ایک سانس کا فاصلہ: زندگی، موت اور مقصدِ حیات
✒️مفتی محمد تسلیم الدین المحمودی
یہ جملہ زندگی کے سب سے گہرے اور یقینی حق کو بیان کرتا ہے: انسان اور موت کے درمیان واقعی ایک سانس کا فاصلہ ہے۔ نہ اس سانس کی آمد یقینی ہے، نہ اس کے بعد کا لمحہ۔ اسی حقیقت کو سامنے رکھ کر اگر انسان اپنی زندگی کا مقصد طے کر لے تو آخری سانس کا ذائقہ کڑوا نہیں رہتا بلکہ اطمینان، سکون اور امید میں بدل جاتا ہے۔
زندگی کی ناپائیداری اور آخری سانس کی حقیقت
انسان عموماً زندگی کو طویل منصوبوں، خواہشوں اور دنیاوی کامیابیوں میں ناپتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ زندگی کی ڈور ایک سانس سے بندھی ہوئی ہے۔ یہی سانس کبھی رخصت کا پیغام بن جاتا ہے۔ قرآن ہمیں بار بار یاد دلاتا ہے کہ ہر جان کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ اگلا لمحہ اس کے حصے میں ہے یا نہیں۔
یہ شعور انسان کو غفلت سے نکال کر ذمہ داری کی طرف لاتا ہے۔
آخری سانس کا کڑواہٹ کیوں محسوس ہوتی ہے؟
آخری سانس اس لیے کڑوا محسوس ہوتا ہے کہ انسان پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے تو اسے ادھورے فرائض، ضائع شدہ مواقع، توڑے ہوئے دل اور کی گئی کوتاہیاں نظر آتی ہیں۔
جب زندگی صرف اپنی ذات، خواہش اور فائدے کے گرد گھومتی رہے تو موت کا سامنا خوف اور حسرت کے ساتھ ہوتا ہے۔
آخری سانس کو میٹھا بنانے کا راستہ
اس جملے کا اصل پیغام یہی ہے کہ آخری سانس کو میٹھا بنانے کا واحد راستہ یہ ہے کہ اس سے پہلے کے تمام سانس اللہ کی اطاعت اور اس کی مخلوق کی خدمت میں صرف ہوں۔
1. اللہ کی اطاعت
اللہ کی اطاعت صرف عبادات تک محدود نہیں، بلکہ نیت کی درستگی، حلال و حرام کا لحاظ، انصاف، سچائی اور امانت داری بھی اسی کا حصہ ہیں۔
جب انسان اپنے رب سے جڑا رہتا ہے تو اسے زندگی کا مقصد واضح نظر آتا ہے، اور موت واپسی بن جاتی ہے، انجام نہیں۔
2. مخلوقِ خدا کی زندگیوں سے کڑواہٹ دور کرنا
کسی کا بوجھ ہلکا کرنا، کسی کا دل نہ توڑنا، کسی کے زخم پر مرہم رکھ دینا، کسی کی ضرورت میں کام آ جانا — یہ سب وہ اعمال ہیں جو انسان کی زندگی کو بامعنی بناتے ہیں۔
اللہ کی مخلوق کے لیے آسانی پیدا کرنا دراصل اپنی آخرت کو آسان بنانا ہے۔
سانس سانس کا حساب
اگر انسان یہ سوچ لے کہ:
یہ سانس شاید آخری ہو
یہ ملاقات شاید آخری ہو
یہ موقع شاید دوبارہ نہ ملے
تو اس کا لہجہ نرم ہو جاتا ہے، اس کا رویہ بدل جاتا ہے، اس کے فیصلے محتاط ہو جاتے ہیں۔
وہ نفرت کے بجائے خیر، انتقام کے بجائے معافی اور خود غرضی کے بجائے ایثار کو ترجیح دینے لگتا ہے۔
جب انسان اپنی زندگی کو اللہ کی رضا کے لیے اور بندوں کے نفع کے لیے وقف کر دیتا ہے تو موت اچانک حملہ نہیں رہتی بلکہ ایک پُرسکون ملاقات بن جاتی ہے۔
ایسی زندگی کے بعد آنے والی آخری سانس کڑوی نہیں ہوتی، کیونکہ اس کے پیچھے حسرتوں کا بوجھ نہیں بلکہ اطمینان کا نور ہوتا ہے۔
زندگی کی کامیابی لمبی عمر میں نہیں، بلکہ درست استعمال شدہ سانسوں میں ہے۔
جو شخص اپنے ہر سانس کو اطاعتِ الٰہی اور خدمتِ خلق میں لگا دیتا ہے، اس کے لیے آخری سانس انجام نہیں بلکہ کامیابی کی مہر بن جاتی ہے۔