*بِسمِ اللّٰہِ الرَّحمٰن الرحیم* 

 *غافل تجھے گھڑیال یہ دیتا ہے منادی*
*گردوں نے گھڑی عمر کی اک اور گھٹا دی*

*ہائے افسوس! وہ دن جب نامۂ اعمال کھول دیا جائے گا* اور انسان اپنی پوری زندگی کو ایک نظر میں اپنے سامنے کھڑا پائے گا۔ کتنی ہی راتیں ہم نے ایسی گزار دیں جن میں اللہ کا خیال تک نہ آیا، کتنے دن ایسے گزر گئے جن میں نماز بوجھ بن گئی، اور کتنی گھڑیاں وہ تھیں جو گناہوں میں ضائع ہو گئیں۔ ہم خود کو یہ تسلی دیتے رہے کہ ابھی بہت وقت باقی ہے، ابھی بعد میں سنبھل لیں گے، حالانکہ ہر گزرتا دن ہمیں موت اور حساب کے قریب کرتا رہا۔
آج ہم نئے سال کی آمد پر خوشیاں مناتے ہیں، مبارکبادیں دیتے ہیں، روشنیوں اور شور میں مسرت تلاش کرتے ہیں، مگر کبھی یہ نہیں سوچتے کہ حقیقت میں نیا سال نہیں آیا بلکہ میری اور آپ کی عمر کا ایک سال کم ہو گیا ہے۔ عقل مند انسان کبھی اپنی عمر گھٹنے پر جشن نہیں مناتا۔ جس دن سرمایہ کم ہو جائے، تاجر خوشی نہیں مناتا، اور یہاں تو زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ کم ہو رہا ہے۔ پھر یہ خوشی کیسی؟ یہ کیسا جشن، جب ایک سال اور قبر کے قریب ہو گئے؟
ایک شاعر نے کیا خوب کہا ہے *غافل تجھے گھڑیال یہ دیتا ہے منادی- گردوں نے گھڑی عمر کی ایک اور گھٹا دی* ۔ فیضؔ لدھیانوی کی ایک نظم نئے سال پر بہت مشہور ہے۔
 *اے نئے سال بتا، تجھ میں نیا پن کیا ہے؟*

*ہر طرف خَلق نے کیوں شور مچا رکھا ہے*
*روشنی دن کی وہی تاروں بھری رات وہی*
*آج ہم کو نظر آتی ہے ہر ایک بات وہی*
*آسمان بدلا ہے افسوس، نا بدلی ہے زمیں*
*ایک ہندسے کا بدلنا کوئی جدت تو نہیں*
*اگلے برسوں کی طرح ہونگے قرینے تیرے*
*کسے معلوم نہیں بارہ مہینے تیرے*
*جنوری فروری اور مارچ میں پڑے گی سردی*

*اور اپریل، مئی اور جون میں ہو گی گرمی*
*تیرا مَن دہر میں کچھ کھوئے گا کچھ پائے گا*
*اپنی میعاد بَسر کر کے چلا جائے گاتو نیا ہے تو دکھا صبح نئی، شام نئی*
*ورنہ اِن آنکھوں نے دیکھے ہیں نئے سال کئی*
*بے سبب لوگ دیتے ہیں کیوں مبارک بادیں*
*غالباً بھول گئے وقت کی کڑوی یادیں*
*تیری آمد سے گھٹی عمر جہاں سے سب کی*

*فیض نے لکھی ہے یہ نظم نرالے ڈھب کی* 

ایک دن وہ ضرور آئے گا جب میرا اور آپ کا نام لے کر پکارا جائے گا: فلاں شخص حاضر ہو۔ پھر ہمارے سامنے نامۂ اعمال رکھ دیا جائے گا۔ اس دن انسان سر جھکائے کھڑا ہوگا، لوگوں کو دیکھے گا مگر بول نہ سکے گا، دل کے اندر ایک ہی صدا ہوگی کہ کاش میں نے دنیا میں کچھ وقت اللہ کے لیے نکال لیا ہوتا۔ پھر اعلان ہوگا کہ نامۂ اعمال میزانِ عدل پر رکھے جائیں، اور جب کتاب سامنے آئے گی تو بے اختیار زبان سے نکلے گا: هَٰذَا الْكِتَابُ لَا يُغَادِرُ صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً إِلَّا أَحْصَاهَا۔ یہ کیسی کتاب ہے، نہ چھوٹی بات چھوڑی نہ بڑی بات، سب کچھ لکھ رکھا ہے۔ ایک نظر میں پوری زندگی سامنے آ جائے گی، ہر غفلت، ہر گناہ، ہر ٹال مٹول، کوئی چیز چھپی نہ ہوگی۔ اس وقت صرف پچھتاوا باقی ہوگا، کیونکہ عمل کا وقت ختم ہو چکا ہوگا۔
لیکن اسی میدان میں کچھ خوش نصیب بھی ہوں گے۔ ان کے چہرے روشن ہوں گے اور وہ اطمینان کے ساتھ اپنی کتاب دیکھ رہے ہوں گے۔ ان سے پوچھا جائے گا تو وہ کہیں گے کہ ہم آنے والے دنوں کے خواب نہیں دیکھتے تھے، ہم گزرے ہوئے دنوں کا حساب کرتے تھے۔ ہم نے غفلت کے سال نہیں گنے، ہم نے توبہ کی راتیں گنی تھیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے وقت کی قدر کی، جنہوں نے عمر کو اللہ کی طرف پلٹنے کا ذریعہ بنایا، اور آج وہ امن اور راحت میں ہیں۔
 یہ جشن کا وقت نہیں، محاسبے کا وقت ہے۔ نئے سال کی رات آتش بازی اور شور کے لیے نہیں بلکہ سجدے، آنسو اور توبہ کے لیے ہے۔ ابھی سانس باقی ہے، ابھی نامۂ اعمال بند نہیں ہوا۔ آج اگر آنکھیں نم ہو گئیں تو کل کتاب خوشی دے گی، اور اگر آج بھی غفلت رہی تو کل صرف حسرت باقی رہ جائے گی۔ یا اللہ! ہمیں عمر کے کم ہونے پر ہوش عطا فرما، ہمیں غفلت کے جشن سے بچا، ہمیں اپنی نافرمانیوں پر سچا نادم بنا، اور ہمیں ان خوش نصیبوں میں شامل فرما جنہیں ان کا نامۂ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا جائے۔ آمین یا رب العالمین۔

✍🏻 *از قلم عاقب شیخ غلام محمد دھولیہ مہاراشٹر*