"ابو عبیدہ: نقابِ استقامت کی آواز"
30 دسمبر، 2025
ابو عبیدہ شہید معاصر فلسطینی جہاد و مزاحمت کی ایک دلیر اور باوقار علامت کا نام ہیں، جنہوں نے اپنی گمنامی، عزم و ثبات اور میڈیا کے محاذ پر غیر معمولی کردار کے ذریعے پوری امتِ مسلمہ کے دل میں جگہ بنائی۔
تعارف و پس منظر۔۔
ابو عبیدہ حماس کے عسکری ونگ کتائب عزالدین القسام کے ترجمان اور مجاہد کمانڈر تھے، جو اپنے جنگی نام ’’ابو عبیدہ‘‘ سے پوری دنیا میں معروف ہوئے۔
مختلف معتبر رپورٹس اور القسام بریگیڈ کے اعلان کے مطابق ان کا اصل نام حذیفہ سمیر عبداللہ الکحلوت تھا اور وہ غزہ، فلسطین کے رہنے والے تھے۔مزاحمت کا چہرہ برسوں تک سرخ رومال، نقاب اور بھرپور، پرجوش لہجے والی تقاریر کے سبب وہ فلسطینی مزاحمت کی میڈیا آواز اور استقامت کی عملی تصویر بن گئے۔اسرائیلی جارحیت، محاصرے اور بارودی بمباری کے سائے میں بھی وہ ہر خطاب میں امت کو صبر، جہاد، وحدت اور قبلۂ اوّل کی آزادی کی یاد دہانی کرواتے رہے۔شہادت اور اس کا اثر
30 اگست 2025 کو اسرائیلی فضائی حملے میں ان کی شہادت کی خبریں سامنے آئیں، بعد میں القسام بریگیڈ، حماس اور مختلف ذرائع ابلاغ نے ان کی شہادت کی باضابطہ تصدیق کی۔القسام کے نئے ترجمان کے بیان کے مطابق ابو عبیدہ نے اپنی پوری زندگی قدس کی آزادی، مظلوم فلسطینیوں کے دفاع اور راہِ مزاحمت کو مضبوط کرنے کے لیے وقف کر دی تھی، اور ان کی شہادت کو مزاحمت کے لیے روحانی و تزویراتی سرمایہ قرار دیا گیا۔
شخصیت کی نمایاں خصوصیات ۔
گمنامی، رازداری اور اخلاص ان کی زندگی کی بڑی خصوصیات تھیں؛ برسوں تک دشمن خفیہ ایجنسیاں ان کی اصل شناخت تک کو نہ پہنچ سکیں اور وہ ایک ’’نقاب پوش‘‘، مگر پرعزم قائد کے طور پر ہی جانے جاتے رہے۔ان کے بیانات میں قرآن و سنت کے حوالوں، امت کے زخمی شعور اور عزتِ نفس کو بیدار کرنے والے کلمات کا غلبہ رہتا، جس سے دور دور تک نوجوانوں کے اندر غیرتِ ایمانی اور جہادی شعور پیدا ہوا۔