تبصرہ بر کتاب📖 :علماء دیوبند کا دینی رخ اور مسلکی مزاج 
مصنف: حکیم الاسلام حضرت مولانا وقاری محمد طیب صاحب رحمۃ اللہ علیہ 
محشی : حضرت مولانا ومفتی عمران اللہ صاحب زید مجدہم
صفحات: ٢٦٧

✍🏻مبصر: گل رضاراہی ارریاوی 
 
علماء دیوبند وہ مقدس ہستی ہے ،جس نے ہندوستان ہی نہیں بلکہ عالمی سطح پر احیاء دین وسنت کا فریضہ انجام دیا ہے ، ان کی زبان وقلم سے نکلنے والی شعائیں پورے عالم اسلام کو روشن و منور کرنے کا ذریعہ بنی ہے، ان کےفیض یافتگان خلوص وللہیت ،صداقت وامانت ،نیابت وامامت کے عظیم منصب پر فائز ہوکر دین کی روشن خدمات انجام دی،انہوں نے ہمیشہ سے ملک وملت کے ساتھ وفاداری کی ہے اور کررہی ہے -

آج بھی ان کی جد وجہد اور ملک وملت کی خاطر دی گئی قربانیاں روز روشن کی طرح عیاں ہے اور سبھی کےلیے مشعل راہ ہے-

ان کی زندگی کا ہر باب عفت وپاکیزگی ،علم وعمل، تقوی و طہارت،ذکر وفکر،شعور وفہم کی بالیدگی ، تواضع وسادگی احسان و سلوک ، پارسائی اور خدا ترسی سے لبریز ہے -
یہ؛ وہ جماعت ہے جو اپنے منہج ومسلک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اس کے مقدس صحابۂ کرام ، تابعین، تبع تابعین اوراپنے اسلاف و اکابر کو رہنما ،پیشوا اور معلم کتاب مانتی ہے ،جو طریقہ آپ علیہ السلام اور صحابہ کرام سے متوارث چلاآرہاہے اس پر گامزن ہی نہیں بلکہ اس کے محافظ ونگراں ہیں ،اور اسی نہج (ما أنا علیہ واصحابی) کےاختیار کرنے والوں کواہل السنت والجماعت کہاگیا، اس نہج کو مسلک اہل السنت والجماعت کانام دیاگیا، دنیا بھر میں امت مسلمہ کا سواد اعظم اسی مسلک اہل السنت والجماعت کے مطابق دین پر عامل رہے، برصغیر میں گرچہ دگر مسالک کے لوگ بھی ہیں مگر بڑی تعداد اسی نہج پر چل رہی ہے-
یہ مسلک صحابہ کرام ،تابعین عظام ،تبع تابعین ائمہ ،فقہا اور اولیاۓ کرام کے ذریعے ہندوستان پہونچا اور اس کے ترجمان حضرت شاہ ولی اللہ صاحب قرار پاۓ ،انہوں نے لوگوں کے سامنے ماأنا علیہ واصحابی کے نہج پر افراد تیار کیے ،ان کے شاگرد اس فکر کو یکے بعد دیگرے منتقل کرتے رہے حتی کہ علماء دیوبند نے اس نہج کی ترویج واشاعت میں اپنا مکمل کردار ادا کیا اور ایک آہنی دیوار ثابت ہوۓ -
ہر بدعات ورسومات کے خلاف کمر بستہ ہوکرمعاشرہ کی اصلاح کی ،رد بدعات وخرافات کی تحریک چلائی، مختلف شعبے جات قائم کیا-

الغرض!باطل پرستوں نےجب بھی سفینۂ اسلام میں رخنہ ڈالنے اور اس کی جڑوں کو کمزور کرنے کی کوشش کی تو علماء دیوبند کی مقدس جماعت نے اس کی مکاریوں اور خرافات کوعوام کے سامنے ظاہر کیا،ان کے عقائد ونظریات پر گمراہی کی مہر لگائی-
ان سب تفصیلات کے بعد کسی اور وضاحت کی ضرورت نہیں -
لیکن ؛جب کچھ فرقوں کی جانب سے ان مقدس ہستی پر تکفیر کا الزام عائد کیا گیا 
 بعض افراط والے فرقوں (بریلوی روافض)نے علماء دیوبند پر تفریط کا الزام لگایاحتی کہ گستاخ رسول اہل بیت تک قرار دے دیا -
بعض تفریط والے فرقوں (اہل حدیث)نے ان پر افراط کا الزام عائد کیا کہ یہ لوگ شخصیت پرستی میں مبتلاء ہیں ،قرآن وحدیث کی تشریح وتوضیح میں یہ اپنے اسلاف کی مقلد ہیں جو کہ ہےشرک ہے -

