آج کا معاشرہ اخلاقی، دینی اور سماجی اعتبار سے شدید زوال کا شکار نظر آتا ہے جس کی علامات ہر طرف نمایاں ہو چکی ہیں۔
سچائی، دیانت اور امانت جیسے اوصاف جو کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد ہوتے ہیں آج نایاب ہوتے جا رہے ہیں۔
جھوٹ بولنا، دھوکہ دینا اور فریب کاری کو ذہانت اور ہوشیاری سمجھا جانے لگا ہے جو ایک خطرناک سوچ ہے۔
معاشرے میں بے حیائی اور فحاشی عام ہو چکی ہے جس نے نوجوان نسل کے کردار کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
میڈیا اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال نے برائیوں کو عام کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
والدین کی نافرمانی اور بزرگوں کی بے قدری آج کے معاشرے کا ایک افسوسناک پہلو بن چکی ہے۔
رشتوں میں محبت، احترام اور خلوص کی جگہ مفاد، مطلب اور خود غرضی نے لے لی ہے۔
سود، رشوت اور حرام کمائی کو برا جاننے کے باوجود عملاً اپنایا جا رہا ہے۔
انصاف کا فقدان اور طاقتور کا کمزور پر ظلم معاشرتی بگاڑ کی واضح علامت ہے۔
دین سے دوری اور دنیا کی محبت نے انسان کو اخلاقی لحاظ سے کھوکھلا کر دیا ہے۔
نوجوان نسل نماز، حیا اور دینی تعلیم سے دور ہوتی جا رہی ہے جو امت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
تعلیم کا مقصد صرف نوکری اور دولت کمانا رہ گیا ہے، کردار سازی کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔
زبان کا غلط استعمال، گالی گلوچ اور بدتمیزی عام ہوتی جا رہی ہے۔
پڑوسیوں کے حقوق پامال کیے جا رہے ہیں اور بھائی چارہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔
عورتوں کے حقوق کی پامالی اور غیر شرعی آزادی دونوں معاشرتی توازن کو بگاڑ رہے ہیں۔
مرد اپنی ذمہ داریوں سے غافل اور عورتیں اپنی اصل پہچان سے دور کی جا رہی ہیں۔
بچوں کی صحیح دینی تربیت نہ ہونے کی وجہ سے وہ غلط راہوں کا شکار ہو رہے ہیں۔
بڑوں کا غلط طرزِ عمل بچوں کے لیے برائی کی سب سے بڑی تعلیم بن جاتا ہے۔
غیبت، حسد اور بغض نے دلوں کو ایک دوسرے سے دور کر دیا ہے۔
معاشرے میں برداشت، صبر اور درگزر جیسی صفات کم ہوتی جا رہی ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ اس بگڑے ہوئے معاشرے کو سدھارنے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس کی ذمہ داری ہر فرد پر انفرادی اور اجتماعی دونوں حیثیتوں میں عائد ہوتی ہے۔
سب سے پہلے ہمیں اپنی اصلاح کرنی چاہیے کیونکہ اصلاحِ معاشرہ اصلاحِ فرد سے شروع ہوتی ہے۔
ہمیں اپنے قول و فعل میں سچائی اور دیانت کو اپنانا ہوگا۔
نماز، تلاوتِ قرآن اور ذکرِ الٰہی کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔
والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کی دینی اور اخلاقی تربیت پر خاص توجہ دیں۔
اساتذہ کو محض نصاب نہیں بلکہ کردار بھی پڑھانا ہوگا۔
علماء اور دینی رہنماؤں کو حکمت اور اخلاص کے ساتھ اصلاح کا فریضہ انجام دینا ہوگا۔
میڈیا کو فحاشی پھیلانے کے بجائے اصلاحی اور تعمیری کردار ادا کرنا چاہیے۔
سوشل میڈیا کا استعمال خیر کے کاموں اور دین کی دعوت کے لیے ہونا چاہیے۔
ہمیں برائی کو برائی سمجھ کر اس سے نفرت کرنا سیکھنا ہوگا۔
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو اپنی استطاعت کے مطابق اپنانا ہوگا۔
حلال و حرام کی تمیز کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کرنا ہوگا۔
سود، رشوت اور دھوکے سے مکمل اجتناب کرنا ہوگا۔
رشتوں کو جوڑنے اور نبھانے کی کوشش کرنی ہوگی نہ کہ توڑنے کی۔
پڑوسیوں، مسکینوں اور ضرورت مندوں کے حقوق ادا کرنے ہوں گے۔
نوجوانوں کو پاکیزہ صحبت اور اچھے ماحول کی طرف راغب کرنا ہوگا۔
بڑوں کو چاہیے کہ وہ خود نمونہ بنیں تاکہ نوجوان ان کی پیروی کریں۔
معاشرے میں عدل و انصاف کو فروغ دینا ہر ذمہ دار شخص کا فرض ہے۔
