*اولاد کے نا ہونے پر صرف عورت کی غلطی کیوں؟*
یہ ہمارے معاشرے کا وہ تلخ اور شرمناک پہلو ہے جس پر بات کرنا تو سب چاہتے ہیں، مگر سچ بولنے سے گھبراتے ہیں, جب کسی گھر میں برسوں تک بچے کی آواز نہیں آتی، جب گود سونی رہتی ہے، جب امیدیں ٹوٹنے لگتی ہیں، تو سب سے پہلا الزام عورت پر آتا ہے، اسے بانجھ کہا جاتا ہے، اسے ناکام قرار دیا جاتا ہے، اس کے وجود کو گھر کے لیے بوجھ سمجھا جاتا ہے، اور بعض اوقات تو اسی بنیاد پر اسے طلاق دے دی جاتی ہے، گویا اولاد کا نہ ہونا کوئی جرم ہے اور اس جرم کی مجرمہ صرف عورت ایسا کیوں؟ سوال یہ ہے کہ کیا یہی انصاف ہے؟ کیا یہی دین ہے؟ اور کیا یہی اللہ کے فیصلے پر راضی ہونا ہے؟ہم سب سے پہلے قرآنِ کریم کے حضور یہ مقدمہ رکھتے ہیں، کیونکہ ایمان والوں کے لیے آخری اور حتمی فیصلہ وہیں سے ہوتا ہے، اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے: *لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِۚ يَخْلُقُ مَا يَشَآءُۚ يَهَبُ لِمَنْ يَّشَآءُ اِنَاثًا وَّيَهَبُ لِمَنْ يَّشَآءُ الذُّكُوْرَۙ اَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَّاِنَاثًاۚ وَيَجْعَلُ مَنْ يَّشَآءُعَقِیْمًاؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ*اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی سلطنت پیدا کرتا ہے جو چاہے جسے چاہے بیٹیاں عطا فرمائے اور جسے چاہے بیٹے دے، یا دونوں ملا دے بیٹے اور بیٹیاں اور جسے چاہے بانجھ کردے بے شک وہ علم و قدرت والا ہے۔ یہ آیت بالکل واضح فیصلہ سنا رہی ہے کہ اولاد دینا بھی اللہ کا کام ہے، اولاد روک لینا بھی اللہ کا کام ہے، اور اولاد سے محروم رکھنا بھی اللہ ہی کی مشیت ہے،نہ یہ عورت کے ہاتھ میں ہے اور نہ مرد کے اختیار میں، بلکہ یہ عرش سے ہونے والا فیصلہ ہے،یہاں بات ختم ہو جانی چاہیے تھی، کیونکہ قرآن کا کریم کا فیصلہ ہمارے لیے اٹل اور مستحکم ہے،مگر افسوس کہ ہم نے قرآن کو تلاوت تک محدود کر دیا اور فیصلے معاشرتی رسموں کے حوالے کر دیے،اب جب تک مرد کا دل کرتا ہے عورت سے استفادہ حاصل کرتا ہے جب چاہتا ہے اسکو پس پشت ڈال دیتا ہے،اور گھر کے افراد اس بچی کا جینا دشوار کر دیتے ہیں جس کے بچے نا ہوں، اور کبھی طلاق کا مقدمہ، کبھی خلع کی دھمکی، کبھی اس بات کا مطالبہ میں تجھے رکھنا نہیں چاہتا،کبھی ساس کا منہ پھولا ہوا کبھی نند کی آنکھوں میں رعب، کبھی خسر کے لیے شرمناکی،حد یہ ہمارے مفتیان کرام کا کہنا ہے، کہ ہمارے پاس اتنے مسائل اور ضروریات دین کے نہیں جتنے صرف طلاق خلع،طلاق رجعی اور طلاق بائن کے ہیں، حد تو اس وقت ہو جاتی ہے، جب ایک بیس سالہ لڑکی کو کو صرف تیئیس سال کی عمر میں اسکے باپ کے گھر پہنچا دیا جاتا ہے یہ کہہ کر کے یہ آپکی بیٹی بد چلن ہے، اور اس نے شادی سے پہلے پرموشن کرایا ہوا ہے جس کی وجہ سے اس کے بچے نہیں ہو رہے ہیں، خدارا باز آ جاؤ اب حماقتوں سے، کیوں اللہ کے غضب کو تم چیلینج