سلطان اورنگزیب عالمگیر: نوآبادیاتی بیانیے کا رد اور علامہ شبلی نعمانی کی تاریخی بصیرت (ایک جامع تحقیقی و تجزیاتی مطالعہ)
محقق: محمد توصیف شیخ
شعبہ: ترجمہ و تقابلی ادب، دارالہدی اسلامک یونیورسٹی، کیرالہ
ہندوستان کی تاریخ میں مغل شہنشاہ سلطان اورنگزیب عالمگیرؒ (1658–1707) ایسی ہمہ گیر اور بااثر شخصیت ہیں جن کے گرد شعوری طور پر متضاد، منفی اور بعض اوقات گمراہ کن تصورات قائم کیے گئے۔ ان کے عہدِ حکومت کو صرف عسکری سختی اور مذہبی تنگ نظری کے زاویے سے دیکھنا دراصل تاریخ کے ساتھ ناانصافی ہے۔ بالخصوص برطانوی نوآبادیاتی دور میں ایک منظم فکری منصوبے کے تحت اورنگزیب عالمگیر کی شخصیت کو “متعصب”، “سخت گیر” اور “ہندو دشمن” بادشاہ کے طور پر پیش کیا گیا، تاکہ مغلیہ سلطنت کے زوال کو مذہبی پالیسیوں کا منطقی نتیجہ ثابت کیا جا سکے اور یوں برطانوی اقتدار کو ہندوستان میں ایک ناگزیر اور اخلاقی متبادل کے طور پر دکھایا جا سکے۔
اس نوآبادیاتی تاریخ نویسی میں سیاسی حقائق، معاشرتی پیچیدگیوں اور عہدِ عالمگیری کے داخلی و خارجی چیلنجز کو دانستہ نظر انداز کیا گیا۔ مغلیہ سلطنت کو درپیش معاشی دباؤ، مسلسل جنگیں، علاقائی بغاوتیں اور بین الاقوامی طاقتوں کی سازشوں کو پسِ پشت ڈال کر تمام تر ذمہ داری اورنگزیب کی مذہبی وابستگی پر ڈال دی گئی۔ اس عمل کے نتیجے میں تاریخ ایک غیر جانبدار علم کے بجائے نوآبادیاتی مفادات کی خادم بن کر رہ گئی، اور ایک ایسے حکمران کی تصویر مسخ ہو گئی جو درحقیقت اپنے وقت کا منظم، قانون پسند اور اصولی بادشاہ تھا۔
اسی فکری جبر اور تاریخی تحریف کے خلاف علامہ شبلی نعمانی نے غیر معمولی علمی جرأت کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے جذباتی معذرت خواہی یا شخصیت پرستی کے بجائے مستند تاریخی مصادر، سرکاری دستاویزات، معاصر شہادتوں اور ابتدائی مآخذات کی بنیاد پر نوآبادیاتی الزامات کا منظم اور مدلل محاسبہ پیش کیا۔ ان کی تصنیف “اورنگزیب عالمگیر پر ایک نظر” نہ صرف اورنگزیب کی شخصیت کا دفاع ہے بلکہ برصغیر کی تاریخ نویسی میں دیانت دار تحقیق، تنقیدی شعور اور فکری خودمختاری کی ایک نمایاں مثال بھی ہے۔ علامہ شبلی کی یہ کاوش ہمیں اس بات کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ تاریخ کو فاتحین اور استعمار کی عینک سے نہیں بلکہ حقائق، سیاق و سباق اور علمی انصاف کے اصولوں کے تحت پڑھا جانا چاہیے۔
علامہ شبلی نعمانی کا اسلوبِ تحقیق اور مقصدِ تصنیف
علامہ شبلی نعمانی برصغیر کے ان معدودے چند مؤرخین میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے تاریخ نویسی کو محض واقعات کی نقل سے نکال کر تنقیدی شعور، فکری دیانت اور تحقیقی معیار سے ہمکنار کیا۔ اورنگزیب عالمگیر کے حوالے سے ان کا کام کسی جذباتی وابستگی یا شخصی عقیدت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک سنجیدہ علمی ضرورت کا جواب تھا۔ شبلی نعمانی نے محسوس کیا کہ نوآبادیاتی مؤرخین کی تحریروں نے نہ صرف اورنگزیب کی شخصیت کو مسخ کیا ہے بلکہ ہندوستانی مسلمانوں کے اجتماعی تاریخی شعور کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اسی احساسِ ذمہ داری نے انہیں اس موضوع پر قلم اٹھانے پر آمادہ کیا۔
