اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا کے بُرے اعمال اور اس میں کیے گئے تمام بُرے کرتوت اسی دنیا تک محدود رہ جائیں گے۔ قبر میں انسان کے ساتھ کچھ نہیں جائے گا، سوائے اس کے نیک اعمال کے جو وہاں کام آئیں گے۔ بُرے اعمال ایسے ہیں جیسے زندہ انسان کے گلے میں لپٹا ہوا سانپ، جو گویا پھانسی کے پھندے کی مانند ہو۔
بُرے اعمال کی جو سزا انسان کو ملتی ہے وہ تو مل کر ہی رہتی ہے خواہ کسی بھی صورت میں ہو ، لیکن قرآنِ کریم نے اس بارے میں باقاعدہ رہنمائی فرمائی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
مَن جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ خَيْرٌ مِّنْهَا ۖ وَمَن جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزَى الَّذِينَ عَمِلُوا السَّيِّئَاتِ إِلَّا مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
(القصص: 84)
یعنی جو شخص کوئی نیکی لے کر آئے گا اسے اس سے بہتر بدلہ دیا جائے گا، اور جو کوئی بُرائی لے کر آئے گا تو بُرے کام کرنے والوں کو انہی کے کیے ہوئے اعمال کے مطابق ہی سزا دی جائے گی۔
مذکورہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے عدل و انصاف کا اصول واضح کیا ہے کہ نیکی کا بدلہ اس سے بہتر صورت میں دیا جائے گا، چاہے وہ دنیا میں ہو یا آخرت میں۔ اور برائی کا بدلہ بالکل ویسا ہی ہوگا جیسا انسان نے کیا ہے، نہ اس سے زیادہ اور نہ کم۔ یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا بلکہ ہر شخص کو اس کے اعمال کے مطابق ہی جزا یا سزا ملے گی۔
اگر کوئی انسان اپنے جسم اور اپنی جاری زندگی پر غور کرے اور اپنے گریبان میں جھانکے تو اسے اندازہ ہوگا کہ وہ کس بدعملی کی بنا پر کس حال میں ہے۔ اچھائی ہر انسان میں پائی جاتی ہے، لیکن اسی کے برعکس برائی بھی ہر انسان کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اگر کسی انسان میں نیک اعمال کرنے کی عادت اور خصلت پائی جاتی ہے تو یہ بڑی خوش نصیبی ہے۔ لیکن اگر یہ بات معلوم ہو جائے کہ انسان میں کمی اور کوتاہی موجود ہے تو اس کمی کو موت سے پہلے دور کرنا ضروری ہے۔ اپنی برائیوں کو ختم کرنا لازم ہے، ورنہ یہ اندیشہ ہے کہ برائیاں انسان کی اچھائیوں کو بھی کھا جائیں۔
اس لیے ضروری ہے کہ ہر فرد بُرے اور اچھے اعمال کو پہچانے اور نیکی کے راستے کو اختیار کرے، اسی میں ہماری بھلائی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
✍🏻 از: محمدریحان ضیاءالحق عفي عنہ
خادمِ تدریس، مدرسہ ریاض الجنۃ، دھولیہ (مہاراشٹر)
وخادم القرآن، مجمع عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ، لحلقات القرآن الکریم عن بُعد، بالمدینۃ المنورۃ۔