کر رہے ہو، کیوں شریعت کے ساتھ کھلواڑ کرنا چاہتے ہو،کیوں کسی آہ کو آسمان کی دہلیز پر پہنچانا چاہتے ہو، کیوں کسی ہستے کھیلتے باپ کی نگاہوں میں آنسو دلا رہے ہو،کیوں کسی بوڑھی ماں کو وقت سے پہلے قبر کے دہانے پر کھڑا کرنا چاہتے ہو، خدا کیوں مشیت خدا کو چیلینج کر رہے ہو، تم جانتے نہیں وہ ایک منٹ میں دھجیاں بکھیر دیتا ہے،اللہ کی عزت کی قسم کھا کر میں کہتا ہوں، اگر نبی آخر الزماں ﷺ کی یہ دعا نہ ہوتی کہ اللہ میری پر اجتماعی عذاب نہ بھیجنا، خدارا کب کی یہ امت بھی امم ماضیہ کی طرح ہلاک و برباد ہو گئی ہوتی،اگر ہمارا رب ستار العيوب کا مظاہرہ نہ فرماتا تو امت محمدیہ کے افراد ہماری حیثیت یہ ہوتی کہ ہم کسی فرد انسان کے سامنے کھڑے ہونے کی حیثیت نہ رکھتے،خدا کے لیے غضب الٰہی کو چیلینج نہ کرو🙏🏻۔ اب سوال براہِ راست مردوں سے ہے، *تم نے اسے طلاق کیوں دی؟* کیا کسی عورت کے بچے نا ہوں تو اسے شرعی اعتبار سے طلاق دینا جائز ہے؟کیا کسی عورت کا بانجھ رہ جانا اسکے ہاتھ کا کام ہے،یہ تو اللہ کا فیصلہ ہے بچے عطا کرنا اور نہ کرنا پھر آپ کون ہوتے ہو اسے دھمکیاں دینے والے،آپ کون ہوتے ہو اسے بچے نہ ہونے پر طلاق دینے والے،آپ کون ہوتے ہو اس سے اس بات کا مطالبہ کرنے والے کہ بچے کیوں نہیں ہو رہے تیرے، جب نص اس بات پر ثابت ہے کہ اللہ جسے چاہتا بانجھ رکھتا ہے،جسے چاہتا اولاد عطا فرماتا ہے،یا آپ تقدیر کو اپنے ہاتھ میں سمجھتے ہو،یا مشیت الٰہی کو اپنے مطابق چلانا چاہتے ہو، یا آپ شریعت کو اپنی باپ کی ملکیت سمجھتے ہو، یا آپ شریعت کو اپنی مرضی کی مالک سمجھتے ہو، یا کسی کی بہن بیٹی کو کسی کھیت کی کھیتی سمجھ لیا ہے، جب چاہو کاٹ لو، یا جیسا تم چاہو ویسا ہونا ضروری ہے،اگر کسی بہن کسی بیٹی کو اس بات پر طلاق دی ہے کہ اس کے بچے نہیں ہو رہے ہیں، یاد رکھنا یہ خدائے وحدہ لا شریک کی شریعت کو کھلا چیلینج ہے،اور یہ طریقہ کسی یہودی مجوسی، عسائی سے کم نہیں، بس فرق اتنا ہے کہ وہ خدا کو ڈائریکٹ کہتے ہیں تم نے عورت کو آڑ بنا لیا ہے، آخر کیوں مجھے بتاؤ نہ آپ کیوں اسے طلاق دیں گے،کیوں اس سے بچوں کا مطالبہ کریں گے،یہ اس کے ہاتھ میں ہے جب چاہے حمل روک لے اور بچہ جن دے، اور جب چاہے حمل نہ روکے،کیا اس کے اختیار میں ہے حمل ٹھہر جائے تو وہ صحیح ہو سالم ہی رہے،اسکو استحکام دینے والی ذات میرے رب کی ذات ہے،پھر آپ کون ہو اسے تعنہ و تشنیع کرنے والے،یاد رکھو یہ فعل خدائے وحدہ لا شریک کے غضب کا کھلا سبب ہے،یاد رکھنا پروردگار کو کسی کی نکیل کھیچنے میں زیادہ ٹائم نہیں لگتا، خدارا ڈریں🙏🏻*تم نے اسے بانجھ کیوں کہا؟* تم نے اس کے وجود کو ناکامی کی مہر کیوں بنا دیا؟ کیا یہ تمہارے باپ کی سلطنت ہے کہ جس عورت کے چاہو بچے پیدا کراؤ اور جب چاہو اسے ناکارہ کہہ کر نکال دو؟ کیا تم نے کبھی خود سے یہ سوال کیا کہ بہت سے مرد حضرات ایسے ہیں جو ہر اعتبار سے صحیح ہیں، رپورٹ کرائی جاتی ہے کچھ کمی نہیں آتی، یہی حال انکی بیویوں کا بھی ہے، لیکن پھر بھی بچے نہیں، ان کے آنگن میں کوئی پھول نہیں کھلا، اور دوسری بات یہ ہے کہ کمی ہمیشہ عورت میں ہی کیوں تلاش کی جاتی ہے؟ کیا مرد ہر حال میں مکمل ہی ہوتا ہے؟ کیا اللہ نے کہیں یہ لکھ دیا ہے کہ اگر اولاد نہ ہو تو عورت ہی مجرمہ ہوگی؟یہ ایک تلخ حقیقت ہے جسے ماننے سے تم بھاگتے ہو،اور حقیقی بات یہ ہے کہ آپ اللہ کے فیصلے پر راضی نہیں اگر اسے بانجھ ہونے یا طلاق دینے یا خلع کا مطالبہ کیا جاتا ہے،یا اسے اس کے باپ کے گھر بھیجنے کی بات کی جاتی ہے۔ یاد رکھو کہ کبھی کمی عورت میں ہوتی ہے اور کبھی کمی مرد میں ہوتی ہے، کبھی مرد کے اندر وہ صلاحیت ہی نہیں ہوتی جس سے اولاد کا وجود ممکن ہو، مگر تم نے کبھی اس پہلو پر بات نہیں کی، کیونکہ خود کو کٹہرے میں کھڑا کرنا مشکل ہوتا ہے اور عورت کو قربانی کا بکرا بنانا آسان، اسی لیے تم نے اسے اس جرم میں طلاق دی جس پر اس کا کوئی اختیار ہی نہیں تھا،یہ فیصلہ نہیں تمہاری حماقت کی وہ بد صورت تصویر ہے جو تمہارے والدین کی ذات پر ایک خوبصورت انگلی اٹھائی ہوئی نظر آتی ہے، تم نے اسے اس فیصلے کی سزا دی جو آسمان میں ہوا تھا، زمین پر نہیں اپنی انا کی بھینٹ چڑھا دیا،جب فیصلہ قرآن کریم سے ہو گیا تو کوئی جواز نہیں رہتا اس سے بچے کے مطالبات کرنے کا،اور منہ بگاڑنے کا یہ اس بیوی انحراف نہیں بلکہ یہ حکم خدا کا دھندھلے الفاظ میں انکار ہے۔ذرا انبیاء کرام علیہم السلام کی زندگیوں کو یاد کرو، حضرت زکریا علیہ السلام برسوں اولاد سے محروم رہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بڑھاپے میں اولاد ملی، کیا وہ ناکام تھے؟ کیا وہ کمزور تھے؟نہیں بلکل نہیں بلکہ یہ سب اللہ کی آزمائش تھی، جب انبیاء کے گھروں میں یہ آزمائش آ سکتی ہے تو تم کس زعم میں عورت کو مجرم ٹھہراتے ہو؟ اصل جرم اولاد کا نہ ہونا نہیں، اصل جرم اللہ کے فیصلے پر اعتراض کرنا ہے، عورت کو طعنوں میں مارنا ہے، اس کے دل کو توڑنا ہے اور اس کے رب سے اس کا رشتہ کمزور کرنا ہے،اور ایک ایسی حقیقت سے اجتناب ہے جس سے کوئی مسلم نہیں بچ سکتا،اور قیامت تک نہیں بچ سکتا،میرے رب تدابیر بہت اعلٰی ہیں،وہ ایک دن تمہیں اسکی وجہ بھی بیان کر دے گا اس نے تمہیں اولاد کیوں نہیں دی،اور اولاد کیوں دی،لیکن مسلمان کا بہترین سرمایہ یہی ہے کہ وہ اللہ کے فیصلوں پر راضی ہو جائے۔
یاد رکھو، تمام عمر کا خالق حساب مانگے گا،اور اسکا انداز کچھ یوں ہوگا کہ بقہر و جبر و عتاب و شتاب مانگے گا، ابھی سے خود کو بنا لو جواب کے قابل، وہ ہر سوال کا تم سے جواب مانگے گا، اولاد نعمت ہے اور نعمت کا نہ ملنا بھی امتحان ہے، اور امتحان میں عورت کو نہیں بلکہ اپنے ایمان کو پاس کرنا ہوتا ہے۔
اللہ کریم ہمیں اپنے فیصلوں پر راضی رہنے، عورت کو الزام نہیں بلکہ عزت دینے، اور آزمائش میں صبر و شکر اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین بجاہ النبی الکریم ﷺ۔*✍️متعلم الجامعۃ الاشرفیہ✍️*