علامہ اقبال کی ٹیپو سلطان کے
مزار پر حاضری
محمد قمر الزماں ندوى
ڈاکٹر علامہ اقبال مرحوم کی شاعری اور شخصیت سے مجھے دلچسپی ہمیشہ سے رہی ہے، ان کے بارے کہیں کوئی تحریر ملتی ہے، تو ضرور پڑھتا ہوں ، نقوش اقبال جو ،،روائع اقبال ،، کا کامیاب اور دلکش اُردو ترجمہ ہے، بلکہ بہترین ترجمانی ہے، پروفیسر شمس تبریز خاں صاحب مرحوم نے ایسی کامیاب اور اس خوبی سے ترجمانی کی ہے کہ کہیں محسوس نہیں ہوتا کہ یہ اصل کتاب نہیں ہے ، کسی عربی کتاب کا ترجمہ ہے ۔
اقبال شناسی اور اقبال فہمی میں یہ کتاب بہت ہی معاون ہے، اور میری پسندیدہ کتاب بھی ہے۔
بہر حال علامہ اقبال مفکر اسلام اور ترجمان اسلام تھے ، ان کا سوز و ساز اور درد و گداز آج بھی عالم اسلام اور امت اسلامیہ ہندیہ کے لیے بانگ درا کی حیثیت رکھتا ہے، وہ ملت اسلامیہ اور عالم اسلام کی سربلندی کے لئے کڑھتے اور تڑپتے تھے ، کاش مسلم سیاست دان اور عالم اسلام کے ،،اسلام ناآشنا راہبر،، اس حقیقت سے آشنا ہوسکیں ۔
فکر اقبال پر نقد کرنے والوں کی بھی کمی نہیں ہے ، بعض تنقیدیں بالکل حق بجانب بھی ہیں، ان کے بعض دینی افکار و نظریات امت کے سواد اعظم کے نقطئہ نظر سے بالکل مختلف ہیں ۔ لیکن اس سے صرف نظر بحیثیت مجموعی اقبال مرحوم امت مسلمہ کے محسن اور غم خوار تھے، ان کی پوری زندگی امت مسلمہ کی سر بلندی، فکر اسلامی کی ترویج اور مغربی تہذیب کی مذمت میں گزری ۔
اقبال کی شخصیت کا تعارف اگر ہم مختصر لفظوں کرانا چاہیں تو کہہ سکتے ہیں کہ وہ ایک عظیم اور بلند پایہ شاعر تھے وہ شاعر سے بڑھ کر فلسفی تھے اور فلسفی سے زیادہ ایک مرد مومن اور سچے مسلمان تھے ۔
21/اپریل 1938ء کے 5/ بجے تاریخ کی یہ عبقری شخصیت اپنے جان آفریں کے حوالہ ہوگئی ، خدا کرے وہ اپنے معبود کے حضور ان ،، ارباب ہمم،، اور ،، پاکان حرم،، کی صف میں ہوں ،جن کے بارے میں ان کی زبان حق ترجمان نے موت سے صرف دو دنوں پہلے کہا تھا :
بہشتے بہر ارباب ہمم است
بہشتے بہر پاکان حرم است
آج ،،علامہ اقبال کی ٹیپو سلطان کے مزار پر حاضری،، یہ مضمون ،،اسفار اقبال،، کتاب سے اخذ کرکے ایک صاحب ذوق نے فیس بک پر پوسٹ کیا تھا ، مضمون کو پڑھنے کے بعد احساس ہوا کہ علامہ اقبال کی ٹیپو شہید سے جو عقیدت تھی اور جو خراج عقیدت انہوں نے اس شہید کے لئے پیش کیا ہے اور جو بلند و بالا الفاظ ان کے لیے اس سفر نامے میں کہے ہیں ، اس سفرنامے کو قارئین کی خدمت میں بھی استفادہ کے لئے حاضر کر دوں ۔
پیش خدمت ہے ،، وہ سفر نامہ،، ملاحظہ فرمائیں ۔
١١ جنوری ١٩٢٩ء کو ریاست میسور کی طرف سے اُن کے لیے سلطان ٹیپو کے قلعہ سرنگا پٹنم جانے اور وہاں قریب ہی سلطان ٹیپو کے مزار کی زیارت کا پروگرام تھا. سو صبح تقریباً نو بجے سب موٹر کاروں میں سوار ہو گئے. اس قافلے کی ایک موٹر کار میں میسور کے مشہور و معروف درباری موسیقار علی جان اپنے سازندوں سمیت موجود تھے جنہیں مہاراجہ میسور نے علامہ اقبال کی صحبت میں رہنے کے لیے خاص طور پر بھیجا تھا.