علامہ شبلی کا اسلوبِ تحقیق جدید مغربی تاریخ نویسی کے اصولوں اور روایتی اسلامی مؤرخانہ روایت کا ایک متوازن امتزاج ہے۔ انہوں نے ثانوی اور مشکوک حوالوں پر انحصار کرنے کے بجائے فارسی کے مستند ابتدائی مآخذات (Primary Sources) کو اپنی تحقیق کی بنیاد بنایا۔ منتخب اللباب، عالمگیر نامہ، واقعاتِ عالمگیری، شاہی فرامین، عدالتی فیصلے اور معاصر مؤرخین کی تحریریں شبلی کے مطالعے کا بنیادی سرمایہ تھیں۔ وہ کسی ایک روایت کو حرفِ آخر تسلیم کرنے کے بجائے مختلف بیانات کا تقابلی جائزہ لیتے ہیں اور پھر عقلی و تاریخی معیار پر انہیں پرکھتے ہیں۔
شبلی نعمانی کا بنیادی مقصد یہ ہرگز نہیں تھا کہ اورنگزیب عالمگیر کو ایک معصوم یا خطا سے پاک حکمران ثابت کیا جائے۔ وہ خود اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ اورنگزیب بھی ایک انسان اور حکمران تھا، جس کے فیصلے اپنے وقت کے سیاسی دباؤ، معاشرتی حالات اور سلطنت کی بقا کے تقاضوں کے تحت کیے گئے۔ شبلی کا اصل ہدف یہ تھا کہ اورنگزیب کے افعال کو اکیسویں یا انیسویں صدی کے نوآبادیاتی معیار پر پرکھنے کے بجائے سترہویں صدی کے سیاسی و سماجی تناظر میں سمجھا جائے۔ ان کے نزدیک تاریخ کا سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ کسی عہد کے انسان کو دوسرے عہد کے پیمانوں سے ناپا جائے۔
اسی لیے علامہ شبلی نے نوآبادیاتی مؤرخین کے بیانیے کو نہ صرف چیلنج کیا بلکہ ان کے طریقۂ کار، مصادر کے انتخاب اور نتائج اخذ کرنے کے انداز پر بھی سوال اٹھایا۔ وہ یہ واضح کرتے ہیں کہ یورپی مؤرخین اکثر ایسے سیاحوں یا درباری افراد پر اعتماد کرتے ہیں جو خود تعصب، ذاتی مفادات یا محدود مشاہدے کا شکار تھے۔ شبلی نعمانی کی تحقیق اس بات پر زور دیتی ہے کہ تاریخ نویسی میں انصاف، توازن اور سیاق و سباق کو بنیادی حیثیت حاصل ہونی چاہیے، ورنہ تاریخ علم نہیں بلکہ پروپیگنڈا بن کر رہ جاتی ہے۔
مذہبی پالیسی: تعصب یا سیاسی حکمتِ عملی؟
سلطان اورنگزیب عالمگیر کے حوالے سے سب سے زیادہ جس الزام کو دہرایا گیا وہ ان کی مذہبی پالیسی کو “تعصب” اور “مذہبی جنون” کے خانے میں رکھنا ہے۔ نوآبادیاتی مؤرخین نے اس نکتے کو بنیاد بنا کر یہ تاثر قائم کیا کہ اورنگزیب نے ریاستی امور کو محض مذہبی جذبات کے تابع کر دیا تھا، جس کے نتیجے میں سلطنت کے اندر انتشار پیدا ہوا اور بالآخر مغلیہ اقتدار کمزور پڑ گیا۔ علامہ شبلی نعمانی اس تصور کو سطحی اور تاریخی حقائق سے نابلد قرار دیتے ہیں اور واضح کرتے ہیں کہ سترہویں صدی کے ہندوستان میں مذہب اور سیاست کو الگ الگ دائروں میں تقسیم کرنا خود ایک غیر تاریخی تصور ہے۔
