امت کا تفرقہ اور غزہ کا زخم
30 دسمبر، 2025
غزہ کا آئینہ اور امت کا زخمغزہ کی زمین پر بچوں کے لاشوں کے ڈھیر، ماں کیں اپنے سوتے ہوئے لڑکوں کو رونے کی آوازیں، ہسپتالوں پر بموں کی بارش—یہ سب اللہ کی طرف سے ایک چیخ ہے کہ امت جاگ اٹھو! فلسطین کی یہ سرزمین، جہاں نبی ﷺ نے معراج کی پرواز کی، آج ظالموں کے ہاتھوں سلگ رہی ہے، اور ہمارے اربوں مسلمان خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ قرآن فرماتا ہے: "اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ نہ ڈالو" (سورۃ آل عمران: 103)، مگر ہم شیعہ سنی، دیوبندی بریلوی، صوفی سلفی میں بٹ چکے ہیں، غزہ کی فریاد کو سننے والا کوئی نہیں۔ یہ لمحہ سوچنے کا ہے کہ کیا ہمارا جھگڑا غزہ کے بچوں کی جان سے زیادہ عزیز ہے؟فرقہ واریت کا زہر اور اتحاد کا نسخہامت کے سینے میں بدعات، رسوم، فتاویٰ کی لڑائیاں چل رہی ہیں، جبکہ صیہونی بم غزہ پر برستے ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے نہ اسے دشمن کے حوالے کرتا ہے" (صحیح بخاری)، پھر ہم فلسطینی بھائیوں کو تنہا کیوں چھوڑ رہے ہیں؟ سعودی، ایران، ترکی، مصر—سب اپنی اپنی سیاست میں مگن، عرب غیر عرب کی لڑائی میں ڈوبے، اور غزہ کی مٹی خون سے لال۔ یہ وقت ہے کہ فرقہ واریت کو دفن کریں، مسجد نبوی سے لے کر خانہ کعبہ تک ایک آواز اٹھائیں: فلسطین آزاد ہوگا! اقتصادی بائیکاٹ، عالمی فورمز پر دباؤ، جوانوں کی تیاری—یہ سب قرآن و سنت کا حکم ہے، نہ کہ بیٹھے بیٹھے دعائیں مانگنا۔بیداری کا آگاجنما اور مستقبل کا وعدہاے امت! غزہ کی ہر چیخ تمہارے کانوں میں گونج رہی ہے، ہر ماں کا نوحہ تمہارے دلوں کو جھنجھوڑ رہا ہے۔ اگر اب نہ جاگے تو تاریخ گواہے رہے گی کہ ہم نے اپنے بھائیوں کو مارنے والوں کا ساتھ دیا۔ امام حسین رضی اللہ عنہ کی قربانی، صلاح الدین کی فتوحات یاد کرو—وہ اتحاد سے جیته، ہم تفرقے سے ہار رہے ہیں۔ ابھی ہاتھ ملاؤ، قرآن کو معیار بناؤ، سنت پر چلو، غزہ کو آزاد کرواؤ، اور اللہ کی رضا حاصل کرو۔ یہ لمحہ فکریہ نہیں، امت کی بقا کا فتویٰ ہے—جاگو، ورنہ غزہ کی طرح تمہارا مستقبل بھی سلگ جائے گا! اللہ ہم سب کو توفیق دے۔