مقبرے کے دروازے پر ریاست کی طرف سے ہر وقت نوبت بجتی رہتی ہے. روضہ سیاہ سنگِ مرمر یا سنگِ موسیٰ سے تعمیر کیا گیا ہے. علامہ اقبال بارہ بجے کے قریب سلطان ٹیپو کے مقبرے یعنی گنبدِ سلطانی پر پہنچے. علامہ اقبال اپنے احباب کے ساتھ روضہ سلطانی میں نہایت اشتیاق اور ادب کے ساتھ داخل ہوئے. مزار پر سرخ غلاف چڑھا ہوا تھا. فاتحہ کے بعد علامہ اقبال نے کہا کہ میں یہاں تخلیہ میں مراقبہ کرنا چاہتا ہوں جب تک میں باہر نہ آ جاؤں، کوئی مجھے آواز نہ دے. سب باہر آ گئے اور انہوں نے اندر سے دروازہ بند کر لیا.
علامہ اقبال نے مزار کے اندر داخل ہوتے ہی قرآن مجید کی وہ آیت تلاوت فرمائی جو شہداء کے ضمن میں ہے (جو اللہ کے راستے میں مارے گئے انہیں مردہ مت کہو وہ زندہ ہیں. مگر لوگوں کو شعور نہیں ہے). گنبدِ سلطانی میں تین قبریں ہیں. سیاہ غلاف والی قبر حیدر علی، والدِ سلطان ٹیپو کی ہے. اور دائیں طرف دو قبروں میں ایک سنہری قبر فاطمہ، والدہِ سلطان ٹیپو کی اور دوسری قبر جس پر سرخ غلاف ہے سلطان ٹیپو شہید کی ہے. سرخ رنگ دراصل شہید کی نشانی ہے. سلطان ٹیپو نے خود اپنے والدین کو یہاں دفن کیا اور یہ مقبرہ تعمیر کرایا تھا. مزار کے اندر کی فضاء ایسی ہے کہ انسان پر ہیبت طاری ہو جاتی ہے. علامہ اقبال نے جس عقیدت اور خلوص سے روضہ کے اندر فاتحہ خوانی کی، اُسے بیان نہیں کیا جا سکتا. روضہ کے اندر چاروں طرف دیواروں اور تعویذوں پر کئی فارسی اشعار شہداء کی شان میں کندہ ہیں. سلطان ٹیپو ١٢١٣ھ بمطابق ١٧٩٩ء میں شہید ہوئے اور اُن کی تاریخِ شہادت "شمشیر گم شد" کے الفاظ سے برآمد ہوتی ہے. یہی تاریخ اُن کے بیشتر سوانح نگاروں نے بھی تحریر کی ہے. روضے سے باقی لوگ تو باہر چلے گئے لیکن تنہا اقبال، سلطان شہید کی تربت کے قریب آنکھیں بند کیے دیر تک کھڑے رہے اور سب سے آخر میں باہر نکلے. عبداللہ چغتائی لکھتے ہیں کہ میں نے جو منظر اقبال کے یہاں دیکھا اُسے الفاظ میں تو ڈھالنا ممکن نہیں. پھر بھی اس پر ایک الگ مضمون بعنوان "شمشیر گم شد" لاہور واپس آ کر تحریر کیا جو "نیرنگِ خیال" میں طبع ہوا.
روضہ کے قریب ایک چھوٹی سی مسجد ہے. اس کے صحن میں سب لوگ جا کر بیٹھ گئے اور علی جان نے نہایت سوز کے عالم میں اقبال کا اردو اور فارسی کلام گانا شروع کر دیا. اقبال کے آنسوؤں کا سلسلہ نہ تھمتا تھا اور حاضرین پر بھی رقت طاری تھی. علی جان یہ کیفیت دیکھ کر گھبرا گئے اور گاتے گاتے رک گئے. اقبال نے بڑے اضطراب کے عالم میں کہا : رک کیوں گئے جاری رکھو. سو علی جان گاتے رہے اور اقبال آنسو بہاتے رہے. جب وہاں سے رخصت ہوئے تو میسور کے مشہور تاجر سیٹھ محمد ابا (عباس) نے، جو اُن کے ساتھ تھے، پوچھا کہ سلطان شہید نے آپ کو کوئی پیغام دیا. اقبال نے جواب دیا کہ اُن کی معیت میں میرا ایک لمحہ بھی بیکار نہیں گزرا. پھر فرمایا کہ ایک پیغام یہ ملا ہے :
در جہاں نتواں اگر مردانہ زیست
ہمچو مرداں جاں سپردن زندگیست
یہ شعر اُس واقعہ کی طرف اشارہ کرتا ہے جب سلطان ٹیپو کو شہادت سے کچھ دیر قبل کسی مشیر نے رائے دی تھی کہ انگریزوں سے مصالحت کر لی جائے، اور انہوں نے فوراً جواب دیا تھا کہ "گیدڑ کی صد سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے".