شبلی نعمانی کے مطابق اورنگزیب کے عہد میں ریاست محض ایک انتظامی ڈھانچہ نہیں تھی بلکہ ایک اخلاقی اور قانونی نظم بھی تھی، جس کی بنیاد مذہبی اصولوں پر قائم سمجھی جاتی تھی۔ اس دور میں ہر مسلمان حکمران سے یہ توقع کی جاتی تھی کہ وہ شریعت کو ریاستی فیصلوں میں ایک رہنما اصول کے طور پر پیش نظر رکھے۔ چنانچہ اورنگزیب کا مذہبی رجحان کسی غیر معمولی شدت یا انفرادی جنون کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ اس سیاسی و فکری روایت کا تسلسل تھا جو اس سے پہلے بھی اسلامی سلطنتوں میں موجود رہی تھی۔
علامہ شبلی یہ نکتہ بھی واضح کرتے ہیں کہ اورنگزیب کی مذہبی وابستگی کا اظہار زیادہ تر ذاتی زندگی اور اخلاقی نظم میں نظر آتا ہے، نہ کہ اندھی مذہبی جبر کی صورت میں۔ ان کی سادگی، قرآنِ مجید کی کتابت کے ذریعے روزی کمانا، فضول شاہانہ اخراجات سے اجتناب اور انصاف پر سختی سے کاربند رہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ مذہب کو اقتدار کی توسیع کا ہتھیار نہیں بلکہ ذاتی اور ریاستی ذمہ داری سمجھتے تھے۔ اگر ان کا مقصد مذہبی غلبہ زبردستی مسلط کرنا ہوتا تو ان کے طرزِ حکومت میں عمومی رواداری اور انتظامی توازن کبھی برقرار نہ رہتا۔
شبلی نعمانی مزید وضاحت کرتے ہیں کہ اورنگزیب کے اکثر سخت فیصلے دراصل مذہبی نہیں بلکہ سیاسی نوعیت کے تھے، جنہیں بعد کے مؤرخین نے جان بوجھ کر مذہبی رنگ دے دیا۔ سلطنت کی وسعت، مسلسل بغاوتیں، دکن کی طویل جنگیں اور خزانے پر بڑھتا ہوا دباؤ ایسے عوامل تھے جنہوں نے اورنگزیب کو بعض اوقات سخت اقدامات پر مجبور کیا۔ ان فیصلوں کو محض مذہبی عینک سے دیکھنا نہ صرف تاریخی سادگی ہے بلکہ شعوری بددیانتی بھی۔
اس طرح علامہ شبلی نعمانی کے تجزیے کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اورنگزیب عالمگیر کی مذہبی پالیسی کو “تعصب” کے بجائے ایک سیاسی، اخلاقی اور انتظامی حکمتِ عملی کے طور پر سمجھنا زیادہ قرینِ انصاف ہے۔ ان کی شخصیت کو اگر ان کے عہد کے فکری اور سیاسی تناظر میں دیکھا جائے تو وہ ایک ایسے حکمران کے طور پر سامنے آتے ہیں جو مذہب کو انتشار کا ذریعہ نہیں بلکہ نظم و ضبط اور ریاستی استحکام کا وسیلہ سمجھتا تھا۔
جزیہ کا نفاذ: حقیقت اور نوآبادیاتی تعبیر
سلطان اورنگزیب عالمگیر کی مذہبی پالیسی کے ضمن میں جزیہ کا مسئلہ سب سے زیادہ غلط فہمی، تعصب اور نوآبادیاتی پروپیگنڈے کا شکار رہا ہے۔ برطانوی مؤرخین نے جزیہ کے نفاذ کو ایک ایسا اقدام بنا کر پیش کیا جس کا مقصد ہندو رعایا کو ذلیل کرنا اور مذہبی بنیاد پر تفریق کو فروغ دینا تھا۔ اس تعبیر کے ذریعے یہ تاثر دیا گیا کہ اورنگزیب نے اکبر کی “روادارانہ پالیسی” کو ترک کر کے ہندوستانی معاشرے میں مذہبی خلیج کو گہرا کر دیا۔ علامہ شبلی نعمانی اس بیانیے کو تاریخی سیاق و سباق سے کٹا ہوا اور دانستہ طور پر گمراہ کن قرار دیتے ہیں۔
شبلی نعمانی واضح کرتے ہیں کہ جزیہ نہ تو اورنگزیب کی ایجاد تھا اور نہ ہی اس کا نفاذ کسی غیر معمولی مذہبی شدت کا مظہر تھا۔ اسلامی ریاستوں میں جزیہ ایک قانونی اور انتظامی ٹیکس کے طور پر صدیوں سے رائج تھا، جس کے بدلے غیر مسلم رعایا کو فوجی خدمت سے مستثنیٰ رکھا جاتا تھا اور ریاست ان کے جان و مال کے تحفظ کی ذمہ داری لیتی تھی۔ یہ ٹیکس کسی فرد کے عقیدے کی توہین کے لیے نہیں بلکہ ریاستی نظم و نسق کے ایک متبادل نظام کے طور پر نافذ کیا جاتا تھا، جیسا کہ اس دور میں مسلم و غیر مسلم تمام سلطنتوں میں مختلف طبقات پر مختلف نوعیت کے ٹیکس عائد ہوتے تھے۔
