نیا سال عبرت کا موقع یا غفلت کا تہوار

✍🏻 ازقلم محمد عادل ارریاوی 
______________________________
محترم قارئین سال کا اختتام اور نئے سال کی آمد خود احتسابی اور اصلاح کا موقع ہے کیونکہ وقت تیزی سے کم ہو رہا ہے اور زندگی اپنے انجام کی طرف بڑھ رہی ہے زمانہ قدیم کی تاریخ کو دیکھا جائے تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ اکثر اقوام کے پاس اپنی اپنی تاریخ اور تقویم تھی جس سے وہ تاریخ اور ماہ و سال کا حساب کیا کرتے تھے اسی طرح اسلام کی تاریخ میں سن ہجری کا اجراء کیا گیا۔ ہمارے ہاں دو قسم کے کیلنڈر استعمال ہوتے ہیں ایک قمری کیلنڈر جس کو ہجری بھی کہا جاتا ہے دوسرا شمسی کیلنڈر جس کو عیسوی بھی کہا جاتا ہے ہجری کیلنڈر کا آخری مہینہ ذوالحجہ اور پہلا مہینہ محرم ہوتا ہے اور اس کی ابتدا حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ہجرت مدینہ سے ہوئی اسلام کی اہم عبادات روزہ حج اور زکوۃ وغیرہ کا تعلق اسی ہجری تقویم کے ساتھ ہے جبکہ عیسوی سال کا آخری مہینہ دسمبر اور پہلا مہینہ جنوری ہوتا ہے۔ سالِ رواں تیزی سے اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے اور جلد ہی عیسوی کیلنڈر کے مطابق 2026ء کا آغاز ہونے والا ہے وقت نہایت سرعت کے ساتھ گزر رہا ہے اور انسان کی زندگی اپنے انجام کی جانب رواں دواں ہے ایسے میں سال کا ختم ہونا اور نئے سال کا آنا درحقیقت خوشی و جشن کا نہیں بلکہ خود احتسابی غور و فکر اور عبرت حاصل کرنے کا موقع ہونا چاہیے اس لیے کہ زندگی کے لمحات بڑھ نہیں رہے بلکہ مسلسل کم ہو رہے ہیں ضرورت اس بات کی ہے کہ انسان آگے بڑھنے کا عزم کرے اپنے حوصلوں کو تازہ کرے اور اپنی اصلاح کی فکر کرے۔ لیکن یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ ان سب باتوں کو جاننے کے باوجود نئے سال کا آغاز اکثر لہو و لعب جشن و طرب اور اخلاقی حدود کو پامال کرتے ہوئے کیا جاتا ہے خواہشات کی ناجائز تکمیل بے راہ روی اور بدتہذیبی کو فروغ دیا جاتا ہے اور رنگینیوں و مستیوں میں ڈوب کر نئے سال کا استقبال کیا جاتا ہے حالانکہ نئے سال کا یہ جشن دراصل عیسائی تہذیب سے وابستہ ہے جہاں قدیم زمانے سے اس موقع پر تقریبات منعقد کی جاتی رہی ہیں ان کے عقیدے کے مطابق 25 دسمبر کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت ہوئی اسی خوشی میں کرسمس منایا جاتا ہے اور یہ جشن کا سلسلہ نئے سال کی آمد تک جاری رہتا ہے۔
جس طرح یہ سال ختم ہو گیا اور نیا سال شروع ہو رہا ہے اسی طرح زندگی بھی ختم ہوتی جا رہی ہے اس لئے زندگی کے جو لمحات باقی ہیں ان کو قیمتی بنالیا جائے اور آخرت کی تیاری کر لی جائے کامیاب لوگ اور کامیاب ادارے نیا سال شروع ہوتا ہے تو اپنی پلاننگ کرتے ہیں کہ یہ سال ہم نے کیسے گزارنا ہے ؟ کون سے کام رہ گئے ہیں جو ہم نے کرنے ہیں ؟ ہم اپنے کاروبار کو مزید کیسے بہتر بنا سکتے ہیں ؟ ہم مستقبل میں مزید کس طرح ترقی کر سکتے ہیں ؟ اور مستقبل کس طرح بہتر بنا سکتے ہیں ؟ جبکہ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ اللہ نے انسان کو یہ مختصر زندگی آخرت کا مستقبل بنانے کے لئے دی ہے۔ اس لئے ہم یہ پلاننگ کریں کہ گزشتہ سال میں نمازی نہیں تھا اس سال میں نمازی بنوں گا اور ایک نماز بھی نہیں چھوڑوں گا۔ گزشتہ سال میں نے تلاوت قرآن مجید کی پابندی نہیں کی اس سال میں پابندی کروں گا گزشتہ سال میں نے گناہوں میں زندگی گزاری اس سال میں نیکی والی زندگی گزاروں گا زندگی مختصر ہے پتہ بھی نہیں چلتا اور اس کے دن ہفتوں میں ہفتے مہینوں میں اور مہینے سالوں میں تبدیل ہو کر ختم ہوتے چلے جاتے ہیں مغربی اقوام کے لوگ ہر سال نیا سال شروع ہونے پر ہیپی نیو ایئر نائٹ کے نام سے اور عمر کا ایک سال پورا ہونے پر ہیپی برتھ ڈے کے نام سے جشن اور خوشی مناتے ہیں اب ان کی نقالی کرتے ہوئے کئی مسلمان بھی اس موقع پر جشن اور خوشی مناتے اور مبارکباد دے رہے ہوتے ہیں جبکہ اگر غور کیا جائے تو اصل میں یہ جشن اور خوشی منانے کا موقع نہیں ہے بلکہ یہ سوچنے کا موقع ہے کہ یہ جو میری عمر کا ایک سال بڑھ گیا ہے یہ دراصل میری زندگی کا ایک سال کم ہو گیا ہے اور یہ محاسبہ کرنے کا موقع ہے کہ میں نے اپنی زندگی کا ایک اور سال تو گزار لیا لیکن میں نے اس کو کتنا قیمتی بنایا؟ اور یہ سبق حاصل کرنے کا موقع ہے کہ جس طرح یہ سال گزر گیا اسی طرح زندگی کے باقی ماندہ اوقات بھی گزرتے چلے رہے ہیں میں ان کو قیمتی بنالوں۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ آج بہت سے مسلمان بھی محض دوسروں کی نقالی میں نئے سال کی خوشی منانے اور جشن منظم کرنے میں پیش پیش نظر آتے ہیں حالانکہ درست رویہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو مزید سنجیدگی سے محسوس کرتے اپنی زندگی اور وقت کو منظم کرتے اچھے انجام کی فکر کرتے اور اپنے اعمال کا محاسبہ کرکے برائیوں کو چھوڑنے اور نیکیوں کو اپنانے کی کوشش کرتے۔ مگر اس کے برعکس دیکھا جاتا ہے کہ عیسوی سال کے اختتام اور نئے سال کے آغاز پر بہت سے مسلمان خصوصاً نوجوان لڑکے اور لڑکیاں غیر مسلم اقوام کی طرح دھوم دھام سے خوشیاں مناتے ہیں آتش بازی کرتے ہیں کیک کاٹتے ہیں اور ایک دوسرے کو مبارک باد دیتے ہیں اس بے محل خوشی کے اظہار میں وہ اکثر جائز حدود سے تجاوز کر جاتے ہیں اور ایسے افعال انجام دیتے ہیں جنہیں نہ عقل پسند کرتی ہے اور نہ ہی وہ انسانی معاشرے کے لیے مفید ہیں بلکہ حقیقت میں یہ اعمال انتہائی نقصان دہ ہیں مثال کے طور پر 31 دسمبر اور یکم جنوری کی درمیانی رات کو جگہ جگہ روشنیوں کا اہتمام کیا جاتا ہے رنگا رنگ تقریبات منعقد ہوتی ہیں رقص و سرود کی محفلیں سجتی ہیں اور ان حرام سرگرمیوں پر بے تحاشہ دولت لٹائی جاتی ہے بہت سے نوجوان اس رات شراب نوشی اور لہو و لعب میں مبتلا ہوتے ہیں قیمتی وقت اور مال دونوں ضائع کرتے ہیں حالانکہ اگر شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں دیکھا جائے تو اسلام میں نئے سال کے موقع پر اس طرح بے قید ہوجانے کی کوئی گنجائش نہیں۔ ہر سال کے آغاز پر اور نئے سال کا سورج روشن ہونے پر انفرادی و جماعتی سطح پر اپنے گریبان میں جھانکنے اور اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت پیش آجاتی ہے تا کہ ماضی کا جائزہ لے کر اپنے حال کی اصلاح کی جاسکے اور صحیح منہج کے مطابق مستقبل کے لئے منصوبہ بندی کی جا سکے تاکہ اغراض و مقاصد پورے ہوں اور مفادات کا حصول ممکن ہو ہماری امت اسلامیہ جو کہ ان دنوں نئے سال کا استقبال کر رہی ہے اور سابقہ سال جو اپنے دامن میں بہت ہی بڑے بڑے حوادث و واقعات لے کر رخصت ہو گیا ہے اسے الوداع کہہ رہی ہے اسے اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ وہ ان چیلنجز کا ڈٹ کر مقابلہ کرے اور ان خطرات کا پامردی سے سامنا کرے جو اسے درپیش ہیں۔
اے اللہ ربّ العزت ہمیں وقت کی قدر نفس کا محاسبہ اور اپنی اصلاح کی توفیق عطا فرما ہمیں سیدھے راستے پر ثابت قدم رکھ اور ہمیں بےجا رسومات سے مکمل حفاظت فرما آمین یارب العالمین