بعد ازاں رستے میں چار اور شعر بھی موزوں ہو گئے جو اقبال کے انتہائی ذاتی تاثرات پر مبنی تھے اور اُن کے کسی مطبوعہ کلام میں شامل نہیں :
آتشے در دل دگر بر کردہ ام
داستانے از دکن آوردہ ام
در کنارم خنجرِ آئینہ فام
می کشم اورا بتدریج از نیام
نکتہ گویم ز سلطانِ شہید
زاں کہ ترسم تلخ گردو روزِ عید
پیشتر رفتم کہ بوسم خاکِ او
تاشنیدم از مزارِ پاکِ او
در جہاں نتواں اگر مردانہ زیست
ہمچو مرداں جاں سپردن زندگیست
ترجمہ : یعنی میں دکن سے ایک داستان اپنے ساتھ لایا ہوں، جس نے میرے دل میں نئی حرارت پیدا کر دی ہے.
میرے پہلو میں آئینے جیسا ایک چمکدار خنجر ہے جسے میں آہستہ آہستہ نیام سے باہر نکال رہا ہوں.
سلطان شہید کی طرف سے مجھے ایک نکتہ ملا ہے. جسے میں بیان کیے دیتا ہوں، گو مجھے خوف ہے کہ اسے سن کر کہیں تیری عید کی خوشیوں میں تلخی کا رنگ نہ بھر جائے.
میں جب اُن کی خاک کو بوسہ دینے کی غرض سے وہاں تک پہنچا تو مزارِ پاک سے ندا آئی :
اگر جہاں میں مردوں کی طرح زندہ رہنا ممکن نہ ہو تو مردانہ وار جان قربان کر دینے ہی میں زندگی ہے.
حقیقت یہ ہے کہ عصرِ حاضر میں ٹیپو سلطان شہید کو صحیح معنوں میں اقبال ہی نے تلاش کیا اور اس آتشِ رفتہ کا سراغ لگا کر مسلمانوں میں اسلام کے لیے تڑپ پیدا کی. اقبال نے اُس شہید کی شخصیت کے بارے میں ایسے اعلیٰ و ارفع افکار کا اظہار کیا ہے کہ اُس کی موت پر زندگی رشک کرتی ہے.
اقبال ٹیپو سلطان کو شہیدانِ محبت کا امام قرار دیتے ہیں اور اُنہیں اسلامی ممالک کی عزت و آبرو سمجھتے ہیں. اُن کے نزدیک سلطان ٹیپو شہید کا نام چاند اور سورج سے بھی زیادہ روشن اور اُن کی قبر کی مٹی ہم زندہ کہلانے والوں سے کہیں زیادہ زندہ ہے.
اقبال کہتے ہیں : "عشق ایک راز جسے سلطان ٹیپو شہید نے فاش کیا. کسی کو کیا معلوم کہ اُس نے کس شوق سے راہِ حق میں اپنی جان دی. نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیضانِ نظر سے سلطان شہید کا فقر جذب امام حسین رضی اللہ عنہ کا وارث بن گیا. وہ اگرچہ دنیائے فانی سے چلا گیا لیکن اس کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا."
سلطان شہید، اقبال سے دریافت کرتا ہے کہ :
زائر شہر و دیارم بودہ
چشمِ خود را بر مزارم سودہ
اے شناسائے حدودِ کائنات
در دکن دیدی ز آثارِ حیات ؟
(جاوید نامہ)
ترجمہ : تو نے میرے وطن اور شہر کو دیکھا ہے اور میری قبر کی خاک کو آنکھوں سے لگایا ہے.
کیا تو نے دکن میں زندگی کے کچھ آثار بھی دیکھے ہیں.
زندگی را چیست رسم و دین و کیش
یک دم شیری بہ از صد سالِ میش
ترجمہ : زندگی کے لیے رسم و دین اور مسلک کیا چیز ہے؟ شیر کا ایک پل (زندہ رہنا) بھیڑ کے سو سال (زندہ رہنے) سے بہتر ہے.
یہ فقرہ سلطان ٹیپو نے اپنی شہادت کے وقت کہا تھا یعنی شیر بن کر رہو اور شیر ہی کی طرح مرو. یہی حقیقی زندگی ہے.
(اسفارِ اقبال سے اقتباس)