🖋️بنتِ ابوالخیر اعظمیؔ

یہ دنیا آزمائشوں کی بستی ہے، یہاں ہر قدم پر امتحان ہے، کبھی نعمتوں کی فراوانی انسان کو آزمایا کرتی ہے اور کبھی مصیبتوں کی تپش اس کے حوصلوں کو پرکھتی ہے۔
 ایسے میں اگر کوئی چیز مومن کو ٹوٹنے سے بچاتی ہے، اسے رب سے جوڑے رکھتی ہے اور اس کے ایمان کو زندگی بخشتی ہے تو وہ صبر و شکر کا عظیم سرمایہ ہے۔
یہی وہ دولت ہے جو نہ چھن سکتی ہے۔ نہ گھٹتی ہے، بلکہ ہر آزمائش میں بڑھتی چلی جاتی ہے۔

صبر، صرف خاموشی کا نام نہیں، بلکہ دل کے اندر طوفانوں کے باوجود اللہ کی رضا پر راضی رہنے کا نام ہے۔
صبر وہ طاقت ہے جو آنکھوں کے آنسوؤں کو عبادت میں بدل دیتی ہے، اور زخمی دل کو رب کے در پر سجدہ ریز کر دیتی ہے۔

جب حالات ہاتھ سے نکلتے محسوس ہوں، جب دعائیں زبان پر آ کر بھی لوٹ جائیں، جب راستے اندھیروں میں گم ہو جائیں، تب صبر مومن کے ہاتھ میں وہ چراغ بن جاتا ہے جو اسے نااُمیدی کے غار میں گرنے نہیں دیتا۔

اور شکر
شکر وہ نظر ہے جو نعمتوں کو دیکھتی ہے، محرومیوں کو نہیں۔
شکر وہ زبان ہے جو درد میں بھی “الحمد للہ” کہنا سکھا دیتی ہے۔
شکر وہ کیفیت ہے جو تھوڑے کو بہت، اور کمی کو برکت میں بدل دیتی ہے۔

 مومن جب نعمت ملنے پر شکر ادا کرتا ہے تو وہ نعمت اس کے لیے قربِ الٰہی کا ذریعہ بن جاتی ہے، اور جب آزمائش میں بھی شکر کے الفاظ لبوں پر رہتے ہیں تو مصیبت رحمت میں ڈھل جاتی ہے۔

صبر اور شکر ایک دوسرے سے جدا نہیں، یہ ایمان کے دو پر ہیں؛ ایک بھی کمزور ہو جائے تو پرواز ممکن نہیں رہتی۔
مصیبت میں صبر نہ ہو تو شکوہ جنم لیتا ہے، اور نعمت میں شکر نہ ہو تو غرور۔


 مومن کی پہچان یہی ہے کہ وہ تکلیف میں صابر اور راحت میں شاکر رہتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ جو رب نے دیا وہ بھی بہتر، اور جو لے لیا وہ بھی حکمت سے خالی نہیں۔

تاریخِ اسلام کے اوراق گواہ ہیں کہ صبر نے ٹوٹی ہوئی قوموں کو اٹھایا، اور شکر نے چھوٹی سی جماعت کو عظمت کی بلندیوں تک پہنچایا۔

 انبیاء علیہم السلام کی زندگیاں صبر کا درس ہیں، اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے احوال شکر کی روشن مثال۔
 بھوک ہو یا خوف، ہجرت ہو یا زخم، ان کے لبوں پر شکوہ نہیں، بلکہ رضائے الٰہی کی خاموش مسکراہٹ ہوا کرتی تھی۔

آج کا انسان سب کچھ ہونے کے باوجود بے سکون ہے، کیونکہ اس کے پاس آسائشیں تو ہیں مگر صبر نہیں، سہولتیں تو ہیں مگر شکر نہیں۔
ذرا سا دکھ آئے تو زبان شکوے سے بھر جاتی ہے، اور معمولی سی نعمت مل جائے تو غرور سر اٹھا لیتا ہے۔
ہم بھول گئے ہیں کہ اصل کامیابی دنیا کے ملنے میں نہیں، بلکہ رب پر راضی رہنے میں ہے۔

اے دل! ذرا ٹھہر کر سوچ
اگر تجھ سے بہت کچھ لے لیا گیا ہے تو کیا رب نے تجھے سجدہ کرنے کا موقع نہیں دیا؟
اگر آنکھیں نم ہیں تو کیا زبان ذکر سے محروم ہے؟
اور اگر نعمتیں تیرے دامن میں ہیں تو کیا تیرا دل شکر سے لبریز ہے؟

یقیناً صبر وہ زینہ ہے جو مومن کو بلندی تک لے جاتا ہے، اور شکر وہ خوشبو ہے جو اس کی زندگی کو مہکا دیتی ہے۔
جو صبر کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لے، اور شکر کو اپنی عادت بنا لے، وہ دنیا میں بھی سرخرو ہوتا ہے اور آخرت میں بھی کامیاب۔

پس آؤ! ہم اپنے دلوں کو صبر سے مضبوط کریں، اپنی زبانوں کو شکر سے تر رکھیں، اور اس اصل سرمائے کو تھام لیں جو کبھی خسارے میں نہیں جاتا۔
کیونکہ صبر و شکر ہی مومن کا اصل سرمایہ ہے۔