،معیاد عدل در کنار عدل وانصاف کے الفاظ کو بھول گئی ہے، محبت کی قندیل کیاجلاۓ ،آتش کدۂ نفرت کو شہ دے رہیں ، پیاسے کو پانی پلانا جرم بن گیا ہے اس لیے پیاسے کو لقمۂ اجل بنانے میں عافیت سمجھتے ہیں ،درد کا مداوا کیا ہوتا یہاں درد پہ درد دے کر اس کو انسان ہونے بلکہ اپنے دین پہ عمل کرنے کی سزادے رہے ہیں،انسان حیوان بن چکا ہے،ہم سے تو یہ تمیز نہیں ہوپا رہی ہے کہ ہم انسانی بستی میں آبادہیں یاپھر صحرائے حیوانی میں ،جہاں لوگ محبت کی زبانیں بھول گئے ہوں ،غرور وطاقت کا نشہ اس قدر کہ اپنے کو خدا سمجھ بیٹھے ہوں ،جہاں انسانی خون پانی سے بھی سستا ہے، جہاں انسان کی زد وکوب دل بہلانے کا ذریعہ بن گیا ہے،خون بہانا فخر کی بات بن گئی ہے،جہاں انتہا پسندی اپنی جولان گاہوں سے آگے جاچکی ہے ، جہاں کرب والم کی لمبی دستانیں بھی مضحکہ خیز چٹکلے ہوچکے ہوں ایسی جگہ سے کسی خیر کی توقع رکھنا اندھے کنویں میں گرکر زندگی پانے کے مترادف ہے -
عجیب ستم ہے وہ زمین جس کی خوبصورتی اور یکتائی کی مثال پوری دنیا میں دی جاتی ہےمگرکچھ نام نہاد ،جھوٹ کو سچ کے لفافے بند کرکے دینے والے دروغ گو انسان اس کو ختم کرکے گوشہ نشینی چاہتے ہیں، تعجب خیز بات تو یہ ہے کہ لوگ اپنے مفاد پرستی کی خاطر ایسے لوگوں کی حمایتی بن صف میں کھڑے نظرآتے ہیں ،انسان وہی ہے جو دوسرے درد کو سمجھے ،جس میں یہ درد نہ ہو وہ انسان کے لبادہ میں درندہ ہے،آج زمین بھی اس جیسے بے خرد لوگوں سے تنگ آچکی ہے -
لوگ جھوٹ کی آواز پہ تو لبیک کہتے ہیں مگر سچ سے منھ موڑ کر خلوت نشینی کو پناہ گاہ سمجھتے ہیں -
کچھ دہائیوں سے ہمارے وطن میں ساری طاقتیں مل کر کمزوروں، خستہ حال ،شکستہ زدہ لوگوں کے ساتھ جس طریقے سے سلوک کررہے ہیں وہ کسی سے مخفی وپنہا نہیں ہے، نہ جانے ہمیں کیا ہوگیا کہ ہم ایسے بے ضمیر ہوچکے ہیں حق سچ کے لیے مل کر آوز نہیں اٹھا سکتے ،اور ملک کی خوبصورتی کو نہیں بچا سکتے ، عبادت گاہ کسی کا بھی ہو بلا تفریق سب کا احترام ہمارے جذبات کا حصہ ہے ،ہم کسی کی توہین کو روا نہیں سمجھتے ،لیکن کچھ لوگ ہیں جو ان کے ساتھ ناروا سلوک کررہے ہیں ،انہیں منہدم کرکے ملکی املاک کو نقصان پہنچا رہے ہیں ،عبادت گاہوں کو منہدم کرنا اور اسے ملبے کی شکل دیناجہاں لوگ اپنے عقیدے کے مطابق رب کی پرستش کرتے ہیں اور انکی اطاعت بجالاتے ہیں یہ خدائی تصور کی غماز ہے فرعون وشداد کی روش اپنانے کا بے جا خیال ہے جو کسی بھی صورت کسی کے لیے باعث خیر نہیں ایسی گھرکو زمیں بوس کرنا حکم ربی سے روکنے کےمانند ہے اور یہ خود کی پستی اور ذلت کی آہنی زنجیروں میں قیدہونے کا اشارۂ قریب ہے -
ملک کی تنزلی کاسبب یہی ہے کہ لوگ حق کے متلاشی نہیں ہے ،آج جو ہورہاہے کسی بھی انسان کے ساتھ قطع نظر اس سے کہ اس کا تعلق کس دین سے وہ یقینا قابل افسوس ہے ،ہماری قوم ایک زمانہ سے اس کے لیے قربانی دے رہی ہے لیکن؛ غیروں کو تو خیر احساس ہی نہیں اپنوں میں بھی کچھ لوگ اس کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرتے ہیں ،ایسا ملک ہمارا نہیں تھا جیساکہ آج ہم دیکھ رہے ہیں ،ہماری قوم کی کچھ بے ضمیر لوگ ستمگروں کے آلۂ کار بنے ہوۓ ہیں، جس کی وجہ سے ملک کی خوبصورتی بھی مرگ مفاجات کا شکار ہے اور آخری سانس گن رہی ہے-
اے انسان !
اپنے اندر انسانیت پیدا کرو، اپنے آپ میں انسان تلاش کرو ،حق وباطل میں فرق کرو،سچ اور جھوٹ میں امتیاز پیدا کرو ،دل کی سختی کو نرمی سے بدلو، نفرت کے اندھیری میں محبت کی قندیل جلاؤ،اور اپنے دین کو پڑھو اور سمجھو ،اپنے وطن کو پڑھو اس کی خوبصورتی کو پڑھو ،وطن کے لوگوں سے محبت کرو ،حق اور سچ کا ساتھ دو ،اندھی تقلید اور گمراہ کن باتوں اورخبروں سے دور رہو-
آج جو ہم گمراہ ہیں ،اسکی اصل وجہ مفاد پرست پر بے جا اعتماد ہے ،یاد رہے قوم پڑھتی ہے تو بڑھتی ہے ،حقائق تک پہونچتی ہے اور ترقی کی راہ استوار کرتی ہے ،اور جب پڑھنا چھوڑ دیتی ہے توفہم وفراست کی لگام کو خود ساختہ خیال لوگوں کے حوالہ کردیتی ہے، پھر جدھر چاہے اس کو مثل حمار کے گھماتا ہے، لہذا ہمیں اس کی خوبصورتی کو بچانے کے لیے ہمیں پہلے اپنےاندر خوبصورتی پیدا کرنی ہوگی -
سچ کی تلاش کرنی ہوگی ، حق کی خاطر اپنے وجود کی قربانی دینی ہوگی ،انصاف کے متلاشی کو انصاف دلانا ہوگا، تبھی جاکر ہم اپنے مٹی کے تئیں وفادار ہوں گے ورنہ بے وفاؤں کی فہرست بہت لمبی ہے اور لمبی ہوتی چلی جاۓ گی-