🖊️بقلم محمد عادل ارریاوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قارئین کرام ۔ اسلام نے عورتوں کوایک مناسب مقام دیاہے، اسلام نے یہ بتایا ہے کہ ایک عورت کےاندرماں، بہن ، بیٹی اوربیوی کا روپ ہوتاہے، اسلام نے اس کے حقوق کی وضاحت بھی کی ہے کہ عورت کے بحیثیت ماں کے حقوق کیا ہیں بحیثیت بہن کے حقوق کیا ہیں ،بحیثیت بیٹی کے حقوق کیا ہیں ،بحیثیت بیوی کے حقوق کیا ہیں ،
اور یہ تصور بھی اسلام نے دیا ہے کہ جیسے مرد علمی دینی فکری اوراصلاحی اوردینی ودنیوی علوم وفنون میں ماہر ہوسکتے ہیں ایسےہی خواتین حضرات بھی ان تمام علوم میں ماہر ہوسکتے ہیں اورتاریخ بتاتی ہےکہ خواتین نےبھی اپنے دینی ودنیوی علوم سے انسانیت کو بہرہ مند کیاہے، بڑے بڑے صحابہ جیسے حضرت ابو ہریرہ ،حضرات خلفاء راشدین ، حضرت عبد اللہ بن مسعود،حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضوان اللہ علیہم اجمعین وغیرہ ،ساری دنیا ان کےعلم کی محتاج ہے، اسی طرح بی بی عائشہ ،بی بی ام سلمہ ،بی بی ام حبیبہ ،بی بی حفصہ اوردیگرازواج مطہرات اورکبارصحابیات کےعلم کی محتاج ہے،یہ مرتبہ صرف اسلام نے دیا ہے دنیا کا کوئی مذہب آپ بلا مبالغہ، بلا اعتراض، بلا تنقید کے بڑے حوصلے سے آپ تو پڑھے لکھے ہیں۔ آپ الحمدللہ مطالعہ کرتے ہیں، کتابیں پڑھتے ہیں، آپ تاریخ عالم، تاریخ اقوام عالم پر نظر ڈال لیں ، تاریخ انسانیت پر نظر ڈال لیں کہ کسی مذہب نے عورت کے لئے یہ حقوق ، یہ مرتبہ، یہ مقام، یہ عزت دی ہے ؟جو اسلام نے اس کو دی ہے،قرآن کی اس آیت سےواضح ہوتاہےکہ اللہ فرماتےہیں:
اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ وَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْقٰنِتٰتِ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الصّٰدِقٰتِ وَ الصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰبِرٰتِ وَ الْخٰشِعِیْنَ وَ الْخٰشِعٰتِ وَ الْمُتَصَدِّقِیْنَ وَ الْمُتَصَدِّقٰتِ وَ الصَّآىٕمِیْنَ وَ الصّٰٓىٕمٰتِ وَ الْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَهُمْ وَ الْحٰفِظٰتِ وَ الذّٰكِرِیْنَ اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ الذّٰكِرٰتِۙ-اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ مَّغْفِرَةً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا(الاحزاب 35)
بےشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور ایمان والے اور ایمان والیاں اور فرمان بردار اور فرمان برداریں اور سچے اور سچیاں اور صبر والے اور صبر والیاں اور عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے والیاں اور خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں اور روزے والے اورروزے والیاں اور اپنی پارسائی نگاہ رکھنے والے اور نگاہ رکھنے والیاں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں ان سب کے لیے اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے،
اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَ الْمُسْلِمٰتِ: بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں ۔} شانِ نزول:حضرت اسماء بنت ِعمیس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا جب اپنے شوہرحضرت جعفر بن ابی طالب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے ساتھ حبشہ سے واپس آئیں تو ازواجِ مُطَہَّرات رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُنَّ سے مل کر انہوں نے دریافت کیا کہ کیا عورتوں کے بارے میں بھی کوئی آیت نازل ہوئی ہے۔ اُنہوں نے فرمایا :نہیں ، تو حضرت اسماء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہَا نے حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے عرض کی: یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، عورتیں توبڑے نقصان میں ہیں ۔ارشادفرمایا :کیوں ؟عرض کی: ان کا ذکر (قرآن میں) خیر کے ساتھ ہوتا ہی نہیں جیسا کہ مردوں کا ہوتا ہے۔ اس پر یہ آیت ِکریمہ نازل ہوئی اور ان کے دس مراتب مردوں کے ساتھ ذکر کئے گئے اور ان کے ساتھ ان کی مدح فرمائی گئی۔
