ہمارے معاشرے کی کھلی حقیقت ہے کہ کسی بھی شخص کی قدردانی اس کی حیات میں نہیں کر پاتے ، جب وہ انتقال کر جاتا ہے تو پھر اس کے گن گاتے رہتے ہیں ،اس کی شان میں تعریفوں کے قلابے باندھتے ہیں ،تعزیتی مجالس کا انعقاد کرتے ہیں اور اس کی یاد میں سر پیٹتے رہتے ہیں۔

  ہر چند دن بعد کوئی خبر ملتی ہے کہ فلاں شخصیت کا انتقال ہو گیا ،پھر اس کے معاً بعد ہی ان کی شان میں کہیں مرثیے پڑھے جا رہے ہیں تو کہیں ان کی یاد میں محفلیں جمائی جا رہی ہیں ، کہیں تحاریر کے ذریعہ ان کے علم وعمل کی داستانیں نشر ہو رہی ہیں تو کہیں تعزیتی جلسوں میں ان کو خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے ،مجھے ان چیزوں پر کوئی اعتراض نہیں ،یہ سب چیزیں لائقِ تعریف اور قابلِ ستائش ہیں ،یہ ہونی چاہئیں اور خوب ہونی چاہئیں مگر ان سب سے اہم یہ ہے کہ اس شخصیت کی حیات میں اس سے فائدہ اٹھایا جاۓ ،اس کے علمی فیض سے منتفع ہوں ،اس کی عملی زندگی کو اپنے لۓ نمونہ سمجھیں ،اس کے وجودِ مسعود کو اپنے لۓ غنیمت جانیں ،اس کے باطنی فیض سے لطف اندوز ہوں۔


     ہاں یہ صحیح ہے کہ جیتے جی کسی کو بھی حرفِ آخر قرار نہیں دیا جا سکتا ،خواہ وہ وقت کا علامہ ہو یا فہامہ ،علم وعمل کا بادشاہ ہو یا تصوف وطریقت کا شہنشاہ ،غرض کسی پر بھی حتمی وقطعی طور پر جنتی ودائمی نجات کا حکم نہیں لگایا جا سکتا ،کیوں کہ اسلاف واکابر کی حیات وسوانح سے ہمیں کچھ ایسے افراد کا بھی پتہ چلتا ہے جو پوری زندگی علمِ دین اور شریعتِ محمدی سے حقیقی طور پر وابستہ رہے مگر آخری وقت کفر وشرک کی گھاٹی اور ذلت ورسوائی کی گڈھے میں جا گرے اور ہمیشہ ہمیش کے لۓ نامراد وناکام ٹھہرے۔

     

     زیادہ دور نہیں ہمارے اس دور میں بھی ایسے لوگ آپ کو مل جائیں گے کہ ایک وقت میں ان کے علم وعمل سے لوگ فیضیاب ہوتے تھے،ان کی خطابت کا عالم میں طوطی بولتا تھا ، ہزاروں مداح ان کی تعریف میں ہمہ وقت رطب اللسان رہتے تھے ،مگر ان پر خدا کا غضب اور قہرِ خداوندی نازل ہوا اور پھر ان سے استفادہ تو درکنار خود ان پر اہل السنت والجماعت سے خروج کے فتوے صادر ہونے لگے ، اس کی مخالف جہت کی بھی سینکڑوں مثالوں سے کتابیں بھری پڑی ہیں کہ پوری زندگی کفر وشرک اور خرافات وبدعات میں بسر کر دی مگر آخری وقت میں رب العزت والجلال نے کلمۂ طیبہ اور شریعتِ محمدی سے حقیقی رشتہ جوڑ دیا : 

صبح کے تخت نشیں شام کو مجرم ٹھہرے

ہم نے پل بھر میں نصیبوں کو بدلتے دیکھا 

  

    لھذا شخصیات کی قدر کرنی چاہیئے ،علماء کے مراتب کو پہچاننا چاہیے ،اہلِ علم وعمل حضرات سے محبت رکھنی چاہئے ،ان کی صحبتوں سے فیض یاب ہونا چاہیے ،ان کی خدمت کو سعادت سمجھنا چاہیے ،ان کے وجودِ مسعود کو عطیۂ خداوندی تصور کرنا چاہئے ، مگر یہ سب ادب واحترام اور عقیدت ومحبت فقط اس وقت تک ہیں جب تک وہ دینِ اسلام کی صحیح ترجمانی کریں ،قرآنِ کریم کی ٹھیک ٹھیک تفسیر وتوضیح کریں ،احدیثِ شریفہ کی منشاء نبوی کے مطابق ترجمہ وتشریح کریں ،صحابۂ کرام (رضوان اللہ علیہم اجمعین) جو معیارِ ایمان ہیں ان کے تقدس وطہارت کو دل کے نہاں خانوں میں رکھیں اور امت کے جمیع اسلاف واکابر کا ادب واحترام ملحوظ رکھیں ،اگر وہ اس سے الگ راہ اختیار کریں تو پھر ایسے تمامی حضرات سے ہم بھی علی الأعلان براءت کا اظہار کرتے ہیں۔


تحریر : عبد اللہ یوسف

٢٤/ربیع الأول ١٤٤٧ھ

15/ستمبر 2025

بہ شبِ پیر