(16)مضمون 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

(بقلم محمودالباری)

_________________

"غربت کے سائے تلے علم: امت کے گمنام علمائے دین کی جدوجہد اور ہماری ذمہ داری"

----------------------

الحمد للہ رب العالمین، والصلاة والسلام على نبینا محمد ﷺ، وعلى آلہ وأصحابه أجمعین۔

     ہماری امت کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ بہت سے ایسے علماء، جن کا علم انسانیت کی رہنمائی، دین کی خدمت اور معاشرتی بیداری کے لیے تھا، معاشی مشکلات، تنگدستی اور بے سہارا حالات کی وجہ سے اپنی توانائی، جذبے اور علم کو پوری طرح استعمال نہ کر سکے۔ خاص طور پر ہمارے ملک بھارت میں اس مسئلے کی شدت دیکھنے کو ملتی ہے، جہاں کئی علماء نے اپنی علمی طاقت کو غربت کی نذر کر دیا اور زندگی کے بوجھ تلے دب کر اپنے مشن سے پیچھے ہٹنا پڑا۔

علم روح کا سرمایہ ہے، لیکن اس کی حفاظت کے لیے جسمانی، معاشی اور روحانی سہولتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب علم کے ساتھ وسائل نہیں ہوتے تو کئی علماء کو مجبوراً سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے۔ کوئی مدرسے میں محدود تنخواہ پر کام کرنے پر مجبور ہے، جہاں اس کے خیالات اور خدمت کے دائرے محدود کر دیے جاتے ہیں۔ کوئی مسجد میں کام کرتا ہے مگر وہاں بھی مالی وسائل کی کمی اسے آزادانہ کام کرنے نہیں دیتی۔ کوئی محض اس لیے پیش رفت نہیں کر سکتا کہ اس کی زندگی کا بوجھ روزمرہ کی مشکلات سے الجھا ہوا ہے اور علم کے استعمال کا وقت، توانائی اور ماحول فراہم نہیں ہوتا۔

غربت کا علم پر اثر کئی جہتوں میں دیکھا جا سکتا ہے:

غربت کی وجہ سے علم کے طالب یا حامل کو ہر وقت مالی پریشانیوں کا سامنا ہوتا ہے۔

گھر کا کرایہ، بچوں کی تعلیم، روزمرہ کی ضروریات کا بوجھ ذہن کو پریشان رکھتا ہے اور علم پر توجہ مرکوز کرنے کا وقت کم ہو جاتا ہے۔

ذہنی تھکن اور اضطراب کی حالت میں گہری مطالعت، تحقیق اور تدریس کے لیے توجہ مرکوز کرنا مشکل ہو جاتا ہے

مالی وسائل کی کمی کی وجہ سے کئی علماء نئ کتابیں خریدنے، تحقیقی مواد تک رسائی حاصل کرنے یا اعلیٰ علمی مراکز سے تعلیم لینے سے محروم رہ جاتے ہیں۔

نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ علم کی ترقی رک جاتی ہے اور وہ خود کو اپنے محدود تجربے تک محدود کر لیتے ہیں۔

علم کا تبادلہ کم ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے علمی میدان میں تنہائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

جیسے ہی علم پر زندگی کا بوجھ بڑھتا ہے، وہ مجبور ہو کر دوسروں کے تابع ہو جاتا ہے:

مدرسے یا دینی ادارے میں محدود تنخواہ اور انفرادی آزادی کی کمی اس کی فکری خودمختاری کو ختم کر دیتی ہے۔

اس حالت میں وہ اپنے خیالات پیش کرنے سے پہلے دو بار سوچتا ہے کہ کہیں اس پر پابندی نہ لگ جائے یا اس کی ضروریات متاثر نہ ہوں۔

علم کو خدمت کے بجائے بوجھ سمجھا جانے لگتا ہے، اور طالب علم یا عالم دینی امور سے دور ہو کر صرف روزمرہ کی زندگی کا حصہ بن جاتا ہے۔

روحانی ولولے کی جگہ مایوسی اور تھکن لے لیتی ہے۔

کئی علماء صرف ایک مدرسے یا مکتب میں کم تنخواہ پر پڑھاتے ہیں، اور ان کے خیالات یا منصوبے ادارے کی حدود میں قید ہو جاتے ہیں۔ وہ دین کی خدمت کے لیے آزادانہ منصوبے بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ کئی علماء صرف نماز پڑھانے یا معمولی دینی پروگراموں تک محدود رہ جاتے ہیں کیونکہ مالی وسائل کا نہ ہونا، ادارے کی سیاست، اور وسعت سے محروم رہنے کا احساس ان کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔

کئی علماء نے اپنی فکری توانائی کو محدود کر دیا اور وہ خود کو صرف گذارہ کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ان کے اندر دین کی خدمت کا جذبہ موجود ہے لیکن زندگی کی مصروفیات اس جذبے کو مدھم کر دیتی ہیں۔ ان کا علم، جو امت کو روشنی دے سکتا تھا، محض چند لوگوں کے دائرے میں محدود رہ گیا ہے۔ ایک عالم جو تحقیق کرے، کتاب لکھے یا خطبے میں مسائل پر کھل کر بات کرے، وہ مجبور ہے کہ ادارے یا مالی حمایت کے تابع ہو کر اپنی بات کو محدود کرے۔ غربت کے ساتھ آنے والی پریشانیاں، خود اعتمادی کی کمی، احساسِ حقارت اور مایوسی علمی سرگرمیوں کو متاثر کرتی ہیں۔

بہت سے علماء ایسے ہیں جن کی تحقیق، محنت اور خدمت کو پہچانا ہی نہیں گیا کیونکہ نہ تو ان کے کام کو فروغ دینے کی سعی کی گئی اور نہ ہی ان کی مالی حالت ایسی تھی کہ وہ اپنی خدمات کو سامنے لا سکیں۔ یہ علماء گمنامی میں زندگی گزار کر دنیا سے رخصت ہو رہے ہیں، بغیر اس کے کہ ان کا علم امت کی رہنمائی بنے۔

قرآن و حدیث؛ اور علماء کے اقوال آپ کے حوصلے کو بڑھاتا ہے؛ 

اللہ عزوجل فرماتے ہیں:

"وَقُل رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا" (طه: 114)

یعنی “اور کہو: اے میرے رب! میرے علم میں اضافہ فرما۔”

یہ دعا اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ علم کی طلب اور اس کی افزائش ایک عبادت ہے، لیکن اس کے ساتھ اس کی حفاظت بھی ضروری ہے۔

ایک اور مقام پر اللہ فرماتے ہیں:

"وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُوْلَٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءَ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُوْلَٰئِكَ رَفِيقًا" (النساء: 69)

یعنی جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے انعام فرمایا، جیسے نبی، صدیق، شہداء اور صالحین۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"طلب العلم فريضة على كل مسلم"

یعنی علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔

اسی طرح:

"وَلَا تَيْأَسُوا مِن رَّوْحِ اللَّهِ" – اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔

"إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ" – اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔

"من سلك طريقا يلتمس فيه علما سهل الله له طريقا إلى الجنة" – جو علم کے حصول کا راستہ اختیار کرے، اللہ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے۔

علمی خدمت اور اجتماعی ذمہ داری

یہ امت کی ذمہ داری ہے کہ ان علماء کو عزت، مالی تعاون اور وقت دے کر علم کی خدمت کو زندہ رکھے۔ اداروں کو چاہیے کہ علماء کی ضروریات کو سمجھے بغیر ان سے زیادہ کام نہ لیا جائے اور ان کی فکری آزادی کو تحفظ دیا جائے۔ دین کی خدمت کرنے والے افراد کی معاشی ضروریات کا خیال رکھا جائے تاکہ علم کا چراغ روشن رہے۔ ہر فرد اپنے وسائل کے مطابق ان کی مدد کرے، علمی محافل میں شرکت کرے اور ان کی بات سن کر ان کی حوصلہ افزائی کرے۔

علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"علم وہ چراغ ہے جو اندھیروں کو روشن کرتا ہے، اور خدمت وہ راستہ ہے جس سے علم کو زندگی ملتی ہے۔"

شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:

"علم کو خالص نیت سے حاصل کرو، تاکہ اس کی برکت سے رزق و عزت بھی آئے اور دل کو سکون بھی ملے۔"

مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

"علم کو اس وقت تک زندہ رکھو جب تک تمہارے پاس وہ جذبہ زندہ ہے جو اسے انسانوں کے فائدے میں استعمال کرے۔"

علم کی خدمت دین کی خدمت ہے۔ اگر ہم نے اپنے علماء کی قدر نہ کی، ان کی غربت کو نظرانداز کیا، اور ان کے جذبے کو بحال نہ کیا، تو ہمارا علمی ورثہ کمزور ہو جائے گا اور آنے والی نسلیں رہنمائی سے محروم رہ جائیں گی۔

اگر امت کے افراد مل کر کام کریں تو علماء کو غربت کے ہاتھوں شکست نہیں کھانی پڑے گی۔

ہر شخص اگر اپنی استطاعت کے مطابق:

✔ ہدیہ دے،

✔ وقت دے،

✔ علم کو عام کرے،

✔ محافل کا انعقاد کرے،

✔ دوسروں کو بھی تعاون کے لیے متحرک کرے،

تو بہت سے علماء جو آج مایوسی کا شکار ہیں، دوبارہ اپنے علم کو لوگوں تک پہنچا سکتے ہیں اور دین کی خدمت میں پیش پیش ہو سکتے ہیں۔

یہ خدمت بھی عبادت ہے، اور علم کی حفاظت بھی جنت کی راہوں کو آسان بنانے کا ذریعہ ہے۔

اللّٰہ ہم سب کو علم کی خدمت کرنے کا جذبہ عطا فرمائے، مشکلات میں صبر دے، اور اپنے علم کو امت کے مفاد میں استعمال کرنے کی توفیق دے۔   آمین۔

 والسلام علیکم و رحمت اللہ و برکاتہ