اس آیت میں مردوں کے ساتھ عورتوں کے جو دس مراتب بیان ہوئے ان کی تفصیل درج ذیل ہے،
(1)…وہ مرد اور عورتیں جو کلمہ پڑھ کر اسلام میں داخل ہوئے اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت کی اور ان احکام کے سامنے سرِ تسلیم خم کردیا۔
(2)…وہ مرد اور عورتیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی رسالت کی تصدیق کی اور تمام ضروریاتِ دین کو مانا۔
(3)…وہ مرد اور عورتیں جنہوں نے عبادات پر مُداوَمَت اختیار کی اور انہیں (ان کی حدود اور شرائط کے ساتھ) قائم کیا۔
(4)…وہ مرد اور عورتیں جو اپنی نیت،قول اور فعل میں سچے ہیں ۔
(5)…وہ مرد اور عورتیں جنہوں نے نفس پر انتہائی دشوار ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے طاعتوں کی پابندی کی، ممنوعات سے بچتے رہے اور مَصائب و آلام میں بے قراری اور شکایت کا مظاہرہ نہ کیا۔
(6)…وہ مرد اور عورتیں جنہوں نے طاعتوں اور عبادتوں میں اپنے دل اور اعضاء کے ساتھ عاجزی و اِنکساری کی۔
(7)…وہ مرد اور عورتیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے عطا کئے ہوئے مال میں سے اس کی راہ میں فرض اور نفلی صدقات دئیے۔
(8)…وہ مرد اور عورتیں جنہوں نے فرض روزے رکھے اور نفلی روزے بھی رکھے ۔ منقول ہے کہ جس نے ہر ہفتہ ایک درہم صدقہ کیا وہ خیرات کرنے والوں میں اور جس نے ہر مہینے اَیّامِ بِیض (یعنی قمری مہینے کی 13، 14، 15 تاریخ) کے تین روزے رکھے وہ روزے رکھنے والوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
(9)…وہ مرد اور عورتیں جنہوں نے اپنی عفت اور پارسائی کو محفوظ رکھا اور جو حلال نہیں ہے اس سے بچے۔
(10)…وہ مرد اور عورتیں جو اپنے دل اور زبان کے ساتھ کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں ۔کہا گیا ہے کہ بندہ کثرت سے ذکر کرنے والوں میں اس وقت شمار ہوتا ہے جب کہ وہ کھڑے ، بیٹھے ،لیٹے ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرے۔
خلاصہ یہ ہے کہ جو عورتیں اسلام ،ایمان اورطاعت میں ،قول اور فعل کے سچا ہونے میں ،صبر، عاجزی و انکساری اور صدقہ و خیرات کرنے میں ،روزہ رکھنے اور اپنی عفت و پارسائی کی حفاظت کرنے میں اور کثرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے میں مردوں کے ساتھ ہیں ،توایسے مردوں اور عورتوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال کی جزا کے طور پر بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے۔(ابو سعود ، الاحزاب ، تحت الآیۃ : ۳۵ ، ۴ / ۳۲۱ ، مدارک، الاحزاب ، تحت الآیۃ: ۳۵، ص۹۴۱، خازن، الاحزاب، تحت الآیۃ: ۳۵، ۳ / ۵۰۰، ملتقطاً)
اللہ کے قرآن کو کھول کر دیکھیں اللہ نے مرد کو جو حق دیا ہے جو مرد کا ہے وہی عورت کا ہے، مرد مسلمان ہے، تو عورت بھی مسلمان ہے، مرد مؤمن ہے تو عورت بھی مؤمنہ ہے، مرد عابد ہے تو عورت بھی عابدہ ہے، مرد صائم ہے (روزے دار) ہے تو عورت بھی صائمہ ہے، مرد اگر تہجد گزار ہے تو عورت بھی تہجد گزار ہے، مرد اگر حاجی ہے تو عورت بھی حاجن ہے، مرد اگر عمرہ کرتا ہے تو عورت بھی عمرہ کرتی ہے، مرد اگر نماز ادا کرتا ہے تو عورت بھی نماز ادا کرتی ہے، مرد اگر قربانی کرتا ہے تو عورت بھی قربانی کرتی ہے، مرد اگر زکوۃ دیتا ہے تو عورت بھی زکوۃ دیتی ہے، مرد اگر صدقات کرتا ہے تو عورت بھی صدقات کرتی ہے تو یہ برابری یہ مرتبہ یہ عزت اور یہ عظمت کس نے دی ہے ماسوائے اسلام کے عورت کا اصلی مقام اگر واضح کیا،بنایا اور اونچا کیا ہے تو صرف اسلام نے کیا ہے قرآن کی نظر میں عورت کا کیا مقام ہے ، اور حدیث کی نظر میں عورت کا کیا مقام ہے، صحابہ کی نظر میں عورت کا کیا مقام ہے فقہاء کی نظر میں عورت کا کیا مقام ہے اور ان کے حقوق کیا ہیں اور مسائل کیا ہیں ، ان کے احکام کیا ہیں ۔
