میرا جسم میری مرضی 

✍🏻گل رضاراہی ارریاوی 

          عطاۓ الہی اور نعم الہی کے بحر بےکراں میں ہم جیسے بےشمار مخلوق مستغرق ہے ، اس کا احسان ایسا ہےکہ جس کابدلہ دینا دور کی بات اس کا خیال بھی امر محال میں سے ہے ،ان کی ہزارہا نعم وعطا سے ہمہ مخلوق ہر روز لطف اندوز ومستفید ہورہی ہے۔ اس میں کوٸی شک نہیں کہ انہیں (نعم الہی) میں اجسام واشکال بھی ہے ،جس پر مخلوق کی شناخت متصور ہے،اوراس سے ہم پہچان جاتے ہیں کہ یہ فلاں مخلوق ہے ، انسان بھی اسی اجسام واشکال کا ایک نمونہ ہےجو اشرف المخلوقات ہے ۔
نوع انسانی میں ایک عورت بھی ہے ، جو نہایت نرم نازک ہستی ہے ، بارگاہ ایزدی نے اس کو حسن وجمال اورجاذب نظر شکل و جثہ عطا کیاہے ، یہ لاریب امر ہیکہ یہ عطاۓ الہی کا ایک اہم حصہ ہے ، اس پہ جس قدر شکر کیاجاۓ کم ہے ۔
 مگر چند عرصہ سے کچھ آزاد خیال عورت کی جانب سے یہ نعرے بازی کی جارہی ہے کہ ”میرا جسم میری مرضی “،یعنی میں جیسا بھی رہوں کسی کو مجھ پہ اعتراض نہیں ہوناچاہیۓ، بے پردہ جسم کی نماٸش کروں یاجسم فروشی اس میں کسی کو مداخلت کی ضرورت و زحمت نہیں ہوناچاہیے کیونکہ جسم میرا ہے لہذا مرضی بھی میری ہوگی ،میں اپنے آپ میں آزاد ہوں ،آپ مجھے از روۓ حد پابندی کی بیڑیاں نہیں پہنا سکتے ہیں۔
یہ بات بالکل صحیح ہیکہ میں یا کوٸی آپ کو کسی بات کا پابند نہیں بناسکتاہے ، راقم یاکوٸی دوسرا صرف اور صرف آپ کوحقیقت کا آٸینہ دکھا سکتا ہے تسلیم وتنکیر آپ کے اختیار میں ہے؛مگر جب کوٸی بھی بندہ اپنے عقل وخرد پہ زور دےگا تو یہ بات انکے سامنے عیاں ہوجاٸیگی کہ جب ہم کسی امراض وعوارض کاشکار ہوجاتے ہیں ،لاغر وناتوانی ہمیں چاروں طرف سے دبوچ لیتی ہے توہم حرکت کے قابل نہیں رہتےاورہم دو یاتین آدمیوں کے سہارے چلتے ہیں تو پھر اس وقت یہ بات کیوں نہیں بولتے یا اظہار کرتے کہ میرا جسم میری مرضی ،زبان تو اس وقت بند ہوجاتی ہے -
بہت سے ایسےمواقع ومواضع ہیں جہاں یہ خود ساختہ نعرے یا فقرے ہمارے لیے ندامت وخجالت اورشرمندگی کاباعث ہے ،ظاہر ہے کہ اس جملہ میں کفران نعمت اور ناشکری مستور ہے ،کیونکہ خواہی ناخواہی جسم بھی اللہ کاہے مرضی بھی اسی کی ہے ، وہ "علی کل شیٸ قدیر"ہے -
کیاہم نہیں دیکھتے وہ جب چاہے کسی کو مرض میں مبتلا کردیتاہے ،اورمدت مرض کو کبھی تو دراز کردیتاہے کبھی تو تھوڑے علاج ومعالجہ سے شفا دے دیتاہے اور کبھی تو اسی مرض میں لقمہ اجل بنا دیتا ہے ، اور جسم سے روح پرواز کرجاتی ہےاور لوگ اس خوبصورت جسم کو زمیں بوس کردیتے ہیں ،لوگوں کی نظر میں اس کوٸی اہمیت نہیں رہ جاتی ہے ،خالی جسم بد بو کے سوا کچھ بھی نہیں ، یہ ساری چیزیں ایسی ہیں جس پہ غور وفکر کرنےسے انسان کو اپنی عاجزی ودرماندگی کااحساس ہوگا اسکو اپنے خودساختہ خیالات ونظریات اوراپنے لغو و بےفاٸدہ نعرے پہ شرمندگی ہوگی۔لہذا کسی بندے کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ شکر الہی کا دامن چھوڑ کر نعم الہی کا ابا کرے ۔
رب کریم سے دعا ہے کہ وہ انسانوں کو فہم صحیح کی دولت سےسرفراز فرماۓ آمین