معاشرہ کو نقاد نہیں، کردار چاہییں

✒️ مفتی محمد تسلیم الدین المحمودی 

تنقید کی آسانی اور عمل کی مشکل

ہمارے معاشرے میں اکثریت ایسے افراد کی ہے جو خود کچھ کرنے کے بجائے دوسروں کو کٹہرے میں کھڑا کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ یہ رویہ دراصل عمل کی مشکل اور محنت سے فرار ہے۔ کرنا محنت مانگتا ہے، وقت مانگتا ہے، قربانی چاہتا ہے۔ لیکن صرف باتوں سے کام نکالنا نہ صرف آسان ہے بلکہ اس میں کوئی قیمت بھی ادا نہیں کرنی پڑتی۔

 تعمیری کام کے تقاضے

تعمیری کام کرنا محض خیالی بات نہیں، بلکہ یہ انسان کے عزم، استقامت اور قربانی کا امتحان ہے۔

تعمیری سوچ رکھنے والا انسان وقت ضائع نہیں کرتا بلکہ اپنے حصے کا چراغ روشن کرتا ہے۔

وہ دوسروں کی لغزشوں میں الجھنے کے بجائے اپنی کوششوں کو آگے بڑھاتا ہے۔

معاشرے میں حقیقی تبدیلی صرف وہی لوگ لاتے ہیں جو تنقید سے زیادہ عمل پر یقین رکھتے ہیں۔

تنقید کی دو قسمیں

منفی تنقید: جس کا مقصد کسی کو نیچا دکھانا، حوصلہ شکنی کرنا اور بدنامی پھیلانا ہو۔ اس قسم کی تنقید معاشرے میں زہر کی طرح پھیلتی ہے۔

مثبت اور تعمیری تنقید: جو خیرخواہی کے جذبے سے کی جائے، تاکہ سامنے والا اپنی غلطی کو درست کر سکے اور مزید بہتر کارکردگی دکھا سکے۔ لیکن یہ بھی اسی وقت مؤثر ہے جب تنقید کرنے والا خود بھی میدانِ عمل میں کوئی وزن رکھتا ہو۔

ہمارے معاشرے کی بیماری

ہمارے معاشرے میں ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ عمل کرنے والے ہمیشہ تنقید کی زد پر رہتے ہیں۔ چاہے کوئی عالم دین علم پھیلائے، کوئی قلم کار لکھنے کا بیڑا اٹھائے یا کوئی فلاحی ادارہ خدمت شروع کرے، چند ہی دن میں اس پر اعتراضات اور کمزوریاں نکالنے والوں کی قطار لگ جاتی ہے۔

مگر جب انہی ناقدین سے پوچھا جائے کہ:

آپ نے اب تک خود کیا کام کیا؟

کہاں خدمت انجام دی؟کس کتاب، کس منصوبے، کس ادارے یا کس تحریر کے ذریعے آپ نے اپنا حصہ ڈالا؟

تو اکثر کے پاس دکھانے کو کچھ نہیں ہوتا۔

ضرورتِ عمل

معاشرے کی اصل ضرورت یہ ہے کہ ہم سب اپنی توانائیاں صرف تنقید پر ضائع کرنے کے بجائے عمل پر لگائیں۔

اگر تعلیمی نظام کمزور ہے تو تنقید کے بجائے کوئی متبادل نصاب تیار کریں۔

اگر اصلاحی ادارے ناکام ہیں تو اپنا چھوٹا سا قدم اٹھائیں، چاہے وہ چند افراد کو پڑھانا ہی کیوں نہ ہو۔

اگر کسی تحریر یا کام میں غلطی نظر آئے تو صرف انگلی نہ اٹھائیں بلکہ اس سے بہتر اور درست متبادل پیش کریں۔

یاد رکھئے!

تنقید کے تیر چلانا بڑا آسان ہے، لیکن زخموں پر مرہم رکھنا اور نئی راہیں تلاش کرنا بہت مشکل۔ معاشرے کو آج ایسے محنتی، مخلص اور صاحبِ عمل افراد کی ضرورت ہے جو دوسروں کی کوتاہیوں کو گننے کے بجائے خود آگے بڑھ کر عملی خدمت کریں۔

ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم صرف نقاد نہیں بلکہ کردار والے انسان بنیں گے۔