اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ علمِ دین کا حاصل کرنا کوئی ادنیٰ کام نہیں ہے۔ ماں باپ سے دور ہونا، گھر بار اور رشتہ داروں سے جدا ہونا، ان سب قربانیوں کے باوجود یہ راستہ بہت سی مشکلات اور پریشانیوں سے بھرا ہوا ہے۔ لیکن اصل کامیابی اس وقت شروع ہوتی ہے جب انسان علم میں پختگی حاصل کر لے۔ یہ مرحلہ نہایت اہم ہے، حتیٰ کہ اگر کامیابی نصیب نہ ہو تو ساری محنتیں، قربانیاں اور پریشانیاں سب رائیگاں چلی جاتی ہیں۔

یقیناً اس کا اجر اخروی اعتبار سے دنیا کی کروڑوں جائیداد سے کہیں بڑھ کر ہے۔ اگر کوئی شخص علمِ دین حاصل کر لے اور ساتھ ہی عالِم باعمل بھی ہو تو یہ سونے پر سہاگہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بہت سی احادیث اور قرآنی آیات میں اس کی تعریف بیان فرمائی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا:

إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ ۗ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ غَفُورٌ

(فاطر: 28)

اللہ سے اس کے بندوں میں صرف وہی ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں۔ بے شک اللہ زبردست اور بہت بخشنے والا ہے۔

اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک عالم کے مقام و مرتبہ کو بیان کرنے کے ساتھ اس کے اہم مقاصد کی طرف بھی توجہ دلائی ہے۔

یقیناً جو شخص عالمِ دین ہو اور اللہ و رسول کی اطاعت سے واقف ہو، اس کی یہ ذمہ داری بھی بنتی ہے کہ امت کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے اور ہر فیصلہ اور ہر معاملہ کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت پر قائم رکھے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ ۖ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا

(النساء: 59)

اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول ﷺ کی بھی اطاعت کرو، اور تم میں سے جو صاحبِ اختیار ہوں ان کی بھی۔ پھر اگر تمہارے درمیان کسی معاملے میں اختلاف ہو جائے تو اگر تم واقعی اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اسے اللہ اور رسول کے حوالے کر دو۔ یہی طریقہ سب سے بہتر ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی سب سے اچھا ہے۔

ویسے تو علمِ دین حاصل کرنے میں کامیابی و کامرانی کے کئی پہلو ہیں، لیکن ان میں سے ایک نہایت اہم پہلو یہ ہے کہ علم حاصل کرنا اور اس پر عمل کرنا دنیوی و اخروی اعتبار سے بہت بڑی کامیابی ہے۔ علماء کرام کو چاہیے کہ حتی الامکان کوشش کریں، محلوں میں محنت کریں، فکر و تدبیر سے کام لیں اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر پر عمل کریں، خواہ یہ خدمت خطابت کے ذریعے ہو یا قلم و قرطاس کے ذریعے ہوں۔

علم پھیلانے کا سب سے مؤثر طریقہ یہ ہے کہ انسان پہلے خود اپنے علم پر عمل کرے اور پھر دوسروں کو اس کی ترغیب دے۔ یہ ترغیب تدریس، سماجی رابطہ جاتی پلیٹ فارمز یا کمیونٹی کی سرگرمیوں کے ذریعے دی جاسکتی ہے۔ علم کی ترویج کے لیے اپنی عملی مثال قائم کرنا اور اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرنا نہایت ضروری ہے، تاکہ لوگوں میں علم حاصل کرنے کا شوق پیدا ہو اور معاشرے میں شعور و ترقی کو فروغ ملے۔

اللہ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے اور اپنے علم پر استقامت نصیب فرمائے۔ آمین۔

✍🏻 از: محمدریحان ضیاءالحق عفي عنہ

خادمِ تدریس، مدرسہ ریاض الجنۃ، دھولیہ (مہاراشٹر)

وخادم القرآن، مجمع عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ، لحلقات القرآن الکریم عن بُعد، بالمدینۃ المنورۃ۔