سال 2025 کے اختتام پر: ایک خاموش محاسبہ، ایک روشن عزم
✒️ مفتی محمد تسلیم الدین المحمودی
وقت بڑی خاموشی سے گزرتا ہے، مگر پیچھے بہت کچھ چھوڑ جاتا ہے۔
سال 2025 بھی اسی طرح اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے۔ یہ سال محض دنوں اور مہینوں کا مجموعہ نہیں تھا، بلکہ آزمائشوں، تجربات، کوششوں، لغزشوں اور سیکھنے کے مواقع سے بھرا ہوا ایک مکمل مرحلہ تھا۔
اس سال جو کچھ بھی تعلیمی اور دینی سطح پر کرنے کی توفیق ملی، وہ اللہ تعالیٰ کا محض فضل تھا۔
جہاں تدریس، درس، مطالعہ، تحریر یا دعوت کے میدان میں قدم بڑھایا گیا، وہاں نیت یہی رہی کہ علم کو علم سمجھ کر، امانت سمجھ کر اور ذمہ داری سمجھ کر آگے بڑھایا جائے۔
یہ حقیقت بھی تسلیم کرنا ضروری ہے کہ
ہمیشہ معیار وہ نہیں رہا جو ہونا چاہیے تھا،
ہمیشہ تسلسل وہ نہیں رہا جو مطلوب تھا،
اور ہمیشہ اخلاص اس درجے کا نہیں رہا جس کا ہم دعویٰ کرتے ہیں۔
مگر اس کے باوجود اگر کسی ایک شخص کو بھی علم کی طرف رغبت ملی،
اگر کسی ایک دل میں بھی دین کے بارے میں سنجیدگی پیدا ہوئی،
اگر کسی ایک غلط فہمی کا ازالہ ہوا،
تو یہ سب اللہ کی طرف سے قبولیت کی ایک امید بن جاتی ہے۔
سال کے اختتام پر سب سے ضروری کام خود کو سچا آئینہ دکھانا ہے۔
یہ مانے بغیر آگے بڑھنا ممکن نہیں کہ:
وقت کا بڑا حصہ غیر ضروری امور میں ضائع ہوا
بعض مواقع پر خاموشی اختیار کی جہاں بولنا چاہیے تھا
اور بعض جگہ بول دیا جہاں حکمت خاموشی میں تھی
نیت اور عمل کے درمیان فاصلہ پیدا ہو گیا
نفس کی پسند کو کبھی کبھی حق کی ترجیح پر غالب آنے دیا گیا
یہ اعتراف کمزوری نہیں، بلکہ اصلاح کی پہلی سیڑھی ہے۔
نصیحت سب سے پہلے اپنے لیے
یہ سال یہ سکھا گیا کہ:
علم کے ساتھ حلم نہ ہو تو علم بوجھ بن جاتا ہے
حق اگر نرمی کے بغیر پیش ہو تو اثر کھو دیتا ہے
اختلاف اگر اخلاق سے خالی ہو تو دعوت نہیں، نفرت بن جاتا ہے
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ
عمل کے بغیر علم، محض الزام بن جاتا ہے
یہ نصیحت کسی اور کے لیے نہیں، سب سے پہلے اپنے لیے ہے۔
جو دوست واحباب اس سفر میں ساتھ رہے،
ان سب کے لیے یہی مشورہ ہے کہ:
نیت کو بار بار ٹٹولتے رہیں
شہرت اور مقبولیت کو کامیابی کا معیار نہ بنائیں
سچ بولیں، مگر پورا سچ، پورے ادب کے ساتھ
اور اختلاف کو دشمنی نہ بننے دیں
دین کے کام میں سب سے زیادہ ضرورت
اخلاق، صبر اور تسلسل کی ہے۔
اگر اس سال:
کسی کی دل آزاری ہوئی
کسی کے حق میں کوتاہی ہو گئی
کسی کے خلوص کو نظرانداز کیا گیا
یا کسی اختلاف میں سختی آ گئی
تو دل کی گہرائی سے معذرت ضروری ہے۔
اللہ کے دین کی خدمت
دل توڑ کر نہیں، دل جوڑ کر ہوتی ہے۔
نیا سال کوئی جادو نہیں،
لیکن نیا عزم ضرور ہو سکتا ہے۔
آئندہ سال کے لیے یہ عزم مصمم کی جائے کہ ان شاءاللہ العزیز علم کے ساتھ عمل کی نگرانی کی جائے گی
کم مگر مستقل کام کو ترجیح دی جائے گی
دعوت میں نرمی اور حکمت کو بنیاد بنایا جائے گا
اپنی اصلاح کو دوسروں کی اصلاح پر مقدم رکھا جائے گا
اور ہر کامیابی کو اللہ کی عطا سمجھ کر، ہر ناکامی کو اپنی اصلاح کا ذریعہ بنایا جائے گا
سال 2025 جاتے جاتے یہ سبق دے گیا کہ
ہم کامل نہیں، مگر بہتری کی گنجائش ہمیشہ باقی رہتی ہے۔
اگر نیت سچی ہو،
اگر اعتراف میں دیانت ہو،
اور اگر عزم میں پختگی ہو،
تو اللہ کی رحمت راستے کھول دیتی ہے۔
اللہ تعالیٰ
گزرے ہوئے سال کی کوتاہیوں کو معاف فرمائے،
قبولیت کے دروازے کھولے،
اور آنے والے سال کو
علم، عمل، اخلاص اور خیر کا سال بنائے۔
آمین۔