اگر دل بوجھل ہے تو یہ تحریر آپ کے لیے
✒️مفتی محمد تسلیم الدین المحمودی
کون کیسے آرہا ہے — رب کس کو دیکھتا ہے؟
وہ رب بندے کے قدموں کی گرد نہیں گنتا، وہ دلوں کی سمت دیکھتا ہے۔
وہ یہ نہیں پوچھتا کہ کون کیسے آرہا ہے؛ وہ یہ دیکھتا ہے کہ میرا کون میری طرف آرہا ہے۔
جو اس کی دہلیز پر ندامت کی ایک سانس لے کر آ جائے، وہ اس کے لیے اجنبی نہیں رہتا۔ جو ٹوٹے دل کے ساتھ پلٹ آئے، وہ اس کے دربار میں بے وقعت نہیں ہوتا۔ وہ رب نسبتوں، رنگوں، عمروں اور رتبوں کے خانوں میں بند نہیں کرتا—وہ نیت کی سچائی تولتا ہے۔
وہ کہتا ہے: آ جاؤ۔
تم چل کر آؤ، میں دوڑ کر آتا ہوں—یہ بات حدیثِ قدسی کے مفہوم میں آتی ہے کہ بندہ جس قدر اخلاص کے ساتھ قدم بڑھاتا ہے، رب اس سے بڑھ کر قرب عطا فرماتا ہے۔ یہاں حساب نہیں، کرم ہے؛ یہاں ماضی کے بوجھ نہیں، حال کی توبہ ہے؛ یہاں سوال یہ نہیں کہ کہاں سے آ رہے ہو، سوال یہ ہے کہ کس کے پاس آ رہے ہو۔
کچھ لوگ مے خانے کی دہلیز سے لوٹتے ہیں، کچھ کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوتے ہیں؛ مگر رب کے ہاں اصل پہچان یہ نہیں کہ پاؤں کہاں رکے تھے، اصل پہچان یہ ہے کہ دل کہاں جھکا۔ کوئی درد میں آتا ہے، کوئی شکر میں؛ کوئی رنج میں فریاد لے کر، کوئی شکوہ دل میں لیے—وہ سب کو ایک ہی نگاہِ رحمت سے دیکھتا ہے۔ اس کی مہمان نوازی بے مثال ہے؛ وہ دروازے پر یہ نہیں کہتا کہ کیوں آئے ہو؟ وہ منہ نہیں پھیرتا، وہ دھتکار نہیں کرتا۔ وہ یہ نہیں کہتا کہ نافرمانی کی تھی، اب رشتہ ختم—ہرگز نہیں۔ وہ کہتا ہے: اچھا، آ گئے ہو؟ آ جاؤ۔
آج کا زمانہ شور کا ہے۔ اسکرینیں بھری ہیں، دل خالی ہیں۔ رفتار بہت ہے، سمت کم ہے۔ ہم کامیابی کی تعریفیں بدلتے رہتے ہیں مگر سکون کی تعریف بھول جاتے ہیں۔ ایسے میں رب کی طرف لوٹنا کمزوری نہیں، اصل طاقت ہے۔ توبہ پیچھے ہٹنا نہیں، آگے بڑھنا ہے۔ مانگنا ذلت نہیں، عزت ہے—کیونکہ مانگنا اسی سے ہے جو دیتا ہے۔
نصیحت یہی ہے کہ:
دل کی سچائی کو ترجیح دو؛ دکھاوے کی عبادت سے بہتر ایک سچی آہ۔
امید مت چھوڑو؛ مایوسی رحمت کے دروازے بند نہیں کرتی، بندہ خود بند کر لیتا ہے۔
لوگوں کے ساتھ نرمی رکھو؛ جس رب سے رحمت چاہتے ہو، اس کی مخلوق پر بھی رحمت کرو۔
آج کو غنیمت جانو؛ توبہ کل پر چھوڑنا سب سے بڑا خسارہ ہے۔
دعا کو معمول بناؤ؛ الفاظ کم ہوں تو بھی دل حاضر ہو۔
تو پھر دیر کس بات کی؟
ہمیں جلد از جلد اپنے رب کی طرف دوڑنا چاہیے—اس یقین کے ساتھ کہ وہ غفور بھی ہے اور رحیم بھی۔ ایک بار سچے دل سے مانگ کر تو دیکھو، ایک بار خلوص سے اس کے ہو کر تو دیکھو؛ وہ دلوں کے زخموں پر مرہم رکھ دیتا ہے، بکھرے رشتوں میں معنی بھر دیتا ہے، اور جو دنیا ہمیں سخت لگتی ہے—اسی دنیا کو ہمارے لیے آسان کر دیتا ہے۔
آ جاؤ۔ دروازہ کھلا ہے۔