علامہ شبلی اس نکتے پر خاص زور دیتے ہیں کہ جزیہ کے نفاذ میں بھی مکمل سختی یا اندھا امتیاز نہیں برتا گیا۔ تاریخی شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ خواتین، بچے، بوڑھے، معذور، فقراء، سادھو، برہمن علما اور وہ غیر مسلم جو ریاستی خدمات انجام دیتے تھے، جزیہ سے مستثنیٰ تھے۔ مزید یہ کہ متعدد ہندو امراء، جاگیردار اور منصب دار اپنی خدمات کے سبب عملاً جزیہ ادا ہی نہیں کرتے تھے۔ اگر جزیہ واقعی مذہبی جبر کا آلہ ہوتا تو اس قدر وسیع استثنائی دائرہ ناقابلِ تصور تھا۔
شبلی نعمانی یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ جزیہ کے نفاذ کو مغلیہ سلطنت کے زوال سے جوڑنا ایک تاریخی مغالطہ ہے۔ سلطنت کی کمزوری کی اصل وجوہات دکن کی طویل جنگیں، خزانے پر بڑھتا ہوا دباؤ، یورپی تجارتی طاقتوں کی مداخلت، صوبائی خودسری اور انتظامی بوجھ تھیں۔ جزیہ جیسا محدود اور جزوی مالی اقدام نہ تو سلطنت کی معیشت کو تباہ کر سکتا تھا اور نہ ہی کروڑوں رعایا کو بغاوت پر اکسا سکتا تھا۔ اسے زوال کی بنیادی وجہ بنانا محض نوآبادیاتی مفروضہ ہے، جس کا مقصد اورنگزیب کی مذہبی وابستگی کو بدنام کرنا تھا۔
علامہ شبلی کے نزدیک جزیہ کا مسئلہ دراصل تاریخ نویسی کے اصولوں کا امتحان ہے۔ اگر کسی اقدام کو اس کے عہد، قانونی پس منظر اور عملی اطلاق سے کاٹ کر محض جدید حساسیت یا نوآبادیاتی اخلاقیات کی بنیاد پر پرکھا جائے تو تاریخ انصاف نہیں کر سکتی۔ اسی لیے شبلی نعمانی جزیہ کو مذہبی تعصب کے بجائے ریاستی نظم، سیاسی مصلحت اور قانونی روایت کے تناظر میں دیکھنے پر زور دیتے ہیں۔ ان کے مطابق اورنگزیب کا یہ اقدام نہ کسی مخصوص قوم کے خلاف تھا اور نہ ہی کسی مذہبی دشمنی کا اظہار، بلکہ ایک ایسے نظام کا حصہ تھا جو اس دور کی ریاستی فکر میں فطری سمجھا جاتا تھا۔
ہندوؤں کا عزل و نصب: ایک تاریخی مغالطہ
سلطان اورنگزیب عالمگیر کے بارے میں ایک عام اور بار بار دہرایا جانے والا الزام یہ ہے کہ انہوں نے ہندوؤں کو سرکاری مناصب سے ہٹا دیا اور ریاستی نظام کو مکمل طور پر مسلمانوں کے ہاتھ میں دے دیا۔ نوآبادیاتی مؤرخین نے اس دعوے کو اس انداز میں پیش کیا جیسے اورنگزیب نے دانستہ طور پر ہندو رعایا کو سیاسی اور انتظامی دھارے سے باہر دھکیل دیا ہو۔ علامہ شبلی نعمانی اس الزام کو نہ صرف تاریخی طور پر غلط بلکہ دانستہ طور پر پھیلایا گیا مغالطہ قرار دیتے ہیں۔
شبلی نعمانی اپنی تحقیق میں مغل دربار کے سرکاری ریکارڈز، منصب داری کے نظام اور معاصر تاریخی بیانات کی روشنی میں یہ واضح کرتے ہیں کہ اورنگزیب کے دور میں ہندو منصب داروں کی تعداد میں کوئی غیر معمولی کمی واقع نہیں ہوئی۔ بلکہ بعض جدید تحقیقات کے مطابق اورنگزیب کے عہد میں اعلیٰ سرکاری مناصب پر فائز ہندو امراء کی تعداد اکبر کے دور سے بھی زیادہ تھی۔ راجہ بھیم سنگھ، راجہ مان سنگھ، راجہ جسونت سنگھ، راجہ جے سنگھ اور دیگر متعدد راجپوت سردار سلطنت کے اہم عسکری و انتظامی عہدوں پر فائز رہے۔
