ہمارے اساتذہ سے بڑا: آج کا فیوچر زدہ شاگرد
مضمون (64) بسم اللہ الرحمن الرحیم
ٹکنالوجی، علم اور فکری زوال پر ایک سنجیدہ و فکری مکالمہ........ ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں علم کی نسبت رفتار، اور فکر کی جگہ سہولت نے لے لی ہے۔ آج کا طالبِ علم، جو کبھی استاد کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرتا تھا، اب چند بٹنوں (انگلیوں) کی جنبش سے خود کو مفکر، محقق اور مضمون نگار ثابت کرنے لگا ہے۔ بظاہر یہ ترقی ہے، مگر کیا واقعی یہ علمی ارتقاء ہے؟ یا محض ٹکنالوجی کے سہارے پیدا ہونے والا ایک فکری فریب؟
1۔ ٹکنالوجی کی ؛آب و ہوا ؛اور مصنوعی علمی بہار
آج کی دنیا میں ٹکنالوجی، خصوصاً جدید فیوچرز (AI وغیرہ) نے ایک ایسی فضا قائم کر دی ہے جہاں بغیر بنیادی علمی اہلیت کے بھی مضامین پر مضامین لکھے جا رہے ہیں۔
نہ عربی و اردو قواعد سے واقفیت،نہ صرف و نحو کا شعور،نہ مصادر و اوزان کی پہچان،نہ زبان و بیان پر قدرت،
اور نہ ہی فکری گہرائی
اس کے باوجود تحریریں ہیں کہ مسلسل سامنے آ رہی ہیں، اور وقتی داد و تحسین بھی سمیٹی جا رہی ہے۔یہ ایک طرح کی مصنوعی کرامت ہے جو تہی دامن افراد کو لمحاتی طور پر ؛لکھاری؛ بنا دیتی ہے، مگر یہ بہار عارضی ہے۔
2۔ وقتی داد اور مستقل خسارہ
یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ جب کبھی حقیقت کا پردہ اٹھے گا،جب مور کی پنکھڑیاں ؛ بدن اور دماغ سے جھڑیں گی،
تو ہاتھ میں سوائے افسوس کے کچھ باقی نہ رہے گا۔
کیونکہ جو تحریر
محض نقلِ معلومات ہو،جس میں ذاتی فکر، مطالعہ اور علمی ریاضت شامل نہ ہو،
وہ دیرپا نہیں ہوتی۔
3۔ اہلِ علم کے لیے ٹکنالوجی: نعمت.
یہ بات بھی پوری دیانت داری سے کہنی چاہیے اور کہتا ہوں کہ یہی ٹکنالوجی مہذب، مستند اور صاحبِ مطالعہ علماء اور دانشوران کے لیے ایک عظیم نعمت ہے۔
ایسے اہلِ علم کے ہاتھ میں یہ فیوچر رفتار، ترتیب اور اظہار کا ایک مؤثر ذریعہ یقیناً بن سکتا ہے،کیونکہ بنیاد پہلے سے موجود ہوتی ہے۔اصل مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے
جہاں ہر کس و ناکس
بغیر علمی اساس کے
اپنا ؛لوہا منوانے ؛ کے درپے ہو جاتا ہے۔
4۔ تنقید نہیں، خیر خواہی
یہ تحریر کسی کی دل آزاری یا تحقیر کے لیے نہیں۔ یہ بھی ایک ہنر ہے کہ کوئی شخص ٹکنالوجی کو استعمال کرنا جانتا ہو، اور اس پہلو سے یہ کوشش قابلِ تعریف بھی ہے۔
مگر معزز قلم کارو!
تمام محنت، تمام دماغ،
صرف انہی فیوچرز پر صرف کر دیناخود اپنے ساتھ ناانصافی ہے۔
5۔ اصل راستہ: مطالعہ، قواعد اور فکری بنیاد.
آگے بڑھنے کے لیے ہمیں اشد ضروری ہے کہ:ہم معتبرعلماءاوردانشورن کی کتابوں کا سنجیدہ مطالعہ کریں. اردو و عربی قواعد اور گرامر پر دسترس حاصل کی جائے فکری بصیرت، علمی فراست اور تحقیقی مزاج پیدا کیا جائے دین و ایمان جیسے نازک موضوعات میں ذاتی غور و فکر اور روحانی ادراک شامل ہو. اگر کوئی شخص اچھی زبان، ربط و ضبط اور فکری استعداد کے ساتھ ان فیوچرز کو بطورِ معاون استعمال کرے
تو یہ کسی حد تک درست ہو سکتا ہے.مگر مکمل متبادل ہرگز نہیں -
یاد رکھیے.
کوئی بھی فیوچر
مواد اور ڈھانچہ تو دے سکتا ہے،مگر دین، ایمان اور زندگی کی گہری بصیرت. نہ کسی مشین سے آتی ہے. اور نہ کسی خودکار نظام سے۔یہ صرف مطالعہ، تجربہ، غور و فکر
اور استاد کے فیضِ نظر سے پیدا ہوتی ہے۔
لہٰذا یہ بڑائی اگر بنیاد سے خالی ہو تو انجام صرف فکری زوال ہی ہوتا ہے۔. اسی لیے کہا گیا: - آج ہمارے بڑے بڑے اساتذہ سے بڑا، فیوچر کا شاگرد ہو گیا ہے؛ ۔. نوٹ:
یہ مضمون اپنی ذاتی فکری رائے ہے، ادارے کا اس سے متفق ہونا
ضروری نہیں۔
بقلم محمودالباری
mahmoodulbari342@gmail.com