غصہ دنیا و آخرت کی بربادی کا سبب

✍🏻از محمد عادل ارریاوی 
_______________________________
محترم قارئین غصہ انسان کی فطری کمزوری ہے لیکن اس پر قابو پانا ایک عظیم خوبی ہے جو انسان کی شخصیت کو نکھارتی ہے غصہ انسان کی فطری جذبات میں سے ایک ہے مگر جب یہ حد سے بڑھ جائے تو عقل پر پردہ ڈال دیتا ہے اور انسان کو نقصان دہ فیصلوں کی طرف لے جاتا ہے غصے کی حالت میں کہے گئے الفاظ اور کیے گئے اعمال اکثر بعد میں پچھتاوے کا سبب بنتے ہیں اسی لیے کہا جاتا ہے کہ غصے پر قابو پانا اصل بہادری ہے کیونکہ یہ انسان کے اخلاق و کردار اور ذہنی سکون کو محفوظ رکھتا ہے اللہ ربّ العزت نے انسان میں فطرتا غصہ رکھا ہے جب اس کی مرضی اور مزاج کے خلاف کوئی بات پیش آتی ہے تو اس میں غصے کی آگ بھڑک اٹھتی ہے جس کی وجہ سے وہ طیش میں آجاتا ہے اس کی رگیں پھول جاتی ہیں چہرہ اور آنکھیں سرخ ہو جاتی ہیں اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس کے ہاتھ پاؤں کانپنے اور زبان لڑکھڑانے لگتی ہے ایسے وقت میں اس کی دماغی حالت اپنی حالت پر باقی نہیں رہتی یہی وہ وقت ہوتا ہے جب وہ ایسے فیصلے کرتا ہے جن کی وجہ سے اس کا مستقبل برباد ہو جاتا ہے گھر بار بیوی بچے اور دوست احباب سب اس سے بچھڑ جاتے ہیں خونی رشتوں کا تقدس پامال ہوتا ہے اس کے ساتھ ساتھ اسے جسمانی طور پر بھی نقصان ہوتا ہے کئی بیماریاں اسے لگ جاتی ہیں بلڈ پریشر معدے کا السر دائمی سر درد ذہنی دباؤ فالج اور بعض مرتبہ ہارٹ اٹیک تک نوبت پہنچ جاتی ہے قوت مدافعت کمزور ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے بیماریوں سے جان نہیں چھوٹتی اس کے معاشرتی نقصانات بھی بہت زیادہ ہیں غصیلا انسان کسی محفل میں جانے کے قابل نہیں رہتا لوگوں کی نظر میں گر جاتا ہے سماجی اور اخلاقی طور پر ایسا انسان قابل نفرت اور قابل ملامت قرار دیا جاتا ہے اور مال و دولت زمین جائیداد اور کاروبار وغیرہ سب تباہ ہو جاتا ہے۔
جس قدر غصہ بڑھتا جاتا ہے اسی قدر اس کو معاشرے سے تنہا کرتا جاتا ہے یہاں تک کہ بہت سارے باصلاحیت نوجوان اسی غصے پر قابو نہ پانے کی وجہ سے عظیم دینی خدمات سے محروم ہو جاتے ہیں اور باعزت مقام سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں غصے کے بے قابو ہونے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جیسے جلد بازی عدم برداشت تھکن ذہنی دباؤ یا دوسروں سے غیر ضروری توقعات جب انسان ہر بات کو اپنی انا کا مسئلہ بنا لیتا ہے تو چھوٹی چھوٹی باتیں بھی بڑے جھگڑوں میں بدل جاتی ہیں اس کے برعکس صبر اور برداشت اپنانے والا شخص نہ صرف دوسروں کے دل میں عزت پاتا ہے بلکہ خود بھی پرسکون زندگی گزارتا ہے۔ آپ نے کئی ایسے بوڑھے اپنی آنکھوں سے دیکھے ہوں گے جن کے غصیلے مزاج نے انہیں معاشرے سے کاٹ کر رکھ دیا ہے کئی قائدانہ صلاحیتوں کے مالک انسان ایسے ہیں جن کی تمام صلاحیتوں کو غصے نے دیمک کی طرح چاٹا اور آج وہ غلامانہ طرز زندگی گزار رہے ہیں ان کا حلقہ احباب سمٹ کر رہ گیا ہے
گویا غصہ محرومیوں اور ناکامیوں کا بنیادی سبب ہے اور یہ محرومی صرف دنیا تک محدود نہیں بلکہ آخرت کو بھی اپنے اندر لیے ہوئے ہے غصیلا انسان احکام اسلام اور حدود شریعت بھی پامال کرتا ہے اور خود کو جہنم کا ایندھن بناتا ہے اس لیے اسلامی تعلیمات میں غصے کو تمام برائیوں کی جڑ اور بنیاد قرار دے کر اس پر قابو پانے کا حکم دیا گیا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے
وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ سورة آل عمران آیت نمبر 134
ترجمہ اہل تقویٰ وہ ہیں جو غصے کو قابو میں رکھتے ہیں اور لوگوں کے ساتھ عفو و در گزر والا معاملہ رکھتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کو محبوب رکھتے ہیں۔
غصے پر قابو پانے کے لیے چند عملی طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں غصے کی حالت میں خاموشی اختیار کرنا گہری سانس لینا جگہ بدل لینا یا کچھ دیر کے لیے بات مؤخر کر دینا بہت مفید ثابت ہوتا ہے اس کے علاوہ مثبت سوچ دوسروں کی بات کو سمجھنے کی کوشش اور خود احتسابی انسان کو غصے سے بچاتی ہے اگر انسان یہ سوچ لے کہ غصہ مسئلے کا حل نہیں بلکہ مسئلے کو بڑھاتا ہے تو وہ خود بخود تحمل کا راستہ اختیار کرے گا۔
عَنْ أَبِي ذَرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَنَا إِذَا غَضِبَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ قَائِمٌ فَلْيَجْلِسُ فَإِنْ ذَهَبَ عَنْهُ الْغَضَبُ وَإِلَّا فَلْيَضْطَجِعُ (سنن ابی داؤد باب ما يقال عند الغضب حدیث نمبر 4784)
ترجمہ حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تمہیں غصہ آئے تو اگر کھڑے ہو تو بیٹھ جاؤ اس سے اگر غصہ ٹھنڈا ہو جائے تو ٹھیک ہے ورنہ لیٹ جاؤ۔
اہل عرب ایسے موقعوں پر ایک دوسرے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے کی تلقین کرتے ہیں جس کی وجہ سے اللہ کی رحمت متوجہ ہوتی ہے اور شیطانی اثرات زائل ہو جاتے ہیں اسی طرح پانی کے چند گھونٹ پی لینے سے بھی غصہ کم ہو جاتا ہے آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ غصے پر قابو پانا کامیاب اور خوشگوار زندگی کی کنجی ہے جو شخص اپنے غصے کو قابو میں رکھتا ہے وہ نہ صرف اپنے رشتوں کو مضبوط بناتا ہے بلکہ معاشرے میں بھی امن اور محبت کو فروغ دیتا ہے ہمیں چاہیے کہ صبر برداشت اور دانائی کو اپنا شعار بنائیں کیونکہ حقیقی طاقت غصے میں نہیں بلکہ اسے قابو میں رکھنے میں ہے۔
اللہ ربّ العزت ہم سب کو نرمی اختیار کرنے والا بنائے غصے اور اس کے انجام بد سے محفوظ فرمائے اللہ تعالیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے قیامت کے دن اپنے غصے سے محفوظ فرمائے آمین یارب العالمین ۔