علامہ شبلی اس نکتے پر خاص زور دیتے ہیں کہ مغلیہ سلطنت کا منصب داری نظام خالصتاً مذہبی بنیادوں پر قائم نہیں تھا بلکہ اہلیت، وفاداری اور سیاسی ضرورت اس کا اصل معیار تھے۔ اگر کوئی ہندو سردار سلطنت کے لیے مفید ثابت ہوتا، عسکری خدمات انجام دیتا اور ریاست سے وفادار رہتا تو اس کے مذہب کو کبھی رکاوٹ نہیں بنایا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ دکن کی طویل جنگوں میں بھی متعدد ہندو جرنیل اور سپاہی مغل فوج کا حصہ تھے اور سلطنت کے استحکام میں عملی کردار ادا کر رہے تھے۔
نوآبادیاتی تاریخ نویسی نے چند مخصوص واقعات کو عمومی پالیسی بنا کر پیش کیا۔ مثال کے طور پر اگر کسی ہندو منصب دار کو بغاوت یا بدعنوانی کے الزام میں معزول کیا گیا تو اسے مذہبی تعصب کا نتیجہ قرار دیا گیا، حالانکہ ایسے ہی اقدامات مسلمان امراء کے خلاف بھی کیے جاتے تھے۔ شبلی نعمانی اس رویے کو تاریخ کے ساتھ کھلی ناانصافی قرار دیتے ہیں، کیونکہ یہاں مذہب کو اصل سبب بنا کر سیاسی اور انتظامی عوامل کو نظر انداز کر دیا گیا۔
علامہ شبلی کے مطابق اگر اورنگزیب واقعی ہندو دشمن ہوتے تو اتنے بڑے پیمانے پر ہندو سرداروں کا دربار میں موجود رہنا، انہیں فوجی اختیارات سونپنا اور ریاست کے حساس معاملات میں شریک کرنا ممکن نہ ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اورنگزیب نے ریاست کو مذہبی تفریق کے بجائے سیاسی وفاداری اور انتظامی صلاحیت کی بنیاد پر چلایا۔ اس لیے ہندوؤں کے عزل و نصب کا الزام ایک ایسا تاریخی مغالطہ ہے جو نوآبادیاتی تعصب اور بعد کے سطحی بیانیوں کا نتیجہ ہے، نہ کہ مستند تاریخی تحقیق کا۔
مندروں کے انہدام کی حقیقت
سلطان اورنگزیب عالمگیر کے خلاف جو سب سے سنگین اور جذباتی الزام پیش کیا جاتا ہے وہ مندروں کے انہدام کا ہے۔ نوآبادیاتی مؤرخین اور بعد کے بعض سیاسی بیانیوں نے اس مسئلے کو اس انداز میں پیش کیا جیسے اورنگزیب نے ایک منظم مذہبی پالیسی کے تحت ہندو مذہبی مراکز کو نشانہ بنایا ہو۔ علامہ شبلی نعمانی اس تصور کو تاریخی حقائق سے نابلد اور سیاسی مقاصد سے آلودہ قرار دیتے ہیں اور اس مسئلے کو مذہبی کے بجائے سیاسی و انتظامی تناظر میں سمجھنے پر زور دیتے ہیں۔
شبلی نعمانی کے مطابق اورنگزیب کے دور میں مندر محض عبادت گاہیں نہیں تھے بلکہ بعض مقامات پر وہ سیاسی طاقت کے مراکز، بغاوت کی پناہ گاہیں اور ریاست مخالف سرگرمیوں کے اڈے بھی بن چکے تھے۔ ایسے حالات میں کسی مندر کے خلاف کارروائی کا فیصلہ مذہبی نفرت نہیں بلکہ ریاستی سلامتی کے تقاضوں کے تحت کیا جاتا تھا۔ مثال کے طور پر کاشی وشواناتھ اور متھرا کے بعض مندروں کے انہدام کا تعلق براہِ راست ان علاقوں میں پیدا ہونے والی سیاسی بدامنی اور سلطنت مخالف سرگرمیوں سے تھا، نہ کہ عمومی ہندو مذہب سے دشمنی سے۔