بڑا ہی افسوس ہے کہ اگر آج کی عورت ہماری بہن بیٹی اسلام کو نہ سمجھے اسلام میں اپنے مقام کو نہ سمجھے تو اسلام کا قصور تو نہیں ہے اس کی اپنی جہالت کا قصور ہے۔
اسلام تو ایسی نعمت ہے خدا کی قسم ایسی رحمت ہے ایسا دین ہے جو عورت کا محافظ ہے اسلام تو عورت کو ملکہ بناتا ہے ، اسلام اس کی عزت کا محافظ ہے۔ اسلام اس کی جان کا محافظ ہے ۔ اسلام اس کوبہت بلندمقام تک پہونچاتاہے،
آپ اندازہ کریں اور ساری دنیا کی تہذیبوں پر نظر ڈالیں آج بھی آپ دیکھ رہے بنگال اور ہندوستان کے کچھ علاقہ میں آج بھی عورت فروخت ہوتی ہے بکتی ہے آج بھی عورت کو جوئے پر لگایا جاتا ہے، جواری کے پاس پیسے ختم ہو گئے تووہ بیوی کوداؤ پرلگادیتاہے،گویاکہ وہ اس کی ملکیت ہے جو چاہے جوئے میں ہار دئے آپ زمانہ جاہلیت میں جاہلیت کو تو چھوڑ دیں موجودہ دور کی جاہلیت کےاحوال دیکھیں۔
آزادئ نسواں کے دلفریب نعرے کی آڑ میں مغرب اور مغربی نظام نے عورت کو روزی کمانے میں لگا کر اسے تمام فطری اور اخلاقی قیود سے آزاد کر دیا ہے جس کی وجہ سے معاشرہ تباہی کے دہانے پر جا کھڑا ہوا ہے۔
انسانی زندگی میں مرد اور عورت باہم لازم ملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات اس بارے بھی عورت کو خود مختاری فراہم کرتی ہے ۔ عورت کو نکاح کے معاملے میں آزادی دی ہے ، سن بلوغ کو پہنچنے کے بعد وہ اپنے نکاح کا فیصلہ خود کر سکتی ہے مزید یہ کہ نکاح کے بعد باہمی معاملات سنگینی کی طرف جانے لگیں تو فسخ نکاح کے لیے خلع کا حق بھی اسلام نے عورت کو دیا ہے لیکن ایسی آزاد آزادی کی آگ میں بھی نہیں جھونکا کہ وہ خاندانی طور پر محرومی کا شکار ہو یا فسق و فجور میں مبتلا ہو جائے ایسے وقت میں اسلام اولیاء کو نکاح کے معاملے میں دخل اندازی کی اجازت دیتا ہے تا کہ عورت کا مستقبل برباد ہونے سے بچ جائے ۔ یہ سراسر شفقت ہے جسے مسلم معاشرے کی بعض مغربی اقدار سے متاثرہ بچیاں اپنے اوپر حکم سمجھتی ہیں۔
جب سے اللہ تعالی نے انسانیت کو وجود بخشا اسی وقت سے مرد و عورت لازم و ملزوم کی حیثیت سے برابر چلے آرہے ہیں۔ مرد کو اللہ تعالی نے خارجی امور کا ذمہ دار قرار دیا اور عورت کو امور خانہ داری کے فرائض سونپے۔ مرد گھر سے باہر کے تمام معاملات کا نگہبان ہے اور عورت کو گھر کے اندر کے سارے امور تفویض ہوئے ہیں۔
چونکہ مرد وزن دونوں ہی معاشرے میں اپنی اپنی الگ الگ حیثیت کے حامل ہیں اس لیے دونوں کو آفاقی و سماوی ہدایات و احکامات کا مکلف بنایا گیا ہے۔ احکام اسلامیہ پر عمل دونوں کے لیے ضروری ہے۔ اب دوسری طرف یہ بات اپنی جگہ پر مسلم ہے کہ عمل کا مدار علم پر ہے۔ علم صحیح ہو گا تو عمل بھی درست ہو گا اور اگر علم صحیح نہ ہوا تو عمل بیکار ہو گا۔ اس تناظر میں جیسے مرد کی تعلیم اس کی ضرورت ہے ایسے ہی خاتون کی تعلیم بھی اس کی ضرورت ہے اگر مرد تعلیم کے حصول کے بغیر زندگی گزارے گا تو معاشرے کے لیے وبال جان اور سراسر خسارے اٹھانے والا ہو گا۔ اسی طرح اگر عورت تعلیم حاصل نہیں کرے گی تو زمانے پر بوجھ بنے گی۔ معلوم ہوا کہ مرد کی طرح عورت کی تعلیم بھی ناگزیر ہے۔ یہاں تک تو سب اس پر متفق ہیں ، اس سے آگے جھگڑا شروع ہوتا ہے۔ اسلام کے نظام تعلیم میں عورت کی محض تعلیم ہی نہیں بلکہ اس کے حیاء تقدس اور عزت و شرافت کو بھی ملحوظ رکھا گیا ہے کہ یہ تعلیم تو بہر حال حاصل کرے ہی لیکن اسلام کے مقرر کردہ دائرے کے اندر رہتے ہوئے ایسی تعلیم جس سے اس کی دنیا بھی سنور جائے اور آخرت بھی۔ اللہ ربّ العزت تمام عورتوں کو دینی فہم و فراست عطافرماۓ ان کی مکمل حفاظت فرماۓ آمین ثم آمین یارب العالمین ۔