اختلاف کے باوجود برداشت اور رواداری کو اپنانا ہوگا۔
عورتوں کو اسلام کے دیے ہوئے باوقار مقام سے روشناس کرانا ہوگا۔
مردوں کو خاندان کی کفالت اور قیادت کی ذمہ داری کو سمجھنا ہوگا۔
بچوں کو موبائل کے بجائے اخلاق اور ادب سکھانا ہوگا۔
ہمیں اپنی زبان، نظر اور دل کی حفاظت کرنی ہوگی۔
علماء، اساتذہ اور والدین کو مل کر اصلاحی جدوجہد کرنی ہوگی۔
مساجد کو صرف عبادت نہیں بلکہ اصلاحِ معاشرہ کا مرکز بنانا ہوگا۔
دین کو صرف رسم نہیں بلکہ مکمل ضابطۂ حیات سمجھنا ہوگا۔
ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ ہم اپنے اعمال کے جواب دہ ہیں۔
معاشرتی اصلاح کے لیے صبر، حکمت اور تسلسل ضروری ہے۔
فوری نتائج کی خواہش کے بجائے مستقل محنت کرنی ہوگی۔
ہمیں ایک دوسرے کے لیے آسانی پیدا کرنی ہوگی نہ کہ مشکلات۔
معاشرے میں محبت، اخوت اور ہمدردی کو فروغ دینا ہوگا۔
تعلیم یافتہ طبقے کو اپنی ذمہ داری زیادہ سمجھنی ہوگی۔
تاجر طبقے کو دیانت داری اور ناپ تول میں انصاف اختیار کرنا ہوگا۔
ملازمین کو اپنے فرائض ایمانداری سے انجام دینے ہوں گے۔
حکمرانوں کو عدل و انصاف کا عملی نمونہ بننا ہوگا۔
قانون کو طاقتور اور کمزور سب پر یکساں نافذ کرنا ہوگا۔
ہمیں دعا کے ساتھ ساتھ عملی کوشش بھی کرنی ہوگی۔
اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگنی ہوگی۔
توبہ اور رجوع الی اللہ کے بغیر اصلاح ممکن نہیں۔
ہمیں اپنی ترجیحات کو درست کرنا ہوگا۔
دنیا کے بجائے آخرت کو اصل مقصد بنانا ہوگا۔
ہر کام میں اللہ کی رضا کو سامنے رکھنا ہوگا۔
چھوٹی نیکی کو بھی حقیر نہیں سمجھنا چاہیے۔
چھوٹی برائی کو بھی معمولی سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
گھر سے اصلاح کا آغاز کرنا سب سے مؤثر طریقہ ہے۔
اچھی بات کو نرمی اور محبت سے پھیلانا ہوگا۔
سختی اور بدزبانی اصلاح کے بجائے بگاڑ پیدا کرتی ہے۔
ہمیں امید کا دامن کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے۔
اللہ کی رحمت سے مایوس ہونا خود ایک بڑی برائی ہے۔
اگر ہر فرد اپنی ذمہ داری پہچان لے تو معاشرہ بدل سکتا ہے۔
ایک نیک انسان کئی برائیوں کے خاتمے کا سبب بن سکتا ہے۔
ہمیں خود کو بے بس سمجھنے کے بجائے بااثر بننا ہوگا۔
وقت، صلاحیت اور وسائل کو خیر کے لیے استعمال کرنا ہوگا۔
نوجوانوں کو دین سے جوڑنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
بزرگوں کے تجربے اور دعاؤں سے فائدہ اٹھانا ہوگا۔
ہمیں اپنی نسلوں کے مستقبل کی فکر کرنی ہوگی۔
اگر آج ہم نے اصلاح نہ کی تو کل پچھتانا پڑے گا۔
تاریخ گواہ ہے کہ اخلاق سے خالی قومیں مٹ جاتی ہیں۔
اخلاق سے آراستہ قومیں ہی ترقی اور عزت پاتی ہیں۔
ہمیں اسلامی اقدار کو فخر کے ساتھ اپنانا ہوگا۔
مغرب کی اندھی تقلید سے خود کو بچانا ہوگا۔
اپنی تہذیب اور ثقافت کی حفاظت کرنا ہوگی۔
قرآن و سنت کو اپنی رہنمائی کا اصل ذریعہ بنانا ہوگا۔
علماء کی صحیح رہنمائی سے فائدہ اٹھانا ہوگا۔
فرقہ واریت اور نفرت سے بچنا ہوگا۔
امت کے اتحاد کی کوشش کرنی ہوگی۔
ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا خیر خواہ بنے۔
یہی سوچ معاشرے کو سنوار سکتی ہے۔
یہی عمل معاشرے کو بچا سکتا ہے۔
آخر میں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ معاشرہ ہم سب سے مل کر بنتا ہے۔
اگر ہم اچھے ہوں گے تو معاشرہ بھی اچھا ہوگا۔
اگر ہم برے ہوں گے تو معاشرہ بھی بگڑے گا۔
اس لیے ذمہ داری کسی ایک پر نہیں بلکہ سب پر ہے۔
ہمیں آج ہی سے اپنی اصلاح شروع کرنی چاہیے۔
نیت کو درست اور عمل کو مضبوط بنانا ہوگا۔
اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنی ہوگی۔
اصلاح کی راہ میں آنے والی مشکلات پر صبر کرنا ہوگا۔
یہی طریقہ کامیابی کا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے معاشرے کی اصلاح کی توفیق عطا فرمائے،
آمین یارب العالمین
مفتی محمد صادق امین قاسمی