علامہ شبلی اس بات کی طرف بھی توجہ دلاتے ہیں کہ اگر اورنگزیب واقعی مذہبی جنونی ہوتے تو ہندوستان بھر کے مندروں کو نشانہ بنایا جاتا، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ دکن، جنوبی ہند اور وسطی ہندوستان میں ہزاروں قدیم مندر موجود تھے، جن میں ایلورا اور اجنتا کے غار نمایاں مثالیں ہیں، مگر اورنگزیب نے انہیں کبھی نقصان نہیں پہنچایا۔ ان مندروں کا محفوظ رہنا اس دعوے کی عملی تردید ہے کہ عالمگیر کی پالیسی عمومی مذہبی انہدام پر مبنی تھی۔
شبلی نعمانی تقابلی انداز میں یہ نکتہ بھی اٹھاتے ہیں کہ مغل تاریخ میں مندروں کے انہدام کا عمل صرف اورنگزیب کے دور تک محدود نہیں۔ ان سے قبل بابر، ہمایوں، اکبر اور شاہ جہاں کے عہد میں بھی سیاسی اسباب کے تحت مندروں کو نقصان پہنچایا گیا، مگر مؤرخین نے اس عمل کو صرف اورنگزیب کے کھاتے میں ڈال کر ایک مخصوص بیانیہ قائم کیا۔ شاہ جہاں کے دور میں بنارس میں درجنوں مندروں کے انہدام کا ذکر خود معاصر مؤرخین کرتے ہیں، لیکن انہیں “عدل و رواداری” کے تصور کے خلاف استعمال نہیں کیا جاتا۔
علامہ شبلی نعمانی کے نزدیک مندر انہدام کا مسئلہ دراصل تاریخ نویسی کے دوہرے معیار کو بے نقاب کرتا ہے۔ اگر ایک ہی نوعیت کے اقدامات کو ایک حکمران کے لیے سیاسی ضرورت اور دوسرے کے لیے مذہبی تعصب قرار دیا جائے تو یہ علمی بددیانتی کے سوا کچھ نہیں۔ اورنگزیب کے فیصلوں کو ان کے عہد کے سیاسی حالات، بغاوتوں اور ریاستی سلامتی کے تناظر میں دیکھے بغیر کوئی منصفانہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
یوں شبلی نعمانی کی تحقیق یہ واضح کرتی ہے کہ مندروں کے انہدام کو اورنگزیب عالمگیر کی “ہندو دشمنی” کا قطعی ثبوت بنانا تاریخی حقائق کی تحریف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ اقدامات مخصوص سیاسی حالات، علاقائی بغاوتوں اور ریاستی نظم کو برقرار رکھنے کے لیے کیے گئے، نہ کہ کسی مذہبی انتقام یا نفرت کے جذبے کے تحت۔ اسی زاویے سے دیکھنے پر اورنگزیب کی پالیسی ایک سخت مگر ریاستی ضرورت پر مبنی حکمتِ عملی کے طور پر سامنے آتی ہے۔
مراٹھا تحریک اور شیواجی
سلطان اورنگزیب عالمگیر کے حوالے سے ایک اہم دعویٰ یہ کیا جاتا ہے کہ مراٹھا تحریک اور بالخصوص شیواجی کی بغاوت، اورنگزیب کی مذہبی سخت گیری اور سیاسی جبر کا ردِعمل تھی۔ نوآبادیاتی مؤرخین نے اس تصور کو اس قدر مضبوطی سے پیش کیا کہ شیواجی کو “ہندو مزاحمت” اور اورنگزیب کو “مسلم جابر” کی علامت بنا دیا گیا۔ علامہ شبلی نعمانی اس بیانیے کو تاریخی حقائق کے منافی اور فکری سادہ لوحی کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔
شبلی نعمانی واضح کرتے ہیں کہ مراٹھا طاقت کا ابھار اور شیواجی کی عسکری سرگرمیاں اورنگزیب کے تخت نشین ہونے سے کئی برس قبل شروع ہو چکی تھیں۔ شیواجی نے بیجاپور اور احمد نگر کی کمزور ہوتی ریاستوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے قلعہ بندی، فوجی تنظیم اور علاقائی توسیع کا عمل پہلے ہی شروع کر دیا تھا۔ یہ ایک خالص سیاسی و عسکری تحریک تھی جس کا مقصد اقتدار اور خودمختاری تھا، نہ کہ کسی مذہبی جبر کے خلاف ردِعمل۔ اس حقیقت کو نظر انداز کر کے اس تحریک کو صرف مذہبی عینک سے دیکھنا تاریخ کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔
علامہ شبلی اس امر کی طرف بھی توجہ دلاتے ہیں کہ اورنگزیب نے ابتدائی مرحلے میں شیواجی کے ساتھ مفاہمت اور سیاسی شراکت کی کوشش کی۔ آگرہ کے دربار میں شیواجی کو پنج ہزاری منصب دیا جانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مغل حکومت انہیں محض ایک باغی نہیں بلکہ ایک قابلِ استعمال سیاسی قوت کے طور پر دیکھ رہی تھی۔ یہ منصب اس وقت مغل سلطنت کے ممتاز جرنیلوں اور امراء کو دیا جاتا تھا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ شیواجی کی تحقیر یا مذہبی بنیاد پر تذلیل کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
شیواجی کی آگرہ آمد کے بعد پیش آنے والے واقعات کو بھی نوآبادیاتی تاریخ نویسی میں جان بوجھ کر مبالغہ آمیز انداز میں پیش کیا گیا۔ شبلی نعمانی کے مطابق شیواجی کی ناراضگی کی اصل وجہ مذہبی توہین نہیں بلکہ شخصی انا اور سیاسی توقعات تھیں۔ وہ خود کو مغل دربار میں اس مقام پر دیکھنا چاہتے تھے جو اس وقت ممکن نہ تھا۔ اس ذاتی مایوسی کو بعد کے مؤرخین نے مذہبی تصادم کا رنگ دے دیا، جو تاریخی دیانت کے خلاف ہے۔
علامہ شبلی یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ اگر اورنگزیب واقعی مراٹھوں کو محض مذہبی بنیاد پر کچلنا چاہتے تو وہ شیواجی کے خاندان کے ساتھ ایسا نرم اور مفاہمانہ رویہ اختیار نہ کرتے۔ شیواجی کے پوتے سایو جی (شاہو) کو نہ صرف عزت کے ساتھ رکھا گیا بلکہ اسے “راجہ” کا خطاب، سات ہزاری منصب اور شاہی خیمے کے قریب رہائش دی گئی۔ یہ طرزِ عمل اس تصور کو مکمل طور پر رد کر دیتا ہے کہ اورنگزیب کی مراٹھا پالیسی مذہبی انتقام پر مبنی تھی۔
شبلی نعمانی کے نزدیک مراٹھا تحریک دراصل مغلیہ سلطنت کے آخری دور میں ابھرنے والی علاقائی طاقتوں میں سے ایک تھی، جیسا کہ بنگال، اودھ اور دکن میں دیگر خودمختار رجحانات سامنے آئے۔ اسے صرف اورنگزیب کی ذات یا مذہبی پالیسیوں سے جوڑنا ایک سادہ اور جانبدارانہ تجزیہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مراٹھا تحریک طاقت، وسائل اور اقتدار کی کشمکش کا نتیجہ تھی، جسے نوآبادیاتی مؤرخین نے مذہبی تصادم کا رنگ دے کر تاریخ کو ایک مخصوص رخ پر موڑ دیا۔
شاہ جہاں کی نظر بندی اور بھائیوں سے جنگ: اخلاقی الزام یا سیاسی ناگزیریت؟
سلطان اورنگزیب عالمگیر پر ایک سنگین اخلاقی الزام یہ عائد کیا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے والد شہنشاہ شاہ جہاں کو قید کر کے اور اپنے بھائیوں کو قتل کرا کے اقتدار حاصل کیا۔ نوآبادیاتی مؤرخین نے اس واقعے کو مشرقی آمریت، بے رحمی اور اقتدار کی ہوس کی علامت بنا کر پیش کیا، جبکہ یورپی تاریخ میں اسی نوع کے واقعات کو “سیاسی مجبوری” یا “ریاستی استحکام” کا نام دیا جاتا رہا۔ علامہ شبلی نعمانی اس دوہرے معیار کو سختی سے رد کرتے ہیں اور اس واقعے کو مغل سیاسی روایت کے تناظر میں دیکھنے پر زور دیتے ہیں۔