ان سب باتوں سے عوام میں شک و شبہ پیدا ہونے لگا کہ آخر علماء دیوبند کا نظریہ کیا ہے ،کیا یہ دیگر فرقوں کی طرح کوئی نیا فرقہ تو نہیں -لہذااب یہ ایک مستقل ضرورت بن گئی کہ علماء دیوبند اپنے مسلک ومشرب کی صراحت و وضاحت کرے ،ان کے الزامات کاجواب دے اور عوام کے شکوک وشبہات کا تصفیہ کرے-

اسی کے پیش نظر حکیم الاسلام حضرت مولانا وقاری محمد طیب صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی ضرورت محسوس کی اور انہوں نے اس موضوع پر اپنےزبان و قلم کو حرکت دی ، مختلف مواقع پر کچھ نہ کچھ لکھتےاور بیان کرتے رہے اور شائع کرواتے رہے مگر علماء دیوبند کے نظریات کا تذکرہ مستقل عنوان نہیں ہوتاتھا بلکہ وہ ضمنا آتاتھا جو سمجھنے کے لیے نا کافی تھا 
اس کی ضرورتوں کے سامنے رکھ حضرت رح نے شرح وبسط کے ساتھ اس کو لکھا پراپنے پیرانہ سالی وضعیف العمری اور علالت کے سبب شائع نہ کرواسکے حتی کہ قاری صاحب رخصت ہوگیے، پھر بعد میں جب یہ کتاب منظر عام پہ آئی تو بہت مقبول ہوئی،
لوگوں نے اس کو ہاتھوں ہاتھ قبول کیا اس طرح یہ کتاب حضرت قاری صاحب رح یہ آخری تصنیف ثابت ہوئی 
اس کے پرانے ایڈیشن میں عبارت گنجلک تھی تو پڑھنے میں دقت پیش آرہی تھی ،شیخ الہند اکیڈمی کے ذمہ دار نے اس پہ کام کیا ،عبارت میں آنے والے مشکل الفاظ کے معنی بیان کیےاور اسی طرح عبارت پر حاشیہ لگا کر کتاب کو آسان کردیا-
اس کتاب میں یہود ونصاریٰ کی گمراہیوں کو نمبر وار بیان کیاگیا کہ کس طرح وہ معلم کتاب کے بغیر کتاب سمجھنے کی بےجا کوشش سے گمراہ ہوۓ-
خدا کے سلسلے میں ابن اللہ اور وحدت کے شرکت کے قائل ہوۓ 
پھر انہوں نے اپنی مرضی کے مطابق تورات وانجیل کے تشریح کرکے اس کو محرف بنادیا اور اس کی اصل روح کو ختم کردیا-

قاری صاحب رح نےقرآنی آیات کی روشنی میں کتاب اور معلم کتاب دنوں کی اہمیت کو اجاگر کیا -
تزکیۂ قلوب اور تصفیۂ قلوب کےلیے معلم اور کتاب دونوں کو لازم و ملزوم قرار دیا -
پھر مسلک اہل السنت والجماعت کی تحقیق فرمائی، سنت وجماعت دونوں جزئیات پر شرح صدر کے ساتھ گفتگو فرمائی ،
پھر مسلک اہل السنت والجماعت دیوبند کے عقائد ونظریات کو اسی کو روشنی میں بتایا اور دلائل کے ساتھ اس کے اعتدال کو ثابت کیا ،پھر دیگر مسالک کے گمراہ ہونے اسباب وعلل کو بیان کیا -
اس طرح یہ کتاب نہایت اہمیت کے حامل بن گئی ،اس کتاب کو پڑھنے کے بعد دل تمام خدشات سے مطمئن ہو جاتا ہے
یہ کتاب اپنے موضوع پر بےنظیر وبےمثال ہے-

احباب کو اس کتاب کا ایک مرتبہ ضرورمطالعہ کرنا چاہیے -

اللہ تعالیٰ حضرت مولانا وقاری محمد طیب صاحب رح کوجنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے ،اس بہتر سے بہتر بنانے والے حضرت محشی صاحب اور ان کے معاونین کو جزائے خیر عطا فرمائے آمین