علم کی تاریخ میں بعض
راستے ایسے ہوتے ہیں جو صرف منزل تک نہیں پہنچاتے بلکہ خود منزل کی پہچان عطا کرتے ہیں۔ درسِ نظامی اور درسِ عصری بظاہر دو الگ تعلیمی دھارے ہیں، مگر حقیقت میں یہ ایک ہی کاروانِ فکر کے دو پڑاؤ ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ ایک راستہ اصل سمت متعین کرتا ہے اور دوسرا راستہ سفر کو سہل بناتا ہے۔ اور یہ بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ سمت کا تعین ہمیشہ درسِ نظامی ہی کے ہاتھ میں رہا ہے۔
درسِ نظامی — علم کی اساس، تہذیب کی روح
درسِ نظامی کوئی محض نصابی ترتیب نہیں، یہ امت کی علمی وراثت ہے، صدیوں کی فکر، ریاضت، اخلاص اور قربانی کا نچوڑ۔
یہ وہ نظام ہے جو انسان کو سب سے پہلے انسان بناتا ہے، پھر عالم، پھر رہنما۔
اس کے دامن میں قرآن کی روشنی، حدیث کی حکمت، فقہ کی بصیرت، منطق کی ترتیب، ادب کی نزاکت اور تصوف کی طہارت یکجا نظر آتی ہے۔
یہ علم ذہن کو نہیں، ضمیر کو بیدار کرتا ہے۔
یہ الفاظ نہیں سکھاتا، فیصلے کرنا سکھاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ امت کی فکری قیادت ہمیشہ انہی ہاتھوں میں رہی جن کی تربیت درسِ نظامی نے کی۔
درسِ عصری — خدمت گزار معاون
درسِ عصری زمانے کی زبان سمجھنے کا وسیلہ ہے، دنیا کے نظام کو برتنے کا ہنر سکھاتا ہے۔
یہ زندگی کے معاملات کو چلانے میں مدد دیتا ہے، مگر زندگی کی سمت طے نہیں کرتا۔
یہ ہاتھ میں چراغ دیتا ہے، مگر یہ نہیں بتاتا کہ کس سمت چلنا ہے۔
اور یہی اس کا فطری مقام ہے:
معاون، نہ کہ قائد
وسیلہ، نہ کہ میزان
خدمت گزار، نہ کہ رہبر
اصل امتیاز — قیادت کس کے پاس؟
سوال یہ نہیں کہ کون سا علم مفید ہے؛
سوال یہ ہے کہ قیادت کا حق دار کون ہے؟
دنیا کے ہر نظام میں قیادت اس کے ہاتھ میں ہوتی ہے جس کے پاس مقصد کا شعور ہو،
اور مقصد کا شعور صرف اسی کو ملتا ہے جو وحی کے مدرسے میں بیٹھا ہو۔
درسِ نظامی وحی کی امانت کا امین ہے،
اور جس کے پاس امانت ہو، قیادت اسی کا حق ہوتی ہے۔
نتیجہ — فیصلہ کن حقیقت
امت کو ترقی بھی چاہیے، ترقی کی راہیں بھی، وسائل بھی، مہارتیں بھی —
لیکن یہ سب کچھ راہِ شریعت کی سرپرستی میں ہی بابرکت بنتا ہے۔
اور شریعت کی حفاظت، فہم اور قیادت کا فریضہ صدیوں سے درسِ نظامی ہی انجام دیتا آیا ہے۔
لہٰذا یہ کہنا تاریخ، عقل اور ایمان تینوں کے خلاف ہوگا کہ یہ دونوں نظام برابر کی حیثیت رکھتے ہیں۔
امت کو ترقی بھی چاہیے، ترقی کے اسباب بھی، دنیاوی مہارتیں بھی اور زمانے کی زبان بھی —
لیکن یہ سب اسی وقت بابرکت، محفوظ اور نتیجہ خیز بنتا ہے جب ان کی رہنمائی اس علم کے ہاتھ میں ہو جو وحی سے جڑا ہو، جس کی بنیاد تقویٰ پر ہو اور جس کی نگاہ آخرت پر ہو۔
اور یہ حقیقت ہے کہ صدیوں سے اس امانتِ رہنمائی کو جس نظامِ تعلیم نے سنبھالا ہے، جس نے امت کے فکری تشخص، دینی سمت اور روحانی اساس کی حفاظت کی ہے، وہ درسِ نظامی ہی ہے۔
اسی کی کوکھ سے وہ رجالِ فکر پیدا ہوئے جنہوں نے امت کو بکھرنے نہیں دیا، زمانوں کو رخ دیا، اور تاریخ کو معنی عطا کیے۔
اسی لیے آج بھی اگر امت کو اپنے حال کی اصلاح اور مستقبل کی تعمیر درکار ہے تو اس کی مضبوط ترین بنیاد، سب سے محفوظ پناہ گاہ اور سب سے روشن مینارِ ہدایت درسِ نظامی ہی ہے۔