شبلی نعمانی واضح کرتے ہیں کہ مغل سلطنت میں جانشینی کا کوئی واضح اور متعین قانون موجود نہیں تھا۔ تخت کے لیے شہزادوں کے درمیان مسلح تصادم ایک تسلیم شدہ سیاسی حقیقت تھی، جس کی مثالیں بابر سے لے کر شاہ جہاں تک ہر دور میں ملتی ہیں۔ شاہ جہاں کے بیٹوں—دارا شکوہ، شاہ شجاع، مراد بخش اور اورنگزیب—کے درمیان جنگ اقتدار کسی ایک فرد کی ذاتی خواہش نہیں بلکہ اس نظام کا لازمی نتیجہ تھی جس میں “قابلِ حکمرانی” ہونے کا فیصلہ میدانِ جنگ میں ہوتا تھا۔
علامہ شبلی اس نکتے پر خصوصی توجہ دلاتے ہیں کہ اورنگزیب نے ابتدا میں اقتدار کے لیے براہِ راست بغاوت نہیں کی بلکہ دارا شکوہ کی سیاسی ناپختگی، درباری سازشوں اور ریاستی امور میں ناکامیوں کے باعث حالات اس نہج پر پہنچے کہ سلطنت کا شیرازہ بکھرنے لگا۔ دارا شکوہ کی سرپرستی میں ایسے عناصر مضبوط ہو رہے تھے جو نہ صرف ریاستی نظم کے لیے خطرہ تھے بلکہ مغل اشرافیہ اور صوبائی امرا میں شدید بے چینی پیدا کر چکے تھے۔
شاہ جہاں کی نظر بندی کو بھی نوآبادیاتی تاریخ نویسی میں انتہائی سفاکانہ انداز میں پیش کیا گیا۔ علامہ شبلی نعمانی مستند شواہد کی بنیاد پر واضح کرتے ہیں کہ شاہ جہاں کو آگرہ کے قلعے میں عزت، آرام اور شاہانہ سہولیات کے ساتھ رکھا گیا۔ ان کے لیے علیحدہ محل، خادم، طبی سہولتیں اور اہلِ خانہ سے ملاقات کی اجازت موجود تھی۔ یہ صورتِ حال کسی ظالم قید کی نہیں بلکہ ایک ایسی سیاسی انتظامی تدبیر کی تھی جس کا مقصد سلطنت کو خانہ جنگی سے بچانا تھا۔
جہاں تک بھائیوں کے قتل کا تعلق ہے، علامہ شبلی اس تلخ حقیقت کا اعتراف کرتے ہیں کہ یہ واقعات اخلاقی اعتبار سے دردناک ہیں، مگر ان کا تجزیہ اس دور کے سیاسی معیارات سے کیا جانا چاہیے، نہ کہ جدید اخلاقی پیمانوں سے۔ یورپ میں اسی دور میں ہونے والی شاہی سازشیں، قتل اور معزولیاں تاریخ کا حصہ ہیں، مگر وہاں انہیں مذہبی ظلم کے بجائے “سیاسی حقیقت” سمجھا جاتا ہے۔ صرف اورنگزیب کے معاملے میں اس عمل کو مذہبی سنگدلی کا ثبوت بنا دینا علمی دیانت کے منافی ہے۔
علامہ شبلی نعمانی کے نزدیک اصل سوال یہ نہیں کہ اورنگزیب تخت تک کیسے پہنچے، بلکہ یہ ہے کہ انہوں نے تخت پر بیٹھنے کے بعد سلطنت کو کس طرح چلایا۔ اگر وہ واقعی ایک خونخوار اور اقتدار کے نشے میں چور حکمران ہوتے تو ان کا پچاس سالہ دورِ حکومت عدل، نظم، مالیاتی اصلاحات اور انتظامی استحکام کی مثال نہ بن پاتا۔ اس لیے شاہ جہاں کی نظر بندی اور بھائیوں سے جنگ کو ایک اخلاقی سانحے کے بجائے مغل سیاسی روایت کی ناگزیر حقیقت کے طور پر سمجھنا زیادہ منصفانہ اور تاریخی طور پر درست ہے۔
نتیجہ
سلطان اورنگزیب عالمگیرؒ کی شخصیت صدیوں سے تاریخ کے کٹہرے میں کھڑی ہے، مگر یہ کٹہرہ اکثر انصاف کے بجائے تعصب، سیاسی مفادات اور نوآبادیاتی ذہنیت کا عکاس رہا ہے۔ برطانوی دور میں مرتب کی گئی تاریخ نے دانستہ طور پر اورنگزیب کو ایک متعصب، سخت گیر اور غیر روادار حکمراں کے طور پر پیش کیا، تاکہ مغلیہ سلطنت کے زوال کو داخلی کمزوری کے بجائے اسلامی طرزِ حکومت کا نتیجہ ثابت کیا جا سکے۔ اس بیانیے کا مقصد محض ایک فرد کی کردار کشی نہیں تھا بلکہ پورے مسلم عہدِ حکمرانی کو اخلاقی طور پر ناکام دکھانا تھا۔