وہ روزانہ صبح وقت پر جاگتا تھا،
آئینہ دیکھتا تھا، بال سنوارتا تھا،
دفتر جاتا تھا، ہنستا تھا،
اور رات کو تھک کر سو جاتا تھا۔
لوگ کہتے تھے:
“ماشاءاللہ! بڑا سیٹ آدمی ہے۔”
مگر سچ یہ تھا کہ
وہ کئی سال پہلے مر چکا تھا۔
نہ اس کے دل میں دعا باقی تھی،
نہ آنکھوں میں شرم،
نہ زبان پر سچ،
نہ وقت پر کوئی سوال۔
وہ ہنستا تھا،
مگر دل نہیں ہنستا تھا۔
وہ بولتا تھا،
مگر ضمیر خاموش تھا۔
ایک دن وہ جنازے میں گیا۔
لوگ رو رہے تھے،
کوئی کہہ رہا تھا:
“کتنا نیک آدمی تھا!”
اچانک اسے لگا
یہ جملہ اس کے لیے بھی کہا جا سکتا ہے
اور کوئی فرق محسوس نہ ہوگا۔
وہ کانپ اٹھا۔
اسے احساس ہوا
کہ اصل موت قبر میں نہیں آتی،
اصل موت تو
ضمیر کے سو جانے سے آتی ہے۔
اور سب سے عجیب بات؟
لوگ زندہ لاشوں کو دیکھتے ہیں
مگر دفن صرف مرنے والوں کو کرتے ہیں۔