“حق کی ہیبت میں لرزتا قلم - نظم کی صورت ایک احتجاج”
مضمون (64)بسم اللہ الرحمن الرحیم
اس نظم کی گہرائی اور اس کا سخت طنزیہ لہجہ دراصل ایک پرجوش احتجاج ہے، جو براہِ راست اپنے عہد کے حکمرانوں سے مکالمہ کرتا ہے۔ یہ محض اقتدار کے ایوانوں پر تنقید نہیں، بلکہ ان نام نہاد دینداروں کا بھی بے باگ احتساب ہے جو اپنے اعمال سے اسلام کی روشن تصویر کو مسخ کرتے ہیں، اور ریا و نمود کو دینداری کا لبادہ اوڑھا دیتے ہیں۔
سچ کہوں تو اس نظم کی تکمیل کے دوران اس کی شدت اور حق گوئی نے میرے بدن میں لرزش پیدا کر دی؛ تاہم دل میں اطمینان قائم رہا۔ یہ کسی خوف کی علامت نہ تھی، بلکہ اس حق کی ہیبت تھی جو جب لفظوں میں ڈھلتا ہے تو انسان کو اندر سے جھنجھوڑ دیتا ہے۔ شاید یہی اس بات کی دلیل ہے کہ یہ کلام کسی ذاتی غرض یا جذبۂ نمود سے نہیں، بلکہ تحدیثِ نعت خلوصِ نیت اور دردِ دل سے پھوٹا ہے. اس۔نظم کے دو حصے ہیں. حصہ اوّل:
ایوانِ اقتدار سے سوال
حصہ دوم:
امت کے نام آئینہ.
اللہ کرے کہ یہ حق گوئی میرے لیے مواخذہ نہیں بلکہ کامیابی اور سرخروئی کا سبب بنے، اور یہ نظم اس عہد میں سچ کی ایک گواہی کے طور پر قبول کی جائے۔
حصّہ اول. (1) نظم.
ظلمت کو ضیا، کذب کو تقویٰ کیا لکھنا
ابلیس نُما انسان کی ثنا کیا لکھنا
کرسی کی حفاظت کے خاطر آئین بدل ڈالیں
اس عہد کے ڈھلتے سورج کو ضیا کیا لکھنا
جو ووٹ کو ٹھوکر میں اڑائیں سرِبازار
ان ہاتھوں کی قسمت کو خدا کیا لکھنا
جو ووٹ چرا کے مسند پہ ہر بار بیٹھے
ایسے نگہبان کو پھر اہلِ وفا کیا لکھنا
تقریر میں جنت، عملوں سے دکھائے دوزخ
ان وعدہ فروشوں کی ستم وفا کیا لکھنا
جن کی ہی دعا سے ہے گرم یہ بازارِ ستم
ان چہروں پہ مذہب کا لبادہ کیا لکھنا
ایوان میں بیٹھے ہوئے بہرے جو ٹھہرے
مظلوم کی فریاد کو ہوا کیا لکھنا
ہر روز نیا چہرہ، نیا وعدہ، نیا زخم
اس کھیلِ سیاست کو وفا کیا لکھنا
جو خون سے تاریخ کے اوراق بھرے ہوں
ان جرموں کو پھر پارسا کیا لکھنا
جو قوم کے بچوں کو لباسوں میں الجھائے
ان تخت نشینوں کو مسیحا کیا لکھنا
جو قرض میں ڈبوئے غلامی کو ہنر بتائے
ان رہبروں کی سوچ کو رسا کیا لکھنا
لاشوں پہ سیاست کی عمارت جو بنائیں
ان تاج پہنے ہوئے غنڈوں کو کیا لکھنا
قانون کے نام پر جو بستی ہی مٹا دیں
ان ہاتھوں میں آئیں کو صلا کیا لکھنا
جو حق کو خریدیں، اور ضمیر بیچ ڈالیں
ایسے نگہبانوں کی رسمِ وفا کیا لکھنا
جو قوم کو بانٹیں کبھی مذہب کبھی نسلوں میں
ان فتنہ پرستوں کو پھر اہلِ بقا کیا لکھنا
سچ اگر کہے نوری تو مجرم ٹھہرے یہاں
ایسے زمانے میں پھر حق کے سوا کیا لکھنا
نوری یہاں ضمیر بھی بازار میں ملتا ہے
ایسے نگر میں اب انسان رہا کیا لکھنا
حصہ دوم:(2) نظم.
پنچ وقتہ ہو، مگر دل میں اجالا ہی نہیں
ایسے نمازی کا پھر معراج کیا لکھنا
قرآن ہے لبوں پر مگر ابلیس سا عمل
ایسے قاری کی پھر اجر و جزا کیا لکھنا
جو عشقِ محمد ﷺ سے ہو خالی سینہ
ایسے ایمان کو پھر مدعا کیا لکھنا
جو صحابہ پہ انگلی اٹھائے، کرے اہلِ بیتؓ سے جفا
اس شخص کے دین کو وفا کیا لکھنا
اخلاق نہ ہوں، قول و عمل میں ہو تضاد
ایسے مسلمان کو بھلا کیا لکھنا
جو سیرتِ احمد ﷺ کو نہ سمجھے نہ اپنائے
اس علم و ہنر کو پھر ضیا کیا لکھنا
جو غیر کی نقالی میں پہچان ہی کھو دے
اس قوم کے کل کو بقا کیا لکھنا
داڑھی ہو، لباس ہو، مگر سنت و کردار نہ ہو
ایسی دینداری کو ریا کیا لکھنا
جو عدل سے بھاگے، حلم کو نہ جانے
اس طاقت و شوکت کو بھلا کیا لکھنا
قرآن کا اعلان ہے محمد ﷺ ہی اسوہ ہے
اس کے سوا اب کوئی راستہ کیا لکھنا
جو محمد ﷺ کے طریقے پہ نہ چل پائے نوری
اس دعوۂ عشق کو پھر سچا کیا لکھنا
--------------
بقلم محمودالباری
mahmoodulbari342@gmail.com